Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 2 of 2

پہلا اوربٹ

پرائم اوبسیشن: قسط ۱

انٹیریئر۔ حدید ساران انٹرپرائزز — مین ہٹن — دن

شیشہ فلور سے سیلنگ تک۔ نیچے نیویارک — ٹیکسیوں کی چھتوں کی قطاریں، آدھی دھوپ آدھا سایہ۔ اتنی اونچائی پر شور خاموشی میں بدل جاتا ہے۔ حدید کا آفس شیشے کے پیچھے — نہ تصویر، نہ پھول۔ صرف ایک لمبی کالی ٹیبل۔ اور کرسیاں۔ ڈینیئل مورس — ۳۴ سال، سوٹ پریس کیا ہوا، بال ٹھیک کیے ہوئے — ایک طرف بیٹھا تھا۔ اس کے دو لائرز ساتھ تھے۔ تینوں کے ہاتھ فولڈرز پر۔ ڈینیئل کی نظر دروازے پر جاتی تھی۔ بار بار۔ پھر دروازہ کھلا۔ اسود کثیر پہلے اندر آیا — بغیر آواز کے، بغیر رش کے۔ اس کے پیچھے ملک حدید ساران۔ ڈینیئل اٹھنے لگا — حدید نے دیکھا نہیں۔ وہ سیدھا کھڑکی کے سامنے جا کر رک گیا۔ پیٹھ ڈینیئل کی طرف۔ نیچے مین ہٹن — اس کی آنکھوں میں صرف عکس۔ ڈینیئل آدھا اٹھا، آدھا بیٹھا رہا۔ ایک لمحہ۔ پھر وہ واپس بیٹھ گیا۔ اسود نے ایک فولڈر ٹیبل پر رکھا۔ بیٹھا۔

ڈینیئل: (ہلکی کھانسی) مسٹر ساران، آئی اپریشی ایٹ یو ٹیکنگ دی ٹائم۔ آئی تھنک اف وی جسٹ—

حدید کی پیٹھ نہیں ہلی۔ اسود نے ڈینیئل کی طرف دیکھا — نہ غصہ، نہ ہنسی۔ بس دیکھا۔

اسود: چار مہینے پہلے۔ بلوم برگ کا انٹرویو۔ (پرنٹڈ پیج ٹیبل پر رکھتا ہے) "وی ایکچولی بلڈ تھنگز۔ حدید ساران جسٹ بائےز دیم۔"

ڈینیئل: کانٹیکسٹ کے بغیر وہ اسٹیٹمنٹ—

اسود: پورا انٹرویو ریکارڈ میں ہے، مسٹر مورس۔

شیشے کے اس پار ایک ہیلی کاپٹر گزرا — نیچے سے اوپر، پھر غائب۔ ڈینیئل نے اپنے لائرز کی طرف دیکھا۔ چھوٹا سا اشارہ — کچھ کرو۔ لائرز نے کاغذوں میں آنکھیں گاڑ لیں۔

لائر: مائی کلائنٹ از ہیئر ان گڈ فیتھ ٹو ڈسکس اے پوٹینشل پارٹنرشپ دیٹ ووڈ بی—

اسود: میریڈین کیپیٹل۔

لائر رک گیا۔

اسود: فاس گروپ۔ پارک لین وینچرز۔

ڈینیئل کی گردن سیدھی ہو گئی — سلولی، جیسے کوئی دھاگہ کھینچ رہا ہو۔ اسود نے فون ٹیبل پر رکھا۔ اسکرین ڈینیئل کی طرف۔ تینوں کمپنیز کے نام۔ تینوں کے آگے — ٹرانسفر کمپلیٹ۔ ۶:۴۷ اے۔ایم۔ ڈینیئل نے اسکرین دیکھی۔ صبح کے ۶:۴۷۔ وہ اس وقت سو رہا تھا۔

ڈینیئل: (دھیمی سی) دوز کنٹریکٹس ہیڈ لاک اِن کلازز۔ دے کوڈنٹ جسٹ—

اسود: پیراگراف ۷۔ سب سیکشن سی۔ فورس میجر — براڈ لینگویج۔ آپ کے اپنے لائرز نے ڈرافٹ کیا تھا۔

ڈینیئل کی نظر اپنے لائرز پر گئی — ایک بار، تیز۔ لائرز کے سر نہیں اٹھے۔

ڈینیئل: (سیدھا، حدید کی پیٹھ کو) سے سمتھنگ۔ یو براٹ می ہیئر — ایٹ لیسٹ ہیو دی ڈیسنسی ٹو—

حدید مڑا۔ صرف اتنا — شیشے سے ڈینیئل کی طرف۔ ایک نگاہ۔ دو سیکنڈ۔ چار رنگی آنکھیں — گرے میں براؤن، بلیو میں گرین۔ کوئی غصہ نہیں۔ کوئی سیٹسفیکشن نہیں۔ کوئی کچھ نہیں۔ جیسے ڈینیئل فرنیچر تھا۔ پھر وہ دوبارہ کھڑکی کی طرف مڑ گیا۔ اسود اٹھ گیا۔

اسود: آپ کی کمپنی کا کوارٹرلی رپورٹ اگلے ہفتے پبلک ہوگا، مسٹر مورس۔ وہ دن — آفس میں نہ ہوں۔

ڈینیئل کی کرسی کارپٹ پر گھسرائی جب وہ اٹھا — جلدی میں، پھر رکا۔ جانا تھا لیکن پیر نہیں اٹھنے۔

ڈینیئل: (بٹر، دبی آواز میں) یہ میٹنگ کس لیے تھی، مسٹر ساران؟ صرف یہ دکھانے کے لیے کہ تم مجھے توڑ سکتے ہو؟

اسود دروازے پر رکا۔

اسود: آپ نے کہا تھا — حدید ساران صرف چیزیں خریدتا ہے۔

بیٹ۔

اسود: آج اس نے آپ کو دکھایا — کبھی کبھی چیزوں کو توڑنا بھی کافی ہوتا ہے۔

دروازہ بند ہوا۔ ڈینیئل کمرے میں — دو لائرز کے ساتھ جو ابھی بھی کاغذوں میں گم تھے، اور مین ہٹن جو شیشے کے پیچھے خاموشی سے چلتی رہی۔

کمرہ خالی ہوا۔ حدید میز کے سامنے آیا۔ بیٹھا نہیں۔ دونوں ہاتھ میز پر رکھے — دھیرے، جیسے یہ بھی اس کی پراپرٹی ہو۔ اپنی لیفٹ ہینڈ کی انگلی میز پر ایک بار ٹیپ کی۔ صرف ایک بار۔ اسود واپس آیا — فولڈر ڈسٹ بن میں ڈالا۔ ٹیبلٹ لیا۔

اسود: بی ایچ-۷ کا لانچ ونڈو کنفرم ہوا ہے۔ اگلا مہینہ — ۱۴ تاریخ۔ کیپ کیناورل۔

حدید کی لیفٹ ہینڈ میز پر رکی — اتنا ہی۔ لیکن اسود نے سمجھا۔

اسود: پے لوڈ میں تین ڈیبری کلیکٹر یونٹس ہیں۔ لو ارتھ اوربٹ — ۴۵۰ کلومیٹر۔

اس نے ٹیبلٹ کا گرافک اسکرین پر کھولا — ارتھ کی اوربٹ، ڈیبری کے ریڈ ڈاٹس، بلیک ہول کی ایکٹو یونٹس کے گرین مارکرز۔ ڈاٹس بہت زیادہ تھے۔ مارکرز کم۔

اسود: وہاں ۳۴۰ رجسٹرڈ فریگمنٹس ہیں — ایکٹو سیٹلائٹس کے لیے ڈائریکٹ رسک زون۔ بی ایچ-۷ انہیں کلیکٹ کرے گا۔ الیکٹرو میگنیٹک نیٹ سسٹم — پچھلی لانچ سے اپ گریڈڈ۔

حدید کی نظر گرافک پر تھی۔ اس نے اپنی لیفٹ ہینڈ کی ایک انگلی ایک ریڈ کلسٹر پر رکھی — بغیر کچھ بولے۔

اسود: یورپی اسپیس ایجنسی — تین سال کا کنٹریکٹ ایکسٹینڈ ہوا ہے۔ ناسا کا رسپانس کل تک آئے گا۔ جاکسا نے ایک الگ پروپوزل بھیجا ہے — ان کا ڈی فنکٹ ویدر سیٹلائٹ، ۲۰۱۹ سے ڈرفٹ کر رہا ہے۔

حدید کی انگلی وہی رکی — کلسٹر پر۔

اسود: ہاں۔ اس سے بی ایچ-۷ کے پے لوڈ میں ایڈ کر سکتے ہیں۔

حدید کی انگلی گرافک پر سلائیڈ کی — ایک اور زون کی طرف۔ جہاں ریڈ ڈاٹس سب سے ڈینس تھے۔ کوئی گرین مارکر نہیں تھا۔

اسود: میڈیم ارتھ اوربٹ۔ ابھی ہماری ریچ وہاں تک نہیں — بی ایچ-۹ یا بی ایچ-۱۰ تک شاید۔ ٹیکنالوجی ابھی اسکیل نہیں ہوئی۔

حدید کی انگلی اسکرین سے ہٹی۔ اس نے سیدھا کھڑا ہو کر اپنی لیفٹ ہینڈ کی مٹھی بند کی — دھیرے، بغیر زور کے۔ پھر کھولی۔ اسود نے ٹیبلٹ بند کی۔ ایک پتلی فائل اٹھائی۔

اسود: ایک اور چیز۔

اس نے فائل میز پر رکھی۔ کور پیج پر صرف ایک نام — حنا حیات حیام یوسفزئی — بلیک ہول اسپیس کمپنی — پاکستان ہیڈ کوارٹرز — انڈر کنسٹرکشن

اسود: پاکستان میں ایک اسپیس کمپنی ہے۔ ڈیبری کلیننگ — بالکل وہی کام جو ہم کرتے ہیں۔ ایچ کیو ابھی بن رہا ہے — اسلام آباد کے باہر۔ اسکیل ابھی چھوٹا ہے، لیکن فاؤنڈر—

رک گیا۔

اسود: فاؤنڈر کا کوئی ڈیجیٹل ریکارڈ نہیں ہے۔ کوئی فوٹو گراف نہیں۔ کوئی رجسٹرڈ ایڈریس نہیں۔ کوئی سوشل میڈیا نہیں۔ کمپنی کے ڈاکومنٹس میں نام ہے — بس۔

حدید کی نگاہ فائل کے کور پر تھی۔ وہ ایکسپریشن جو نارملی کچھ نہیں ہوتا — ابھی بھی کچھ نہیں تھا۔ لیکن اس نے فائل اٹھائی۔ کھولی نہیں۔ صرف ہاتھ میں لی۔ لمبی خاموشی۔ پھر حدید کھڑکی کی طرف چلا گیا — فائل ہاتھ میں۔ نیچے مین ہٹن کی لائٹس جل رہی تھیں۔ اس نے فائل کو دھیرے اپنے قریب کیا — جیسے کوئی چیز پڑھنا چاہتا ہو جو لکھی نہیں گئی۔ پہلی بار — پورے ایپیسوڈ میں پہلی بار — اس کے ہونٹ ہلے۔

حدید: (ہلکی سی، صرف اپنے آپ سے) حنا حیات۔۔۔

ایکسٹیریئر۔ بلیک ہول ایچ کیو — کنسٹرکشن سائٹ — اسلام آباد — دن

زمین ابھی کچی تھی۔ مٹی اور روڑے کا وہ مکسچر جو کسی بھی تعمیر سے پہلے ہوتا ہے۔ مشینوں کی آوازیں، ورکرز کی آوازیں، اور دھوپ سیدھی اوپر سے۔ حنا کنسٹرکشن سائٹ کی باؤنڈری پر کھڑی تھی۔ نقاب، عبایا — کالا۔ ہاتھ خالی۔ صرف آنکھیں — جہاں ابھی صرف نیو تھی، لوہے کی روڈیمنٹری اسکیلیٹن۔ لیکن وہ کچھ اور دیکھ رہی تھی۔ شمائزہ عالم — ۲۹ سال، شارپ نظر، وہ پوسچر جو ہمیشہ کمرے کا جائزہ لیتا ہے — حنا کے دو قدم پیچھے کھڑی تھی۔ ہاتھ میں دو پانی کی بوٹلز۔ ایک حنا کی طرف بڑھائی۔

شمائزہ: پیری میٹر چیک ہوا۔ تین انٹری پوائنٹس — سب سیکیور ہیں۔

حنا نے بوٹل لی۔ ایک گھونٹ لیا — نظر سامنے۔

شمائزہ: (ہلکے سے) پانی بھی۔

تھوڑی دور پر انجینئرز کا حلقہ تھا — تین لوگ، ایک لیپ ٹاپ، ایکسپریشنز جو بتا رہے تھے مسئلہ گہرا ہو گیا۔ کامران — ۴۰ سال کے قریب، ہیلمٹ ہاتھ میں — بار بار اسکرین دیکھ رہا تھا، بار بار سر ہلا رہا تھا تھی تھوڑا۔ حنا کی نظر اس حلقے پر گئی۔

شمائزہ: صبح سے ہیں۔ سیٹلائٹ پوزیشننگ کا کوئی کیلکولیشن۔

حنا نے بوٹل شمائزہ کو دی۔ سیدھی ان لوگوں کی طرف چلی گئی۔ شمائزہ نے ایک بار سائٹ کا جائزہ لیا — پھر حنا کے پیچھے۔ دو قدم کا فاصلہ مینٹین کیا۔

کامران: میم، سوری — ہم تھوڑی دیر میں—

حنا: دکھاؤ۔

کامران نے لیپ ٹاپ گھما دیا۔ اوربیٹل میکینکس کا ایکویشن۔ ڈیبری فیلڈ کا ایسٹیمیٹڈ ٹریجیکٹری، پروپوزڈ لانچ ونڈو — تین کیلکولیشن اٹیمپٹس، تینوں پر ریڈ مارکر۔ غلط۔ حنا نے اسکرین دیکھی۔ دس سیکنڈ۔

حنا: ایٹموسفیرک ڈریگ کوایفیشینٹ میں ۲۰۱۹ کا ڈیٹا ہے۔ سولر ایکٹیویٹی اس سال ان یوژولی ہائی رہی — اپر ایٹموسفیئر ایکس پینڈ ہوئی۔ فگر ۰.۳ پرسنٹ آف ہے۔

کامران نے اسکرین دیکھا۔

حنا: لانچ اینگل ۲.۷ ڈگری ایڈجسٹ کرو۔ ونڈو ویڈنس ڈے صبح ۵:۴۲۔ ۱۱ منٹ کا فریم۔

کامران نے پینسل اٹھائی — رکا۔

کامران: (ہیسی ٹینٹلی) میم۔۔۔ یہ کیلکولیشن آپ نے سب مینٹلی کیسے—

حنا: چیک کر لو۔

حنا واپس باؤنڈری کی طرف آئی۔ شمائزہ نے بوٹل پھر بڑھائی — بنا کچھ کہے۔ لیکن اس کی نظر کامران پر تھی — کیلکولیٹر پر جھکا ہوا۔ تھوڑی دیر بعد —

کامران: (دھیرے سے، اپنی ٹیم کو) سب صحیح ہے۔

ایک بیٹ۔ پھر —

کامران: سب بالکل صحیح ہے۔

حنا باؤنڈری پر کھڑی تھی — رکی نہیں، مڑی نہیں —

حنا: یاد نہیں۔۔۔ سمجھ آیا تھا۔

بس اتنا۔ کامران نے اوپر دیکھا — لیکن حنا جا چکی تھی۔ شمائزہ نے ایک بار حنا کی طرف دیکھا — پھر نیچے۔ کچھ نہیں کہا۔ تب حنا کا فون ہلا۔ اسکرین پر — ارقم مروان حنا نے کال اٹھائی۔ ایک قدم دور گئی — آواز دھیمی۔

حنا: بولو۔

وہ سن رہی تھی۔ اس کی پیٹھ دھیرے دھیرے سیدھی ہوتی گئی — جیسے کوئی بوجھ رکھ رہا ہو۔ شمائزہ نے نوٹس کیا۔ اس کی نظر آٹو میٹکلی سائٹ کے باقی حصوں پر چلی گئی — اسیس کرتی ہوئی۔

حنا: کب؟

پھر —

حنا: ٹھیک ہے۔

کال بند۔ فون پاکٹ میں۔ ایک سیکنڈ — حنا وہی کھڑی رہی۔ آنکھیں بند کیں۔ صرف ایک سیکنڈ۔ پھر کھولیں۔

شمائزہ: (دھیرے سے) سب ٹھیک تو ہے نہ؟

حنا نے جواب نہیں دیا — سائٹ کی طرف دیکھا۔ بوٹل ابھی بھی ہاتھ میں تھی۔ اس کی انگلی اتنی ٹائٹ ہو گئی کہ پلاسٹک ہلکا سا دب گیا۔ شمائزہ نے دیکھا۔ لیکن کچھ نہیں کہا۔

حنا: (دھیرے، جیسے خود سے) ابھی نہیں۔۔۔ لیکن ہونے والا ہے۔

بوٹل اس نے سائیڈ پر رکھی۔ نظر کنسٹرکشن سائٹ سے دور — کہیں ہورائزن پر۔

انٹیریئر۔ لائف لوپ — یو ایس اے آفس — کانفرنس روم — دن

کمرہ بھرا ہوا تھا۔ تین انویسٹرز — سوٹس، ایکسپینسیو واچز، فولڈرز۔ سامنے ایک بڑی اسکرین تھی۔ اسکرین پر صرف ایک ونڈو — ویڈیو کال۔ اس ونڈو میں حنا تھی۔ نقاب، عبایا۔ پاکستان کا وقت رات کا تھا لیکن اس کی نظر اتنی ہی تیز تھی۔ لائف لوپ کی ٹیم ایک طرف چپ بیٹھی تھی۔ رچرڈ کول — ۵۲ سال، گرے بال، وہ قسم کا آدمی جو سوچتا ہے مسکراہٹ سے کام نکلوا لیتا ہے — فولڈر کھولا۔

رچرڈ: مس حیات، لائف لوپ کے نمبرز بہت پرومیسنگ ہیں۔ ۳۴۰ ملین ایکٹو یوزرز، ای کامرس ٹرانزیکشنز اپ ۶۷ پرسنٹ۔ وی جسٹ نیڈ اسٹینڈرڈ ڈیٹا ایکسیس — یوزر بی ہیویئر پیٹرنز، پرچیز ہسٹری—

حنا: نہیں۔

رچرڈ کا ہاتھ فولڈر پر رکا۔

رچرڈ: آئی ایم سوری؟

حنا: ڈیٹا ان کا ہے۔ میرا نہیں۔ آپ کو نہیں دوں گی۔

رچرڈ نے اپنے ساتھیوں کی طرف بریف نگاہ ڈالی۔

جیمز پارک: مس حیات، ایوری پلیٹ فارم ایٹ دس اسکیل مونیٹائز یوزر ڈیٹا۔ اٹ از اسٹینڈرڈ انڈسٹری پریکٹس—

حنا: اسٹینڈرڈ غلط بھی ہو سکتا ہے۔

خاموشی۔

رچرڈ: (آگے جھکتا ہے) وی آر ٹاکنگ اباؤٹ اے ۲ بلین ڈالر انویسٹمنٹ ہیئر۔ شورلی—

حنا: مجھے پتا ہے۔

رچرڈ: دین یو انڈر اسٹینڈ وٹس ایٹ اسٹیک۔

حنا: ہاں۔ اس لیے نہیں۔

رچرڈ: (فولڈر بند کرتا ہے — سلولی) مس حیات، ود آؤٹ ڈیٹا ایکسیس، دس ڈیل ڈزنٹ میک سینس فار اس۔

حنا نے ایک سیکنڈ لی۔ وہ سیکنڈ — کچھ الگ تھا۔ جیسے لفظ صرف زبان سے نہیں — کسی اور جگہ سے آ رہے تھے۔

حنا: ڈیٹا کسی کی پہچان ہوتی ہے۔ اور دنیا کو کوئی حق نہیں کسی کی پہچان چھیننے کا۔

پھر —

حنا: تو مت کرو۔

اسکرین پر کرسر ہلا — مارک چین — ابھی تک چپ — آگے جھکا۔

مارک: ویٹ۔ مس حیات — وٹ اف وی ری اسٹرکچر—

اسکرین پہلے ہی بلیک ہو گئی تھی۔ کانفرنس روم میں تینوں انویسٹرز ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ لائف لوپ کی ٹیم نے ایک دوسرے کو دیکھا — کوئی حیران نہیں تھا۔

کٹ ٹو — پاکستان

حنا نے لیپ ٹاپ بند کیا۔ شمائزہ نے چائے کا کپ سامنے رکھا۔

شمائزہ: ۲ بلین تھا۔

حنا: (کپ اٹھاتے ہوئے) تھا۔

خاموشی۔ حنا کی نظر کپ پر تھی — لیکن وہ کچھ اور سوچ رہی تھی۔ وہ عجیب سا لمحہ — جو صرف شمائزہ نے نوٹس کیا — ابھی بھی اس کے چہرے پر تھا۔ ہلکا سا۔ جیسے کوئی پرانی چیز چھو گئی ہو۔ شمائزہ نے کچھ نہیں پوچھا۔

انٹیریئر۔ حدید ساران انٹرپرائزز — مین ہٹن — ٹوائی لائٹ

شیشے کے باہر مین ہٹن کا وہ خوبصورت وقت جب دن اور رات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ بلڈنگز کی لائٹس ایک ایک کر کے جل رہی تھیں — نیچے سے اوپر کی طرف، جیسے کوئی اندھیرا شہر دھیرے دھیرے جگ رہا ہو۔ حدید ساران میز کے صرف کونے پر بیٹھا تھا۔ ہاتھ میز پر، ایک دوسرے سے کافی دور۔ بالکل موشن لیس۔ دروازہ کھلا۔ اسود اندر آیا۔ ہاتھ میں ایک پتلی فائل۔ اس کی چال میں آج کچھ الگ تھا — تھوڑی سی ہچکچاہٹ۔

اسود: حنا حیات حیام یوسفزئی۔

اس نے فائل میز پر رکھی اور کھولی۔ پہلا پیج خالی تھا۔ بالکل خالی۔

اسود: ڈیجیٹل دنیا میں اس کا کوئی نشان نہیں۔ کوئی فوٹو نہیں۔ کوئی ایڈریس نہیں۔ کوئی سوشل میڈیا نہیں۔ صرف نام۔۔۔ اور یہ کمپنی۔

اسود نے اگلا پیج پلٹا۔

اسود: لائف لوپ۔ ۳۴۰ ملین ایکٹو یوزرز۔ آج اس نے ۲ بلین ڈالر کا انویسٹمنٹ ریجیکٹ کر دیا۔۔۔ صرف اس لیے کیونکہ انویسٹرز یوزر ڈیٹا چاہتے تھے۔

حدید کی آنکھیں فائل پر تھیں۔ کوئی ایکسپریشن نہیں تھا۔

اسود: بلیک ہول اسپیس کمپنی بھی اسی کی ہے۔ لو ارتھ اوربٹ ڈیبری کلیننگ۔ ایگزیکٹلی وہی ٹیریٹری جو ہم کور کر رہے ہیں۔

اسود نے فائل کا آخری پیج کھولا اور حدید کی طرف گھما دیا۔

اسود: اور یہ۔۔۔ سب سے انٹرسٹنگ بات۔ پیج پر سپلائر کا نام صاف تھا: ساران انڈسٹریل — سبسیڈیری آف حدید ساران انٹرپرائزز

اسود: وہ پہلے سے ہم سے مٹیریل خرید رہی ہے۔ جانے انجانے میں۔

لمبی خاموشی۔ حدید نے پیج کو دیکھا۔ پھر دھیرے سے اپنی انگلی اس نام پر رکھی — صرف ایک سیکنڈ کے لیے۔ جیسے اس نے کسی چیز کو مارک کر دیا ہو۔ پھر اس نے فائل کو دھیرے سے اسود کی طرف دھکیل دیا۔ اسود نے فائل اٹھائی۔ اس کے چہرے پر پہلی بار کچھ ہیسی ٹیشن دکھا۔

اسود: (ہیسی ٹینٹلی) ۔۔پوری کمپنی؟

حدید نے صرف ایک بار آنکھیں بند کیں — اور کھول دیں۔

اسود: (نرم سانس لیتے ہوئے) ٹھیک ہے۔

اسود دروازے کی طرف مڑا، لیکن رک گیا۔ پیٹھ حدید کی طرف۔

اسود: (کوائٹلی) وہ عورت۔۔۔ ایسی نہیں لگتی جو آسانی سے ٹوٹ جائے۔

حدید نے کچھ نہیں کہا۔ صرف شیشے کے باہر جلتی ہوئی لائٹس دیکھتا رہا۔ اسود نے دروازہ بند کیا۔ حدید اکیلا رہ گیا۔ میز پر ہاتھ ابھی بھی ایک دوسرے سے دور تھے۔ لیکن اس کی انگلیاں دھیرے دھیرے ٹیبل پر ٹیپ کرنے لگیں — بالکل دھیرے، بالکل ڈیلیبریٹ۔ حدید اکیلا تھا۔ مین ہٹن کی لائٹس اب شیشے میں اس کا عکس توڑ رہی تھیں۔ اس نے لیپ ٹاپ کھولا۔ ایک انکرپٹڈ فولڈر۔ کوئی نام نہیں۔ صرف ایک ڈیٹ — ۲۷.۰۸.۲۰۰۳ حدید کی انگلی اسکرین پر اس تاریخ تک گئی۔ رکی۔ لمبی خاموشی۔ پھر — فولڈر اوپن ہوا۔.

Comments