Chapter 5 of 6
بند راستے
قسط ۵:
انٹیریئر۔ جنیوا ہوٹل — حنا کا کمرہ — صبح
باہر جنیوا تھی — سرمئی آسمان اور شدید ٹھنڈ۔ حنا تیار ہو رہی تھی۔ عبایا، نقاب۔ آئینے میں نہیں دیکھا — یہ اس کا معمول تھا۔ شمائزہ ایک طرف کھڑی تھی۔ ہاتھ میں فائل تھی۔
شمائزہ: نارتھ اینٹرنس آج ریسٹرکٹڈ ہے — سمٹ سیکیورٹی نے روٹ چینج کیا ہے۔ ایسٹ سائیڈ سے جائیں گے۔
حنا: کتنا وقت زیادہ لگے گا؟
شمائزہ: سات منٹ۔
حنا نے نقاب ٹھیک کیا۔ رکی — ایک سیکنڈ۔ ہاتھ آئینے کے سامنے لائی — ہلکا سا۔ پھر ہاتھ نیچے آ گیا۔
حنا: ٹھیک ہے۔
شمائزہ نے فائل بند کی۔
شمائزہ: (ہلکے سے) نیند ہوئی؟
حنا: (دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے) چلو۔
شمائزہ نے ایک بار دیکھا — پھر پیچھے چلی گئی۔ دروازہ بند ہوا۔ کمرے میں صرف وہ ایک سیکنڈ رہ گیا — جب ہاتھ رکا تھا۔
انٹیریئر۔ جنیوا ہوٹل — حدید کا کمرہ — صبح
کمرہ بڑا تھا۔ باہر جنیوا جھیل تھی — ساکت اور سرمئی۔ حدید ساران میز پر بیٹھا تھا۔ سامنے کچھ نہیں تھا — صرف اس کے ہاتھ۔ اسود دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ جیکٹ پہنے ہوئے۔ بالکل تیار۔
اسود: سمٹ کا دوسرا دن۔ اوپننگ سیشن میں تین حکومتوں نے رات بھر میں الگ پوزیشن لی ہے۔ یورپین اسپیس ایجنسی نے انفارمل میٹنگ مانگی ہے — آج شام۔
حدید ساران کی نظر میز پر جمی تھی۔
اسود: حنا حیات کی آج دو پریزنٹیشنز ہیں۔ ڈی سینٹرلائزڈ روٹنگ اور سیٹلائٹ گورننس۔
خاموشی۔ حدید نے میز پر رکھا پین اٹھایا — کیپ بند کی۔ رک گیا۔
حدید: پروپوزل بھیجو۔
اسود نے ایک سیکنڈ لیا۔
اسود: ٹھیک ہے۔
دروازہ بند ہوا۔ حدید اکیلا تھا۔ ہاتھ میں پین تھا — کیپ بند، کھول، بند۔ باہر جھیل اب بھی ویسی ہی ساکت تھی۔
انٹیریئر۔ جنیوا ہوٹل — حنا کا عارضی آفس — دن
چھوٹا کمرہ تھا۔ ایک میز، لیپ ٹاپ اور فائلز۔ شیشے کے اس پار شہر بالکل خاموش لگ رہا تھا۔ سارہ اندر آئی۔
سارہ: اینکرپٹڈ فائل آئی ہے۔ سینڈر — اسود کثیر۔
حنا نے اوپر دیکھا۔ پھر واپس اسکرین پر۔
حنا: بھیجو۔
سارہ نے فارورڈ کیا۔ دروازہ بند ہوا۔ حنا نے فائل کھولی —
SARAN ENTERPRISES — JOINT INFRASTRUCTURE INITIATIVE CONFIDENTIAL — FOR REVIEW
کور پیج۔ پروفیشنل اور کلین۔ پہلا سیکشن — ریسورس شیئرنگ۔ اسٹینڈرڈ لینگویج۔ پرسنٹیجز، ٹائم لائنز، ڈیلیوریبلز۔ حنا نے اسکرول کیا۔ دوسرا سیکشن — سیٹلائٹ کوآرڈینیشن۔ قابلِ فہم اور متوقع۔ تیسرا سیکشن — کراس بارڈر روٹنگ سنکرونائزیشن۔ حنا رکی۔ واپس گئی — دوسرا سیکشن۔ ایک کلاز کا موازنہ کیا۔ پھر تیسرے سیکشن پر آئی۔ روٹنگ سنکرونائزیشن۔ ایمرجنسی پروٹوکولز۔ یونیفائیڈ اوور سائیٹ۔ الگ الگ پیجز — لیکن ایک ہی سمت۔ حنا نے فائل اسکرول کرنا بند کی۔ پہلے پیج پر واپس آئی — کور پیج۔ ٹائٹل پڑھا:
JOINT INFRASTRUCTURE INITIATIVE
پھر آخری پیج کا فائن پرنٹ دیکھا۔ ایک کلاز پر نظریں ٹھہر گئیں:
"Emergency routing authority may be temporarily centralized under unified operational oversight during regional infrastructure instability."
حنا نے وہ لائن تین بار پڑھی۔ پہلی بار — الفاظ۔ دوسری بار — اسٹرکچر۔ تیسری بار — اصل ارادہ۔
لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا۔ ایک خالی پیج نکالا۔ پین اٹھایا۔ کچھ نہیں لکھا — بس پین ہاتھ میں رہا۔ پھر صرف ایک فریز لکھا:
EXIT DEPENDENCY
پین رکھ دیا۔ وہ پیج فائل سے الگ کر کے رکھا۔ کھڑکی کی طرف دیکھا۔ باہر روشنی تھی — لیکن دھوپ نہیں۔ اتنی دیر بعد پہلی بار ایک ہلکی سی گہری سانس لی۔ جیسے کافی دیر سے سانس روکی ہوئی ہو۔
انٹیریئر۔ جنیوا سمٹ — کوریڈور — دن
پینل بریک تھا۔ کوریڈور میں ایکسپرٹس تھے — کچھ فونز پر، کچھ آپس میں گفتگو میں مصروف۔ کافی کپس۔ بیجز۔ وہ گفتگو جو صرف کانفرنسز میں ہوتی ہے — آدھی رسمی، آدھی مفروضوں پر مبنی۔ حنا ایک طرف کھڑی تھی۔ پانی کا گلاس ہاتھ میں تھا — لیکن پیا نہیں تھا۔ شمائزہ تھوڑی دور کھڑی لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ ایگزٹس نوٹ کر رہی تھی۔ کام جاری تھا۔ ارقم مروان دوسری طرف سے ایک ایکسپرٹ کے ساتھ آیا۔ دھیمے لہجے اور سنجیدہ تاثرات کے ساتھ بات کرتے ہوئے۔
ارقم: (ایکسپرٹ سے) کافی دلچسپ زبان تھی۔
ایکسپرٹ: کس لحاظ سے؟
ارقم: ایمرجنسی پاورز کبھی عارضی نہیں رہتیں۔
ایکسپرٹ نے ایک سیکنڈ سوچا، سر ہلایا اور آگے بڑھ گیا۔ ارقم رکا — نوٹ پیڈ نکالا، کچھ لکھا۔ پھر نظر اٹھائی تو حنا کوریڈور میں دکھائی دی۔ ارقم نے نوٹ پیڈ بند کیا اور اس کی طرف بڑھا۔
ارقم: مس حیات۔ آج کا سیشن کیسا لگا؟
حنا: انفارمیٹو۔
ارقم: (ہلکے سے) صرف انفارمیٹو؟
حنا نے پانی کا گلاس میز پر رکھا۔
حنا: آپ کیا سننا چاہتے ہیں، مسٹر مروان؟
ارقم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی — وہ جو کیمروں کے لیے نہیں تھی۔
ارقم: سچ۔
حنا: تو آپ صحیح جگہ پر نہیں ہیں۔
ارقم کچھ کہنے والا تھا — لیکن حنا پہلے ہی شمائزہ کی طرف بڑھ چکی تھی۔ شمائزہ نے ایک بار ارقم کا جائزہ لیا اور پھر حنا کے ساتھ آگے چلی گئی۔ ارقم وہیں کھڑا رہا، ہاتھ میں نوٹ پیڈ لیے۔ پھر اس نے کچھ اور نوٹ کیا۔
انٹیریئر۔ جنیوا ہوٹل — حنا کا عارضی آفس — شام
سمٹ ختم ہو چکی تھی۔ باہر شہر کی روشنیاں جلنے لگی تھیں۔ حنا میز پر بیٹھی تھی۔ سامنے وہی خالی پیج رکھا تھا جس پر لکھا تھا:
EXIT DEPENDENCY
لیپ ٹاپ کھولا۔ فائل دوبارہ کھولی — صرف آخری کلاز پر:
"Emergency routing authority may be temporarily centralized..."
پھر فائل بند کر دی۔ ایک نیا ڈاکومنٹ کھولا۔ بلینک۔ کرسر بلنک کر رہا تھا۔ حنا نے لکھا: "جوائنٹ انفراسٹرکچر نہیں، کنڈیشنل ایکسیس فریم ورک۔" رکی۔ اسے ڈیلیٹ کیا۔ پھر صرف ایک لائن لکھی:
"آپ انفراسٹرکچر نہیں بناتے — آپ راستے بند کرتے ہیں۔"
اس نے یہ لائن دوبارہ نہیں پڑھی۔ ایک اینکرپٹڈ ریپلائی ڈرافٹ کیا۔ صرف وہی ایک لائن۔ کوئی رسمی سلام نہیں، کوئی سگنیچر نہیں۔ سینڈ۔ لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ باہر روشنیاں اب پوری طرح جل چکی تھیں۔ شہر بالکل منظم لگ رہا تھا — ہر روشنی اپنی جگہ پر۔ حنا نے ایک بار کھڑکی کی طرف دیکھا، پھر وہ پیج دراز میں رکھ دیا۔
انٹیریئر۔ جنیوا ہوٹل — حدید کا کمرہ — رات
اسود اندر آیا۔ ہاتھ میں فون تھا۔
اسود: جواب آ گیا ہے۔
حدید ساران نے اوپر دیکھا — اس شام پہلی بار۔ اسود نے فون میز پر رکھا۔ اسکرین حدید کی طرف تھی۔ وہاں صرف ایک لائن تھی:
"آپ انفراسٹرکچر نہیں بناتے — آپ راستے بند کرتے ہیں۔"
حدید نے پڑھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی۔ پھر وہ اٹھا اور کھڑکی کی طرف چلا گیا۔ باہر جنیوا کی روشنیاں تھیں۔ ایک لمبی خاموشی چھا گئی۔
اسود: (دھیرے سے) جواب دیں؟
حدید: نہیں۔
اسود نے فون اٹھایا اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔ دروازہ بند ہوا۔ حدید کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا — لیکن اس بار کھڑکی کے باہر نہیں دیکھ رہا تھا۔ فون اسکرین کی وہ ایک لائن ابھی تک اس کے ذہن میں گونج رہی تھی۔
انٹیریئر۔ جنیوا ہوٹل — حدید کا کمرہ — رات
اسود جا چکا تھا۔ حدید ساران کرسی پر بیٹھا تھا۔ سامنے صرف خالی میز تھی۔ ایک ہاتھ آرم ریسٹ پر تھا اور دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا کان کی لو کے پیچھے اور شہادت کی انگلی آگے، بالکل آہستہ۔ یہ وہ انداز تھا جو تب ظاہر ہوتا تھا جب کچھ گہرا اثر کر جائے۔
"آپ راستے بند کرتے ہیں۔"
اتنی کمپنیاں، اتنے لوگ، اتنے سسٹمز۔ آج تک کسی نے یہ بات اس کے منہ پر نہیں کہی تھی۔ ایک لائن کا اینکرپٹڈ جواب، بغیر کسی نام کے۔ انگوٹھا کان کی لو پر ٹکا رہا۔ باہر کی تمام روشنیاں اپنی جگہ پر ساکت تھیں۔
Hadeed: (barely audible) Interesting.
انٹیریئر۔ جنیوا ہوٹل — حنا کا کمرہ — رات
کمرہ اندھیرا تھا، صرف بیڈ سائیڈ لیمپ جل رہا تھا۔ حنا سمٹ پیپرز کا جائزہ لے رہی تھی۔ ایک پیج پڑھ کر سائیڈ پر رکھا، دوسرا اٹھایا۔ اچانک میز پر رکھے فون کا ڈسپلے جل اٹھا۔ حنا نے ایک بار دیکھا، پھر واپس پیج پر نظریں جما لیں۔ لیکن پھر دوبارہ فون کی طرف دیکھا اور اسے اٹھا لیا۔ ایک اینکرپٹڈ نوٹیفکیشن تھا، کسی نامعلوم نمبر سے۔ وہاں صرف ایک لائن لکھی تھی:
"Mr. Saran doesn't send second offers."
حنا کافی دیر تک اسکرین کو دیکھتی رہی۔ باہر جھیل کی سطح پر دور کی روشنیوں کا مدہم عکس بالکل ساکت تھا، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ حنا نے فون نیچے رکھ دیا۔ پیپرز ایک طرف کیے۔ کوئی جواب نہیں دیا۔ لیمپ بند کیا۔ کمرے میں اندھیرا پھیل گیا — لیکن فون کا ڈسپلے تھوڑی دیر جلتا رہا، اور پھر وہ بھی بجھ گیا۔