Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 4 of 6

دو نام، ایک چہرہ

قسط ۴:

انٹیریئر۔ حدید ساران انٹرپرائزز — مین ہٹن — دن

شیشے کے باہر دن تھا۔ حدید ساران میز پر بیٹھا تھا۔ سامنے ایک ٹیبلٹ — نمبرز، پروجیکشنز۔ اسود کھڑا تھا — جیکٹ کی ایک سلیو پر ہاتھ — ہلکا سا، جیسے کوئی لنٹ ہٹا رہا ہو۔ وہ انداز جو تب آتا ہے جب ایجنڈا زیادہ ہو اور وقت کم۔

اسود: جنیوا۔ ورلڈ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سمٹ۔ اگلے ہفتے۔ سائبر ساورنٹی، سیٹلائٹ ریگولیشن، ڈیٹا گورننس — تین دن کا ایجنڈا ہے۔

حدید نے ٹیبلٹ سے نظر نہیں ہٹائی۔

اسود: ۳۴ ایکسپرٹس۔ ۱۲ ممالک۔ یو این کی طرف سے فارملی کنوینڈ ہے۔

بیٹ۔

اسود: آپ کو اوپننگ سیشن میں پریزنٹ کرنا ہے — پرائیویٹ انفراسٹرکچر کا رول۔

حدید نے ٹیبلٹ میز پر رکھ دی۔ اسود نے سمجھ لیا — میٹنگ کنفرم ہے۔

اسود: میں ارینجمنٹس کرتا ہوں۔

دروازہ بند ہوا۔

انٹیریئر۔ بلیک ہول ایچ کیو — حنا کا آفس — پاکستان — دن

باہر کنسٹرکشن کی ہلکی آواز تھی۔ حنا کام میں تھی — کیلکولیشنز، پروجیکشنز۔ دروازہ کھلا۔ سارہ — ۲۶ سال، حنا کی پی اے — اندر آئی۔ ہاتھ میں ایک اینویلپ۔

سارہ: جنیوا سے انویٹیشن آیا ہے۔ ورلڈ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سمٹ — اگلے ہفتے۔ یو این کی طرف سے فارملی کنوینڈ۔

حنا نے اوپر نہیں دیکھا۔

سارہ: ۳۴ ایکسپرٹس۔ آپ اکیلی انوائٹڈ ہیں اس کیٹیگری میں۔

حنا نے کام بند کیا۔ اینویلپ لیا۔ کھولا — صرف ایک پیج۔ پڑھا۔

سارہ: جواب کل تک دینا ہوگا۔

حنا نے پیج فولڈ کیا۔ اینویلپ میز پر رکھا۔

حنا: کنفرم کر دو۔

سارہ چلی گئی۔ دروازہ بند ہوا۔ حنا کی نظر اینویلپ پر رہی — ایک سیکنڈ۔ دو سیکنڈ۔ پھر وہ واپس کام کی طرف مڑی۔

انٹیریئر۔ بلیک ہول ایچ کیو — حنا کا آفس — رات

آفس خالی تھا۔ باہر کنسٹرکشن بھی خاموش ہو چکی تھی۔ سارہ اندر آئی — فائلز ہاتھ میں۔

سارہ: آج کی سائنڈ کاپیز۔

حنا نے سر ہلایا۔ سارہ فائلز میز پر رکھ کر چلی گئی۔ دروازہ بند ہوا۔ حنا نے پہلی فائل کھولی۔ سگنیچر پہلے سے موجود تھا — حنا حیات حیام یوسفزئی۔ اس نے سائیڈ دراز کھولی۔ اندر ایک اور پین تھا — مختلف اور پرانا۔ کاپی پر جھکی۔ لکھا۔ سائن سیم تھا — لیکن بالکل سیم نہیں۔ ایک ہلکا سا فرق — اتنا چھوٹا کہ صرف وہ جانتی تھی کہاں تھا۔ اس نے فائل بند کی۔ دوسری کھولی۔ پھر تیسری۔ سیم پروسیس۔ ہر بار۔ کوئی جلدی نہیں، کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ جیسے یہ بھی معمول کا حصہ تھا۔ پھر ایک فائل پر نظر رکی — تھوڑی دیر زیادہ۔ اس نے اس کاپی کو باقی سے الگ رکھا۔ دراز بند کی، پین اندر رکھا۔ اٹھی اور لائٹس بند کر دیں۔ میز پر فائلز دو الگ الگ گروپس میں رکھی تھیں۔

انٹیریئر۔ جنیوا سمٹ وینیو — سوئٹزرلینڈ — دن

بلڈنگ یو این اسٹائل کی تھی — ماربل فلورز، اونچی چھتیں، شیشے کے پینلز۔ کوریڈور میں ایکسپرٹس تھے — سوٹس، بیجز، گفتگو۔ الگ الگ زبانیں، الگ الگ ایجنڈے۔ حدید ساران اندر آیا۔ اسود ایک قدم پیچھے۔ کچھ لوگ رکے — ہلکا سا، جیسے کمرے کا پریشر شفٹ ہوا ہو۔ حدید نے نوٹس نہیں کیا — یا شاید پرواہ نہیں تھی۔ اسود نے بیجز کلیکٹ کیے۔ حدید کے ہاتھ میں دیا۔ حدید نے بیج دیکھا — پہنا نہیں۔ اسود نے سمجھ کر اسے پاکٹ میں رکھ لیا۔ دونوں آگے بڑھے — رجسٹریشن ڈیسک کی طرف۔

رجسٹریشن آفیسر: مسٹر ساران — ویلکم۔ سیشن اے میں آپ کا کینوٹ—

حدید آگے بڑھ گیا۔ اسود رکا۔

اسود: (آفیسر کو) ڈیٹیلز ای میل کر دیں۔

دونوں کوریڈور میں تھے — اسائنڈ ہال کی طرف بڑھتے ہوئے۔ حدید کی نظر ایک بار پورے اسپیس پر گئی — ایکسپرٹس، اسکرینز، ایجنڈے۔ سب مرد تھے۔ حدید آگے بڑھ گیا۔

انٹیریئر۔ جنیوا سمٹ وینیو — سوئٹزرلینڈ — دن

کوریڈور ایکسپرٹس سے بھرا تھا۔ حنا اندر آئی — نقاب، عبایا — کالا۔ شمائزہ ایک قدم پیچھے — نظر کوریڈور پر، ایگزٹس پر، لوگوں پر۔ رجسٹریشن ڈیسک پر آفیسر نے اوپر دیکھا — ایک سیکنڈ۔

آفیسر: مس حیات — ویلکم۔ آپ کا سیشن بی میں—

حنا: شکریہ۔

بیج لیا۔ نام دیکھا۔ پاکٹ میں رکھا اور آگے بڑھ گئی۔ کوریڈور میں کچھ ایکسپرٹس کی آوازیں دھیمی ہو گئیں — ایک نے ہلکے سے کہا:

ایکسپرٹ: (دھیرے سے، اپنے ساتھ والے کو) حنا حیات۔۔۔

رک کر دیکھنا تھا — لیکن تجسس نہیں تھا، پہچان تھی۔ حنا کی نظر ایک بار پوری جگہ پر گئی — ہال، اسکرینز، لوگ۔ پھر بغیر رکے آگے بڑھ گئی۔ شمائزہ پیچھے تھی۔ اس کی نظر ایک جگہ ٹک گئی — ہال کے دوسری طرف حدید ساران تھا، پیٹھ اس طرف تھی اور اسود ساتھ تھا۔ شمائزہ نے ایک سیکنڈ میں صورتحال کا جائزہ لیا اور پھر حنا کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔

انٹیریئر۔ سمٹ مین ہال — جنیوا — دن

ہال بڑا تھا۔ اسکرینز پر گلوبل انفراسٹرکچر میپس تھے۔ ٹرانسلیٹرز ایئرپیسز میں سن رہے تھے۔ ایکسپرٹس اپنی سیٹس پر موجود تھے — فولڈرز، ٹیبلٹس، پینز۔ اسٹیج پر ایک ماڈریٹر تھا — یو این کا مقرر کردہ، نیوٹرل، اکیڈمک بیک گراؤنڈ کے ساتھ۔ حدید ساران ایک طرف بیٹھا تھا — اسود ایک قدم پیچھے۔ آڈینس میں — ارقم مروان بھی تھا، سول سوسائٹی آبزرور کے طور پر۔ نوٹ پیڈ ہاتھ میں تھا اور پین خاموشی سے چل رہا تھا۔ دروازے کھلے۔ حنا اندر آئی۔ شمائزہ پیچھے — نظر ایگزٹس پر، لوگوں پر۔ اسود نے نوٹس کیا اور ایک بار حدید کی طرف دیکھا۔ حدید کی نظر اسٹیج پر ہی رہی۔ کچھ ایکسپرٹس ہلکا سا مڑے۔ ماڈریٹر کا روانی والا تسلسل ایک پل کو رکا۔ حنا نے اپنی سیٹ لی — حدید کے بالکل دوسری طرف۔ ہاتھ میز پر۔ ارقم نے آڈینس میں سر اٹھایا — دونوں کو دیکھا — پھر نوٹ پیڈ پر نظریں جما لیں۔

Moderator: We're honored to have Ms. Hina Hayat joining our panel today.

کچھ لوگ مڑے۔ کچھ پہلے سے جانتے تھے۔ پینل جاری رہا۔

ماڈریٹر: مسٹر ساران — پرائیویٹ انفراسٹرکچر کا فیوچر؟

حدید: کنٹرول ان کے پاس ہونا چاہیے جو سسٹم اسٹیبل رکھ سکیں۔ انسٹیبلٹی ایکسپینسیو ہوتی ہے — سب کے لیے۔

ہال نے سنا۔

ماڈریٹر: مس حیات؟

حنا نے ایک سیکنڈ لیا۔

حنا: انفراسٹرکچر صرف کنٹرول کا نام نہیں ہوتا۔ ٹرسٹ بھی آرکیٹیکچر کا حصہ ہوتا ہے۔

کمرے میں کچھ بدلا — بہت باریک سا۔ کوئی ڈراما نہیں، بس ایک واضح شفٹ۔ ارقم نے نوٹ پیڈ پر کچھ لکھا — جلدی سے، پھر رک گیا۔ حدید ساران کی نظر پہلی بار حنا کی طرف آئی۔ ایک سیکنڈ کے لیے — ایک مشاہداتی نظر۔ پھر واپس ماڈریٹر پر چلی گئی۔

انٹیریئر۔ سمٹ مین ہال — جنیوا — دن — تسلسل

پینل جاری تھا۔

ماڈریٹر: ڈیٹا گورننس کی فائنل اتھارٹی کس کے پاس ہونی چاہیے؟

Hadeed: Those capable of protecting it.

کچھ سر ہلے۔

ماڈریٹر: مس حیات؟

حنا: پروٹیکشن اور اونرشپ ایک چیز نہیں ہوتی۔

کمرے میں وہی باریک سا احساس دوبارہ ابھرا۔ ماڈریٹر آگے بڑھ گیا۔ ارقم نے نوٹ پیڈ پر کچھ نوٹ کیا۔

انٹیریئر۔ سمٹ — بریک ایریا — تھوڑی دیر بعد

ایکسپرٹس ادھر ادھر تھے۔ کافی، گفتگو، فونز۔ حنا ایک طرف کھڑی تھی — پانی کا گلاس ہاتھ میں لیے۔ حدید ساران سامنے آ گیا۔ کوئی ڈرامیٹک انٹری نہیں، بس سیدھا آ کر کھڑا ہو گیا۔

حدید: مس حیات۔

حنا: مسٹر ساران۔

بیٹ۔

حدید: آپ ٹرسٹ کی بات کرتی ہیں۔ سسٹمز ٹرسٹ پر نہیں چلتے۔

حنا: غلط سسٹمز نہیں چلتے۔

کوئی جواب نہیں۔ کوئی کاؤنٹر نہیں۔ حدید نے ایک سیکنڈ لیا — مشاہداتی انداز میں۔ پھر آگے بڑھ گیا۔ حنا نے پانی کا گلاس نیچے رکھ دیا۔

کٹ ٹو — سمٹ وینیو — باہر — شام

اسود حدید کے ساتھ تھا۔

اسود: (ہلکے سے) کیسا لگا؟

حدید چلتا رہا — رکا نہیں۔

حدید: ایکسپیکٹڈ سے زیادہ ڈسپلنڈ۔

کٹ ٹو — حنا کا کمرہ — جنیوا ہوٹل — رات

شمائزہ دروازے پر تھی۔

شمائزہ: کیسا لگا؟

حنا نے جیکٹ رکھی۔ ایک سیکنڈ کا توقف کیا۔

حنا: وہ وہی نہیں جو دنیا سمجھتی ہے۔

انٹیریئر۔ جنیوا ہوٹل — حنا کا کمرہ — رات

کمرہ چھوٹا تھا۔ سوٹ کیس ایک طرف رکھا تھا۔ باہر جنیوا کی روشنیاں تھیں۔ شمائزہ جا چکی تھی۔ حنا بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی۔ کچھ نہیں کر رہی تھی — بس ساکت بیٹھی تھی۔ پھر لیپ ٹاپ اٹھایا۔ کھولا۔ سرچ بار میں لکھا: HAYA

نتائج سامنے آئے — ہزاروں۔ نام، چہرے، پروفائلز۔ الگ الگ ممالک، الگ الگ زندگیاں۔ حنا نے اسکرین دیکھی — ایک نمبر تھا کہ دنیا میں کتنی 'حیا' موجود ہیں۔ اس کی انگلی اسکرین پر آئی — نمبر پر آ کر رکی۔

حنا: (دھیرے سے، صرف اپنے آپ سے) ایک اور حیا ہو سکتی تھی۔۔۔

لیپ ٹاپ بند نہیں کیا۔ وہ وہیں رہا — اسکرین جلتی رہی۔ حنا نے پیچھے ٹیک لگا لی — ایک ہاتھ ماتھے پر۔ تھکن تھی — پر وہ تھکن نہیں جو نیند سے چلی جائے۔ اسکرین مدہم ہونے لگی، سرچ کے نتائج دھندلا گئے۔ اور اسکرین کے ریفلیکشن میں صرف حنا کا چہرہ رہ گیا۔

دو نام۔ ایک چہرہ۔ حنا نے دھیرے سے آنکھیں بند کر لیں۔ جیسے ایک سیکنڈ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہو کہ کون زندہ ہے اور کون نہیں۔

Comments