Chapter 1 of 1
پہلی دستک
ناول کا نام: سردِ دل کا حصار
قسط: 1
شاہ انڈسٹریز کی بائیس منزلہ عمارت کسی کانچ کے پہاڑ کی طرح شہر کے قلب میں ایستادہ تھی۔ صبح کے نو بجنے میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے، لیکن عمارت کے اندر کا ماحول کسی تھرتھراہٹ پیدا کرنے والی خاموشی کی لپیٹ میں تھا۔ استقبالیہ پر بیٹھی لڑکی نے بے چینی سے اپنا دوپٹہ درست کیا اور بار بار داہنی جانب موجود لفٹ کے ڈیجیٹل نمبروں کو دیکھنے لگی۔
ٹھیک نو بجے، سیاہ رنگ کی چمچماتی ہوئی بینٹلے (Bentley) بلڈنگ کے پورچ میں آ کر رکی۔ گارڈ نے اتنی پھرتی سے دروازہ کھولا جیسے اس کی اپنی سانس اس ایک لمحے پر منحصر ہو۔
سیاہ پالش شدہ جوتا جب ماربل کے فرش پر ٹکا، تو ایک مخصوص دھمک سنائی دی۔ زریاب شاہ باہر نکلا۔ دراز قد، چارکول گرے سوٹ میں ملبوس کسرتی جسم اور چہرے پر وہ سپاٹ تاثرات جو کسی سنگی مورت کی یاد دلاتے تھے۔ اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ایک سرسری نظر ڈالی اور بغیر سر اٹھائے لابی کی طرف بڑھا۔
"گڈ مارننگ، سر!" استقبالیہ پر موجود لڑکی کی آواز تھوڑی لرز گئی۔
زریاب نے نہ سر ہلایا، نہ ہی اس کی طرف دیکھا۔ اس کے قدم لفٹ کی طرف بڑھتے رہے۔ اس کے پیچھے اس کا سیکرٹری، فرحان، فائلیں سنبھالتے ہوئے تیز قدموں سے چل رہا تھا۔
"سر! آج نو بجے مارکیٹنگ کی رپورٹ ہے، دس بجے نئے پی-اے (PA) کے انٹرویوز ہیں اور۔۔۔"
"مارکیٹنگ کی میٹنگ منسوخ کر دو،" زریاب کی آواز گونجی— ٹھنڈی، کاٹ دار اور حکمرانہ۔ "انہیں کہو کہ جب تک گراف میں دو فیصد کا اضافہ نظر نہ آئے، وہ میری شکل نہ دیکھیں۔"
لفٹ کا دروازہ بند ہوا اور فرحان نے چپ چاپ سر جھکا لیا۔ زریاب شاہ کے لیے وقت صرف پیسہ تھا، اور وہ پیسہ ضائع کرنے والوں کو معاف نہیں کرتا تھا۔
شہر کے دوسری طرف، ایک تنگ گلی کے پرانے سے مکان میں شور و غل کا الگ ہی عالم تھا۔
"امی! میرا نیلا دوپٹہ کہاں ہے؟ مل نہیں رہا!" ہانیہ نے کمرے میں چکر لگاتے ہوئے پکارا۔
"وہیں کونے والی الماری کے اوپر دیکھو، وہیں ہوگا،" اس کی امی نے کچن سے آواز لگائی جہاں وہ پراٹھے سینک رہی تھیں۔
ہانیہ نے جلدی سے دوپٹہ پکڑا، پن لگائی اور آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ شوخ پیلا کرتا، سفید شلوار اور چہرے پر وہ بے ساختہ مسکراہٹ جو اس کی ساری تھکن چھپا لیتی تھی۔ اس نے اپنی چھوٹی بہن لائبہ کو سوتے دیکھا تو شرارت سوجھی۔ قریب پڑا پانی کا گلاس ہلکا سا اس کے چہرے پر چھڑکا۔
"اٹھو مہارانی! کالج نہیں جانا؟"
"ہانیہ آپی!" لائبہ کسمسائی، لیکن ہانیہ تب تک کچن میں داخل ہو چکی تھی۔
"امی، دعا کریں! آج شاہ انڈسٹریز میں انٹرویو ہے۔ اگر یہ نوکری مل گئی نہ، تو ابو کا علاج اچھے ہسپتال سے کروائیں گے،" ہانیہ نے ایک نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ اس کے والد، جو کونے والے کمرے میں لیٹے دھیمی آواز میں کھانس رہے تھے، ان کی طرف دیکھ کر ہانیہ کی آنکھوں میں لمحے بھر کو نمی آئی، مگر اس نے فوراً اسے ایک پُر امید چمک میں بدل دیا۔
"انشاء اللہ بیٹی، اللہ سب بھلا کرے گا،" امی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
ہانیہ نے اپنا پرانا سا بیگ اٹھایا، جس کے کونے تھوڑے سے گھسے ہوئے تھے، اور گھر سے باہر نکل گئی۔ باہر دھوپ تیز تھی، لیکن وہ خود اس دھوپ سے زیادہ روشن لگ رہی تھی۔
شاہ انڈسٹریز کا ویٹنگ ایریا کسی فائیو سٹار ہوٹل کی لابی جیسا تھا۔ ہانیہ وہاں داخل ہوئی تو تھوڑی دیر کے لیے ٹھٹھک گئی۔ وہاں موجود دیگر لڑکیاں ایسی تھیں جیسے کسی فیشن میگزین سے نکل کر آئی ہوں۔ مہنگے پرفیومز کی مہک ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔
ہانیہ نے اپنے سوتی کرتے کو دیکھا اور پھر ایک گہری سانس لی۔ "ہانیہ صدیقی! تم یہاں کام کرنے آئی ہو، ماڈل بننے نہیں۔ فوکس!" اس نے خود سے سرگوشی کی۔
"ہانیہ صدیقی؟ سر آپ کا انتظار کر رہے ہیں،" فرحان نے باہر نکل کر اسے پکارا۔
ہانیہ اٹھی اور اس بھاری دروازے کی طرف بڑھی جس پر سنہری حروف میں 'CEO' لکھا تھا۔ اس نے دروازہ دستک دے کر کھولا۔
"اندر آ جاؤ۔"
اندر داخل ہوتے ہی اسے لگا جیسے وہ کسی فریزر میں آ گئی ہو۔ یہ اے-سی کی ٹھنڈک نہیں تھی، بلکہ کمرے کے در و دیوار اور سامنے بیٹھے شخص کی موجودگی میں ایک عجیب سی سرد مہری تھی۔
زریاب شاہ اپنے بڑے سے ڈیسک پر جھکا ہوا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک مہنگا فاؤنٹین پین تھا جس سے وہ تیزی سے کسی فائل پر دستخط کر رہا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر نہیں دیکھا۔
"بیٹھو،" اس نے مختصر کہا۔
ہانیہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس نے کوشش کی کہ وہ پُر اعتماد دکھے، لیکن اس کی انگلیاں اپنے بیگ کے ہینڈل کو سختی سے دبائے ہوئے تھیں۔
دو منٹ تک صرف پین کے چلنے کی آواز آتی رہی۔ زریاب نے اچانک فائل بند کی اور سر اٹھایا۔ ہانیہ کی سانس جیسے رک گئی۔ اس کی آنکھیں گہری اور بالکل خالی تھیں۔ ان میں نہ کوئی خوشی تھی، نہ غصہ— صرف ایک ٹھنڈا سپاٹ پن۔
"ہانیہ صدیقی،" زریاب نے اس کا نام ایسے لیا جیسے کسی بے جان چیز کا تذکرہ کر رہا ہو۔ اس نے ہانیہ کی فائل اٹھائی اور اس کے صفحات پلٹنے لگا۔ "گریجویشن میں گولڈ میڈل۔ ٹائپنگ سپیڈ بہترین۔ لیکن۔۔۔"
وہ رکا اور ہانیہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اس کا اس طرح رکنا ہانیہ کو چبھنے لگا۔
"لیکن کیا، سر؟" ہانیہ نے ہمت کر کے پوچھا۔
"لیکن مجھے لگتا ہے تم راستہ بھٹک گئی ہو۔ شاہ انڈسٹریز کو پروفیشنلز کی ضرورت ہوتی ہے، ان لوگوں کی نہیں جو ہر وقت دانت نکال کر مسکراتے رہیں۔ تمہارا حلیہ۔۔۔ یہ شوخ رنگ۔۔۔ یہ یہاں کے ماحول کے لیے مناسب نہیں ہیں۔"
ہانیہ کا چہرہ سرخ ہوا، لیکن وہ خاموش نہیں رہی۔ "سر! اگر آپ کو لگتا ہے کہ میرے کپڑوں کا رنگ میرے دماغ کی صلاحیت پر اثر ڈالتا ہے، تو شاید آپ کی پارکھ میں تھوری غلطی ہے۔ میں یہاں کام کرنے آئی ہوں، اور میرے کام کا معیار میری فائل میں موجود سرٹیفکیٹس بتا رہے ہیں۔"
زریاب کا پین رک گیا۔ اس نے اپنی سپاٹ نظریں ہانیہ کے چہرے پر جما دیں۔ آفس میں ایک عجیب سا تناؤ پیدا ہو گیا۔ فرحان، جو کونے میں کھڑا تھا، اس نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں۔ آج تک کسی نے زریاب شاہ کے سامنے "غلطی" کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔
زریاب نے کرسی پیچھے کی۔ اس کی ہر حرکت میں ایک مخصوص رعب تھا۔ "خود اعتمادی ہے؟ یا بدتمیزی؟"
"سر! سچ بولنا اگر بدتمیزی ہے، تو پھر میں بدتمیز ہی سہی،" ہانیہ نے پلکیں جھپکائے بغیر جواب دیا۔
زریاب نے کچھ پل اسے دیکھا۔ اس کے دماغ میں ہانیہ کے نمبرز اور سابقہ ادارے کی سفارشات گھوم گئیں۔ اسے ایک ایسی سیکرٹری چاہیے تھی جو کام میں ماہر ہو، اور یہ لڑکی کام میں بہترین لگ رہی تھی، بھلے ہی وہ زبان دراز تھی۔
"کل صبح آٹھ بجے شارپ،" زریاب نے فائل بند کر کے سائیڈ پر رکھ دی۔ "ایک منٹ کی تاخیر، اور تمہارا ٹرمینیشن لیٹر تیار ہوگا۔ باہر جاؤ۔"
ہانیہ حیران رہ گئی۔ "مطلب۔۔۔ میری نوکری ہو گئی؟"
زریاب نے دوبارہ اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا، جیسے ہانیہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔ "مجھے اپنی بات دہرانا پسند نہیں۔ باہر جاؤ۔"
ہانیہ نے منہ بنایا، اپنا بیگ اٹھایا اور تیزی سے باہر نکل گئی۔ باہر نکلتے ہی اس نے ایک گہری سانس لی اور ہوا میں مٹھی بھینچی۔ "یس! لگ گئی نوکری!"
فرحان نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا۔ "بہن! اتنی خوش مت ہو۔ اگلے دو دن میں تمہارا رونا نکل جائے گا۔"
ہانیہ نے اسے دیکھ کر ایک بڑی سی مسکراہٹ دی "دیکھتے ہیں کون کس کا رونا نکالتا ہے!"
رات کے سائے گہرے ہو چکے تھے جب زریاب شاہ اپنے محل نما گھر، 'شاہ ولا' میں داخل ہوا۔ پورا گھر خاموش تھا، دیواروں پر لگی مہنگی پینٹنگز بھی جیسے غمزدہ لگ رہی تھیں۔
وہ سیدھا ڈائننگ ایریا کی طرف گیا جہاں ایک بزرگ خاتون، سفید سوتی ساڑی میں ملبوس، تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ وہ زریاب کی دادی، زبیدہ بیگم تھیں۔
"آ گئے زریاب؟ اتنی دیر؟" انہوں نے نرم آواز میں پوچھا۔
زریاب نے اپنا کوٹ کرسی کی پشت پر ڈالا اور بنا کچھ کہے بیٹھ گیا۔ نوکر نے فوراً کھانا لگانا شروع کر دیا۔
"کام کا بوجھ کم کرو بیٹا، اب تمہاری عمر شادی کی ہو رہی ہے،" دادی نے آہستہ سے کہا۔
زریاب کا چمچ رک گیا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا، بس خاموشی سے کھانا کھاتا رہا۔
"کب تک اکیلے رہو گے؟ اس گھر کو ایک رونق کی ضرورت ہے۔ میں نے ایک دو لڑکیاں دیکھی ہیں، بہت سلجھی ہوئی۔۔۔"
"دادی، پلیز!" زریاب نے ٹھنڈے لہجے میں ان کی بات کاٹی۔ "ہمیں اس بارے میں بات نہیں کرنی۔"
"کیوں نہیں کرنی؟ صرف اس لیے کہ اس ایک عورت نے تمہارے باپ کے ساتھ اور تمہارے ساتھ دھوکہ کیا، تم ساری عورتوں کو برا سمجھنے لگے ہو؟" دادی کی آواز میں درد تھا۔
زریاب کے جبڑے بھینچنے لگے۔ اس کے ذہن میں وہ منظر گھوم گیا جب اس نے برسوں پہلے اپنی ماں کو کسی اور کے ساتھ بھاگتے دیکھا تھا، اور اپنے باپ کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس دن اس نے فیصلہ کیا تھا کہ جذبات صرف کمزوری ہوتے ہیں۔
"ہر عورت تمہاری ماں جیسی نہیں ہوتی، زریاب۔ کچھ لڑکیاں دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں،" دادی نے اس کے ہاتھ پر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ رکھا۔
زریاب نے آہستہ سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ اس نے پانی کا گلاس اٹھایا، ایک گھونٹ بھرا اور کرسی پیچھے ہٹاتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
"میرا پیٹ بھر گیا ہے۔ مجھے کچھ فائلیں چیک کرنی ہیں۔ گڈ نائٹ،" اس نے سپاٹ لہجے میں کہا اور ان کی طرف دیکھے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
دادی نے ٹھنڈی آہ بھری۔ "پتھر ہو گیا ہے میرا بچہ۔ یا اللہ! کوئی تو ایسی بھیج جو اس برف کو پگھلا سکے۔"
اوپر اپنے کمرے میں، زریاب نے لائٹ بند کر دی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر کی خاموشی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں اچانک اس لڑکی کا چہرہ آیا— وہ پیلا کرتا اور وہ ڈھٹائی سے بھری مسکراہٹ۔
"سن شائن (Sunshine)،" اس نے نفرت سے سرگوشی کی۔ "دیکھتے ہیں کل شاہ انڈسٹریز کی سختی میں تمہاری یہ مسکراہٹ کتنی دیر ٹکتی ہے۔"
اس نے پردہ گرایا اور اندھیرے میں گم ہو گیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ "دھوپ" اس کے اندھیروں سے ٹکرانے کے لیے تیار تھی۔