Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 2 of 2

ستائیس اگست

پرائم اوبسیشن: قسط ۲

انٹیریئر۔ حنا کا کمرہ — پاکستان — رات

کمرہ چھوٹا تھا۔ ایک میز، ایک کرسی، ایک لیمپ — آدھی روشنی پر۔ باہر کنسٹرکشن سائٹ کی مشینیں رک چکی تھیں۔ رات اپنی جگہ تھی۔ ارقم مروان اسکرین پر تھا۔ ۳۸ سال۔ سوٹ پریس کیا ہوا، بال ٹھیک۔ وہ قسم کا چہرہ جو کیمروں کے سامنے رہتا ہے — ہر لفظ تلا ہوا، ہر رک کر بولنا ڈیلیبریٹ۔

Arqam: Al-Rashid Energy Contract. 4.2 billion. Officially — renewable infrastructure.

حنا نے کچھ نہیں کہا۔

Arqam: Teeno grid stations jinhe Saran Energy build karegi — woh teen provinces mein hain. Teen provinces jinke elections aglay 8 mahine mein hain.

بیٹ۔

Arqam: Jo grid control karta hai — woh supply control karta hai. Jo supply control karta hai—

حنا: وہ ووٹ کنٹرول کرتا ہے۔

ارقم: (تھوڑی دیر رک کے) ہاں۔

حنا کی نگاہ اسکرین پر تھی — ذہن کہیں اور تھا۔

Arqam: Main kal press conference mein yeh raise karunga. Publicly. Mere paas documents hain — contract ki terms, grid locations, timeline. Sab.

حنا: کتنے لوگ سنیں گے؟

ارقم: کافی۔

حنا: اور حدید؟

ارقم نے ایک سیکنڈ لیا — پہلی بار اس سیکنڈ میں کچھ ریئل تھا۔

Arqam: Woh sunne waalon mein nahi hoga. Woh sirf dekhega — kitne log sune.

حنا نے آنکھیں بند کیں — سلولی — پھر کھولیں۔

ارقم: آپ کچھ کر سکتی ہیں؟

حنا: میں سوچوں گی۔

ارقم: جلدی سوچنا — ۶ ماہ کم ہوتے ہیں۔

کال ختم ہوئی۔ اسکرین کالی ہو گئی۔ حنا وہاں بیٹھی رہی — لیمپ کی آدھی روشنی میں۔ باہر اندھیرا تھا — وہ اندھیرا جس میں فریکوئنسیز تھی، سگنلز تھے، دنیا تھی۔ لیکن اس وقت — صرف وہ تھی، اور سوچ۔ انگلی میز پر آئی — ایک بار۔ رکی۔ پھر لیپ ٹاپ کھل گیا۔

انٹیریئر۔ اسود کا آفس — مین ہٹن — رات

باقی بلڈنگ سو چکی تھی۔ اسود کی میز پر صرف ایک فائل تھی — حنا حیات حیام یوسفزئی۔ تین گھنٹے۔ پہلا پیج ابھی بھی خالی — کوئی چہرہ نہیں، کوئی پتہ نہیں، کوئی نشان نہیں۔ اسود نے کرسی میں پیچھے ٹیک لگا لیا۔ ۲ بلین ڈالرز۔ آج اسی نے ٹھکرائے — بنا سوچے، بنا رکے۔ جیسے رچرڈ کول کا آفر کوئی قابلِ ذکر بات ہی نہیں تھی۔ اور حدید ساران — فائل پر ایک انگلی۔ بس۔ خرید لو۔ اسود کی نظر چھت پر گئی۔ وہ انسان جو ۲ بلین ٹھکرا دے — وہ کسی کی بات نہیں سنتی۔ وہ کسی سے ملتی نہیں۔ وہ ڈیجیٹل دنیا میں موجود بھی نہیں۔ اور حدید کا اگلا قدم — اسود جانتا تھا۔ یہ راستہ اس نے پہلے بھی دیکھا تھا۔ کئی بار۔ کئی بار خود چلا بھی تھا۔ اس نے فائل بند کی — میز پر رکھی، سیدھی۔ ہاتھ اوپر سے ہٹا لیے۔ میز کی سرفیس ٹھنڈی تھی۔ وہ وہاں بیٹھا رہا — خالی فائل کے سامنے، سوتی ہوئی بلڈنگ میں، مین ہٹن کی روشنی کے سائے میں جو شیشے سے اندر آتی تھی اور کسی چیز کو روشن نہیں کرتی تھی۔

انٹیریئر۔ بلیک ہول ایچ کیو — ٹیمپریری آفس — پاکستان — دن

کوریڈور ابھی پراپرلی فنش نہیں ہوا تھا۔ دیواریں تھی، پوڈیم تھا، لیکن فلورز پر ابھی بھی کنسٹرکشن کا نشان تھا — سیمنٹ کی ہلکی پرت، ان فنشڈ کارنرز۔ شمائزہ آگے چل رہی تھی۔ فائل ہاتھ میں — سیکیورٹی بریفنگ۔

Shumaiza: Eastern entry point ko hum ne rotate kiya hai — har 6 ghante mein shift change. Blind spot tha wahan, cover ho gaya. Northern perimeter—

حنا اس کے ساتھ تھی۔ چپ۔ سنتی ہوئی۔ پھر اچانک رک گئی۔ شمائزہ دو قدم اور آگے گئی — پھر ریئلائز ہوا۔ مڑی۔

شمائزہ: کیا ہوا؟

حنا نے جواب نہیں دیا۔ نیچے دیکھا — اپنے پیر دیکھے۔ پھر دو قدم پیچھے گئی۔ دوبارہ وہی پوزیشن لی۔ اس بار فٹ اسٹیپس الائنڈ تھے۔ چھوٹا سا پوز۔

حنا: چلو۔

شمائزہ کچھ سیکنڈ دیکھتی رہی — پھر فائل کھولی۔ بریفنگ کنٹینیو کی۔

Shumaiza: Northern perimeter mein teen guards hain — do visible, ek—

حنا: روٹیشن ٹائمنگ؟

شمائزہ: ہر ۴ گھنٹے۔

حنا: پریڈکٹیبل ہے۔

شمائزہ نے نوٹ کیا — فائل میں کچھ لکھا۔ دونوں آگے چلتے رہے — کوریڈور کے اینڈ تک۔

شمائزہ: ایچ کیو کمپلیٹ ہونے کے بعد فل ٹیم ڈیپلائے ہوگی۔ ابھی لمیٹڈ ریسورسز ہیں لیکن—

حنا: کتنے لوگ جانتے ہیں یہ روٹ؟

شمائزہ: صرف میں اور آپ۔

حنا نے ایک بار کوریڈور کا جائزہ لیا — اوپر سے نیچے۔ کچھ میژر کرتی ہوئی — فٹ اسٹیپس، ڈسٹنس، اکوسٹکس۔

شمائزہ: (دھیرے سے) ٹھیک ہے؟

حنا: (آگے چلتے ہوئے) روٹیشن ۶ گھنٹے کر دو۔ ۴ پریڈکٹیبل ہے۔

شمائزہ نے دوبارہ فائل میں لکھا — اس بار بغیر سوال کے۔

انٹیریئر۔ پرائیویٹ بلڈنگ — مشرقِ وسطیٰ — رات

کمرہ اندر سے بند تھا۔ باہر گارڈز تھے — اندر اے سی کی ٹھنڈ تھی اور اس ٹھنڈ میں سگار کا دھواں جو اب بجھ چکا تھا ٹرے میں۔ ٹیبل لمبی تھی۔ اس پر نقشہ تھا — مڈل ایسٹ کا۔ کئی جگہ سرکلز — پنسل سے، ریڈ مارکر سے، کسی کی انگلی کے نشان سے۔ پانچ لوگ ٹیبل کے گرد۔ الگ الگ سوٹس۔ الگ الگ زبانیں۔ لیکن نگاہیں ایک ہی طرف — جہاں ملک حدید ساران بیٹھا تھا۔ ہاتھ میں ایک پین تھا — کیپ بند، کیپ کھول، بند، کھول۔ کوئی ردم نہیں، بس ہاتھ کا کام۔ آنکھیں چھت پر — جیسے یہ پانچ لوگ، یہ ٹیبل، یہ نقشہ — سب کچھ پیریفیرل تھا۔ اسود اس کے بائیں ہاتھ پر کھڑا تھا۔ فائل ہاتھ میں۔

فیصل الحمادی — ۵۸ سال، گرے داڑھی، وہ قسم کا چہرہ جس پر دہائیوں کی سیاست لکھی ہوتی ہے:

Faisal: Hamari terms waziha hain. Northern grid ka control humara hoga. Baqi sab aap decide karein.

اسود نے حدید کی طرف دیکھا۔ پین ایک بار رکا — کیپ بند ہوا — پھر دوبارہ کھلنے لگا۔

اسود: ناردرن گرڈ اکیلا کافی نہیں۔ ایسٹرن کوریڈور بھی۔

طارق بن زواوی — ۵۰ سال، شارپ نظریں:

Tariq: Eastern corridor humara nahi dena — woh doosre agreement mein—

حدید ساران کی نگاہ چھت سے ہٹی۔ ایک بار — صرف طارق کی طرف۔ پین ہاتھ میں رک گیا۔ اے سی کی آواز پہلی بار سنائی دی۔

ابراہیم بن رشید — ۴۵ سال، ہاتھ جو ٹیبل پر تھامے ہوئے تھے:

Ibrahim: Eastern corridor... arrange ho sakta hai.

طارق نے ابراہیم کی طرف دیکھا — کچھ کہا نہیں۔ حدید کی نگاہ واپس چھت پر۔ پین پھر چلنے لگا — کیپ کھول، بند، کھول۔

اسود: الیکشن ٹائم لائن — ۶ مہینے۔ نتائج جو بھی ہوں — گرڈ کنٹرول ٹرانسفر پہلے ہوگا۔ اس کے بعد فنڈنگ۔

سلطان بن مہیرے — ۶۲ سال، ٹیبل پر ہاتھ:

Sultan: Pehle funding, baad mein—

اسود نے فائل کھولی۔ ایک پیج ٹیبل کے بیچ میں رکھا۔

اسود: ۲۰۱۹۔ لیبیا۔ ۲۰۲۱۔ تیونس۔ ۲۰۲۲۔ اردن۔ پانچوں لوگوں کی نگاہیں پیج پر گئیں۔ تینوں میں پہلے فنڈنگ تھی، بعد میں گرڈ۔ تینوں میں نتائج وہی آئے جو نہیں چاہیے تھے۔

سلطان نے پیج سے نگاہ ہٹائی۔

اسود: مسٹر ساران کے ساتھ کام کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔

پین ہاتھ میں بند ہو گیا — کیپ آف تھی۔ حدید کی انگلی اس پر گھوم رہی تھی۔ سلولی۔ ڈیلیبریٹلی۔

ناصر بن فہیم — ابھی تک چپ — پہلی بار بولا:

Nasser: Grid pehle.

باقی چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر — ایک ایک کر کے — سر ہلایا۔ اسود نے فائل بند کی۔ حدید اٹھا۔ پین ٹیبل پر رکھا — بالکل سیدھا۔ سوٹ کا کوئی بٹن ٹھیک نہیں کیا۔ کوئی ہاتھ نہیں ملایا۔ سیدھا دروازے کی طرف۔ پانچ سیاستدان — دہائیوں کی سیاست — ایک انسان کی پیٹھ دیکھتے رہے۔ پین ٹیبل پر پرفیکٹلی سیدھا تھا۔ کسی نے اسے چھوا نہیں تھا۔ دروازہ بند ہوا۔

انٹیریئر۔ پرائیویٹ بلڈنگ — کوریڈور — مشرقِ وسطیٰ — رات

کوریڈور خالی تھا۔ سیاستدان جا چکے تھے۔ ان کے فٹ اسٹیپس کی گونج کہیں کھو گئی تھی۔ حدید ساران ایک طرف کھڑا تھا — دیوار کے ساتھ۔ تھری پیس بلیک سوٹ — کف بند، ٹاپ بٹن بند۔ ہاتھ سوٹ کی پاکٹ میں — دونوں کلائیوں پر، ایک دوسرے کے نیچے چھپی ہوئی، دو بلیک واچز۔ نظر سیدھی سامنے — کوریڈور کے دوسرے سر پر۔

اسود دو قدم پیچھے تھا۔ فائل ہاتھ میں۔ حدید نے مڑ کر نہیں دیکھا، پھر بھی اسود سمجھ گیا۔ اسود نے فائل کا کونا ہاتھ میں ٹھیک کیا — بنا ضرورت کے۔

اسود: ابھی تک نہیں ہوئی۔

حدید کی نظر ایک لمحے کے لیے اسود پر رکی — پھر واپس سامنے۔

اسود: کوشش جاری ہے۔

حدید آگے بڑھ گیا — سیدھا، بغیر رکے۔ اسود وہاں کھڑا رہا — خالی کوریڈور میں — اور باہر سٹی کی وہ لائٹس جو اتنی دور تھیں کہ ان کا کوئی رنگ نہیں تھا۔

لاسٹ سین: بلیک ہول ایچ کیو — نجی دفتر — پاکستان — رات

کمرہ اندھیرا تھا۔ صرف ڈیسک لیمپ۔ اسکرین پر اوربیٹل ماڈلز تھے — نمبرز، ٹریجیکٹریز، کیلکولیشنز۔ حنا جھکی ہوئی تھی۔ ہاتھ کی بورڈ پر۔ دروازہ کھلا۔ شمائزہ اندر آئی — ہاتھ میں چھوٹا سا کیک۔ کینڈل جل رہی تھی۔ حنا نے اوپر نہیں دیکھا۔ شمائزہ نے کیک میز کے ایک کونے پر رکھا — اسکرینز سے دور۔ بیٹھی نہیں۔ بس کھڑی رہی۔

شمائزہ: ۲۳۔

حنا کی انگلیاں کی بورڈ پر رک گئیں۔

شمائزہ: Happy Birthday, Hina.

ایک مائکروسکوپک پوز۔ حنا کی نگاہ اسکرین سے ہٹی — کیک پر آئی۔ کینڈل کی لو ہلکی تھی — کمرے میں صرف اتنی روشنی۔ جیسے سمجھنے میں ایک سیکنڈ لگا — یہ کس کے لیے ہے۔ شمائزہ نے نائف آگے بڑھائی۔ حنا نے ہاتھ آگے کیا — اور وہاں — اتنی ہلکی کہ آلموسٹ انوزیبل — ہاتھ میں ایک کانپش تھی۔ شمائزہ نے دیکھا۔ کچھ نہیں کہا۔ حنا نے نائف پکڑ لی۔ کیک کی طرف دیکھ رہی تھی — لیکن کچھ اور سوچ رہی تھی۔ کینڈل جلتی رہی۔

حنا: (دھیرے سے، صرف اپنے آپ سے) اتنا وقت ہو گیا۔

شمائزہ نے جواب نہیں دیا۔ کمرے میں صرف کینڈل کی لو تھی — کانپتی ہوئی — اندھیروں میں۔

انٹیریئر۔ حدید ساران انٹرپرائزز — مین ہٹن — رات

لیپ ٹاپ کھلا تھا۔ کارنر میں — ڈیٹ۔ ۲۷ اگست۔ حدید نے دیکھا۔ ایک سیکنڈ۔ کوئی نوٹیفکیشن نہیں تھی، کوئی ریمائنڈر نہیں تھا۔ صرف وہ نمبر — جو ہر سال آتا تھا۔ جو کبھی بدلتا نہیں تھا۔ ڈسپلے بند کی۔ اٹھا۔ کھڑکی کی طرف گیا — ہاتھ پیچھے۔ نیچے مین ہٹن تھا۔ لائٹس۔ موومنٹ۔ وہ شہر جو نہیں رکتا۔ ہاتھ شیشے پر رکھا — ہلکا سا۔ ٹھنڈا تھا۔ ضرورت سے زیادہ ٹھنڈا۔

۲۳ سال۔

حدید: (دھیرے سے، صرف اپنے آپ سے) Prime number. Kabhi solve nahi hua.

ہاتھ ہٹا لیا۔ جیکٹ اٹھائی۔ فون میز پر چھوڑا — جیسے ہمیشہ نہیں کرتا تھا۔ باہر گیا — اکیلا۔ لفٹ نہیں لی۔ سیڑھیاں۔

ایکسٹیریئر۔ مین ہٹن — رات

وہ پیدل چل رہا تھا — بظاہر کوئی ڈیسٹینیشن نہیں تھی، لیکن قدم جانتے تھے کہاں جانا ہے۔

ایسٹ ریور — پرومیناڈ پہلا اسٹاپ۔ ہوا ٹھنڈی تھی — پانی سے آتی ہوئی۔ حدید ساران رکا۔ ریلنگ پر ہاتھ رکھا۔ نیچے پانی — ڈارک، موونگ، کبھی نہیں رکتا۔ کچھ سیکنڈ۔ کچھ نہیں کہا۔ آگے بڑھ گیا۔

چھوٹا پارک — گیٹ دوسرا اسٹاپ۔ گیٹ بند تھا — رات کو۔ اندر درخت تھے، اندھیرا تھا۔ حدید ساران گیٹ کے باہر کھڑا رہا۔ ایک ہاتھ گیٹ کے آئرن پر رکھا — ٹھنڈا، وہی ٹھنڈک جو ہر دھات میں ہوتی ہے رات کو۔ کچھ نہیں کہا۔ آگے بڑھ گیا۔

بلڈنگ روف ٹاپ — ایکسیس پوائنٹ تیسرا اسٹاپ۔ لفٹ لی — ایک پرانی بلڈنگ، جس کا روف ایکسیس پبلک تھا۔ کھلا آسمان۔ مین ہٹن کی روشنی نیچے تھی — اتنی زیادہ کہ اوپر ستارے کم دکھتے تھے۔ جو دکھتے تھے — انہیں حدید نے دیکھا۔ دیر تک۔ کچھ نہیں کہا۔ واپس نیچے آیا۔

پرانی بلڈنگ کا کونہ — کوئی نام نہیں آخری اسٹاپ۔ ایک چھوٹا کارنر — کوئی تختی نہیں، کوئی مارکر نہیں۔ صرف ایک جگہ جو اس نے خود چنی تھی، سالوں پہلے، بنا کسی وجہ کے جو کسی اور کو سمجھ آئے۔ حدید ساران وہاں کھڑا ہو گیا۔ لمبی خاموشی — سب سے لمبی اس رات کی ہ۔

پھر —

حدید: Sorry.

بس۔ اتنا۔ کوئی نام نہیں لیا۔ کوئی ایکسپلینیشن نہیں دی — خود کو بھی نہیں۔ مڑ گیا۔ واپس چل دیا۔

انٹیریئر۔ حدید ساران انٹرپرائزز — مین ہٹن — صبح

صبح — وہی تھا۔ سیدھا۔ کنٹرولڈ۔ جیسے ہمیشہ ہوتا تھا۔ ٹائی سیٹ کی۔ جیکٹ پہنی۔ فولڈر اٹھایا۔ کسی کو پتا نہیں تھا — یہ ڈیٹ کیا تھی اس کے لیے۔ اسود سامنے سے آیا — نارمل گریٹنگ کرنے والا تھا۔ رک گیا۔ ایک سیکنڈ — دیکھا۔ وہ چھوٹی سی چیز — آنکھوں کے نیچے۔ پوسچر میں ایک ایکسٹرا انچ کی اسٹریٹ نیس — جو ضرورت سے زیادہ تھی۔ اسود نے کچھ نہیں پوچھا۔ ۱۰ سال حدید ساران کے ساتھ تھا۔ یہ ڈیٹ — کبھی کیلنڈر میں نہیں تھی، کبھی مینشن نہیں ہوئی — لیکن ہر سال، اسی طرح، ایک صبح آتی تھی۔

اسود: صبح بخیر۔

حدید: صبح بخیر۔

دونوں آگے بڑھے — کام کی طرف۔ کسی نے کچھ نہیں کہا۔ کوئی ضرورت نہیں تھی۔

Comments