Chapter 5 of 5
بے رنگ محل اور شوخ آفت کی دستک
ناول: عشقِ آفت
رات کی اس سنگین داستاں کے بعد، پینٹ ہاؤس کی فضاؤں میں ایک عجیب سا بھاری پن موجود تھا۔ سورج کی پہلی کرن نے جب کانچ کی دیواروں سے جھانک کر اندر قدم رکھا، تو اسے ہمیشہ کی طرح ہر چیز ترتیب سے نہیں ملی۔ لاؤنج کی دیوار پر موجود وہ دراڑ، جہاں کل رات اخنس نے غصے میں بوتل ماری تھی، اس گھر کی بدلتی ہوئی قسمت کا نیا نشان تھی۔
اخنس سفیر اپنے کمرے میں موجود تھا۔ وہ تیار ہو چکا تھا—سیاہ شرٹ، گہرے سلیٹی رنگ کی پینٹ اور ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر ایک سنگین خاموشی۔ اس نے اپنی کلائی پر گھڑی باندھی اور آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا۔ کل رات مریم کی کہی ہوئی بات اس کے دماغ میں کسی پرانے ریکارڈ کی طرح بج رہی تھی۔
"میں تو پچھلے اٹھارہ سال سے جہنم میں ہی تھی... میرے لیے آپ کا یہ غصہ موت نہیں، زندگی ہے۔"
اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنے جذبات کو ایک گہری تہہ میں دفن کر دیا۔ اس کا کام جذباتی ہونا نہیں، مسئلے حل کرنا تھا۔ مگر وہ لڑکی... وہ خود ایک ایسا مسئلہ تھی جس کا کوئی حل اخنس کی دنیا میں نہیں تھا۔
دروازہ کھول کر وہ لاؤنج میں آیا تو اس کی ناک سے ایک عجیب و غریب مہک ٹکرائی۔ یہ مہک مہنگے پرفیوم کی نہیں تھی، بلکہ یہ جلتے ہوئے مصالحوں اور انڈوں کی تھی۔ اخنس کے قدم کچن کی طرف بڑھے۔ وہاں کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ایک جھٹکا سا آیا۔
مریم کچن کے کاؤنٹر پر کھڑی تھی۔ آج اس نے اپنے اسٹالر کو ایک نئے مقصد کے لیے استعمال کیا تھا۔ اس نے اسے اپنی کمر پر نہایت مضبوطی سے باندھ کر ایک ایپرن (پیش بند) بنایا ہوا تھا، جس کا ایک سرا اس کے کندھے سے ہوتا ہوا پیچھے جا رہا تھا۔ اس نے اپنے بال ایک اونچی پونی ٹیل میں باندھے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک چمچ تھا جس سے وہ پین میں موجود کسی چیز کو نہایت جذبے سے ہلا رہی تھی۔ کچن کا فرش، جو کل تک چمک رہا تھا، آج وہاں بیسن اور مرچ کے کچھ دانے بکھرے ہوئے تھے۔
"یہ... کیا... ہو رہا ہے؟" اخنس کی آواز کسی تلوار کی کاٹ کی طرح گونجی۔
مریم اچھلی اور تیزی سے مڑی۔ اس کے ناک پر تھوڑا سا بیسن لگا ہوا تھا جو اس کے سفید رنگ پر نمایاں تھا۔ "اوہو! شیطان صاحب، آپ تو ہمیشہ ڈرانے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں؟ دیکھیے، میں آپ کے لیے 'مریم اسپیشل ناشتہ' بنا رہی ہوں۔ آپ کی وہ پھیکی بریڈ کھا کھا کر تو میرا دماغ بھی وائٹ بریڈ جیسا ہو گیا ہے،" مریم نے چمچ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا۔
اخنس کچن کے اندر داخل ہوا۔ اس کا ہر قدم مریم کے لیے ایک وارننگ تھی، مگر وہ ڈھٹائی سے مسکراتی رہی۔ اخنس نے کاؤنٹر پر پھیلی ہوئی گندگی کو دیکھا اور پھر مریم کے اسٹالر والے ایپرن کو۔ "میرا کچن... جہنم بن چکا ہے،" اخنس نے نہایت ہی سرد لہجے میں کہا۔ اس نے مریم کے ہاتھ سے چمچ چھینا اور پین کو چولہے سے ہٹا دیا۔
"ارے! وہ پکنے والا تھا! اتنی محنت کی تھی میں نے،" مریم نے منہ بنایا۔
اخنس نے مریم کی ٹھوڑی اپنی دو انگلیوں سے پکڑی اور اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کی آنکھیں اس وقت سنگین تھیں۔ "میں نے کہا تھا... میری کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔ یہ کچن، یہ گھر، یہ اصول... سب میرے ہیں۔ تمہیں یہاں صرف رہنے کی اجازت دی ہے، تباہی مچانے کی نہیں۔"
مریم نے اپنی آنکھیں تھوڑی سیکوریں اور اخنس کی شرٹ کا وہ کالر ٹھیک کیا جو تھوڑا سا مڑا ہوا تھا۔ "آپ اتنے 'کلین فریک' (صفائی کے شوقین) کیوں ہیں اخنی؟ تھوڑی سی گندگی زندگی کا نشان ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی، آپ کا یہ گھر اتنا صاف ہے کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہیں میں یہاں پھسل کر مر نہ جاؤں۔ کم از کم بیسن گرا ہوگا تو گرفت تو رہے گی نا!"
اخنس نے اسے جھٹکے سے چھوڑا۔ اس نے کچن کے دراز سے ایک صاف کپڑا نکالا اور مریم کی طرف پھینکا۔ "صاف کرو۔ ایک ایک ذرہ صاف ہونا چاہیے۔ اور یہ جو تم نے اپنے سر و پا پر یہ کپڑا یعنی اسٹالر لپیٹا ہے، اسے اتارو۔ یہ میرا کچن ہے، کوئی کباڑی کی دکان نہیں۔"
"یہ کپڑا نہیں ہے، یہ میری شان ہے! اور میں صاف نہیں کروں گی۔ میں مہمان ہوں آپ کی،" مریم نے کاؤنٹر پر بیٹھتے ہوئے اپنے پاؤں ہوا میں جھلا دیے۔
اخنس نے ایک قدم آگے بڑھایا اور مریم کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر کاؤنٹر پر جھک گیا۔ مریم اب اخنس کے حصار میں تھی۔ "مہمان؟ تم ایک گواہ ہو مریم۔ اور گواہوں کو اکثر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ اگر تم چاہتی ہو کہ میں اپنا طریقہ کار تبدیل نہ کروں... تو جو میں نے کہا ہے وہ کرو۔"
مریم نے اخنس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں ڈر کے بجائے ایک عجیب سی چمک آئی۔ اس نے اپنا اسٹالر جو ایپرن بنا ہوا تھا، اس کا ایک کونا اٹھایا اور اخنس کی ناک کے پاس لے گئی۔ "آپ کے چہرے پر تھوڑا سا غصہ لگا ہے، صاف کر دوں؟" اس نے نہایت معصومیت سے پوچھا۔
اخنس نے پہلی بار اپنی نظریں چرائیں۔ وہ پیچھے ہٹا اور نہایت ہی روڈ لہجے میں بولا، "دس منٹ ہیں تمہارے پاس۔ اگر یہ کچن صاف نہ ہوا، تو تم شام کا ناشتہ اسٹوریج روم میں کروگی۔"
دوپہر کے وقت اخنس اپنے آفس میں بیٹھا کسی پراسرار فائل کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اس کے فون پر ایک کال آئی۔ "بولو،" اخنس نے مختصر کہا۔
"صاحب... کل رات ویئر ہاؤس والا معاملہ تھوڑا خراب ہو گیا ہے۔ وہ لڑکی... کسی نے اسے دیکھ لیا تھا۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اخنس سفیر کے ساتھ وہ 'چھوٹی آفت' کون تھی؟"
اخنس نے اپنی مٹھی بھینچ لی۔ "کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے کہ وہ کہاں ہے۔ جو بھی پوچھے، اسے خاموش کر دو۔"
اچانک آفس کا دروازہ کھلا۔ مریم اندر داخل ہوئی، اس کے ہاتھ میں ایک پرانی ڈائری تھی جو اسے لاؤنج کی کسی دراز سے ملی تھی۔ "یہ کیا ہے؟" مریم نے ڈائری اخنس کی میز پر رکھی۔
اخنس نے ڈائری دیکھی اور اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ ڈائری اس کے ماضی کی تھی—اس ماضی کی جسے اس نے دفن کر دیا تھا۔ اس نے جھٹکے سے ڈائری مریم کے ہاتھ سے چھینی۔ "تمہیں... یہ... کہاں سے ملی؟" اخنس کی آواز میں ایک خوفناک لرزش تھی۔
"وہ لاؤنج میں نیچے گری ہوئی تھی۔ میں نے سوچا شاید اس میں آپ نے اپنے دشمنوں کی ہٹ لسٹ بنائی ہوگی، مگر اس میں تو کسی لڑکی کی تصویر ہے اور..."
"چپ!" اخنس گرجا۔ اس نے مریم کا بازو اتنی سختی سے پکڑا کہ مریم کے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔ "تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے آفس میں داخل ہونے کی؟"
مریم نے پہلی بار اخنس کی آنکھوں میں سچا غصہ اور دکھ دیکھا۔ "درد ہو رہا ہے... اخنی،" اس نے دھیرے سے کہا۔
اخنس نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اسے باہر جانے کا حکم دیا۔ مریم نے اپنا اسٹالر صحیح کیا اور دروازے کی طرف بڑھی، مگر رک کر مڑی۔ "وہ تصویر... وہ آپ کی ماں کی تھی نا؟ وہ بہت حسین تھیں۔ شاید اس لیے آپ نے غصہ اوڑھ لیا ہے تاکہ کوئی وہ پیار نہ دیکھ سکے جو ان کی آنکھوں میں تھا۔"
اخنس نے میز پر رکھا ہوا پیپر ویٹ دیوار پر مارا اور مریم وہاں سے بھاگ نکلی۔
رات ڈھل چکی تھی۔ اخنس لاؤنج میں اکیلا بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں وہ ڈائری تھی۔ اس نے وہ تصویر دیکھی—اس کی ماں، جو اسے بچپن میں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ اخنس نے اپنی پوری زندگی ایک فکسر بن کر گزار دی تاکہ وہ لوگوں کے مسئلے حل کر سکے، مگر اپنا اندرونی زخم وہ کبھی ٹھیک نہیں کر پایا تھا۔
اس نے محسوس کیا کہ لاؤنج میں کوئی اور بھی موجود ہے۔ مریم کچن کے کونے میں کھڑی تھی، اس نے اپنا اسٹالر اب ایک شال کی طرح کندھوں پر اوڑھا ہوا تھا۔ وہ خاموش تھی—پہلی بار وہ خاموش تھی۔ وہ آہستہ سے اخنس کے پاس آئی اور فرش پر اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
"میرا بھی کوئی نہیں ہے اخنس صاحب،" مریم نے سردی کی سرگوشی میں کہا۔ "یتیم خانے میں جب مجھے بھوک لگتی تھی یا ڈر لگتا تھا، تو میں اس اسٹالر کو اپنے چہرے پر لپیٹ لیتی تھی۔ مجھے لگتا تھا یہ میری ماں کا آنچل ہے۔ اس لیے میں اسے کبھی خود سے الگ نہیں کرتی۔ یہ کپڑا نہیں ہے... یہ میرا احساسِ تحفظ ہے۔"
اخنس نے مریم کی طرف دیکھا۔ اندھیرے میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ لڑکی جو پورے گھر میں طوفان مچاتی ہے، وہ اندر سے کتنی خالی ہے۔ اخنس نے اپنا ہاتھ آہستہ سے مریم کے سر پر رکھا۔ اس کا ہاتھ سخت تھا، مگر اس پل میں اس میں ایک انجانی نرمی تھی۔
"ہم دونوں ہی ٹوٹے ہوئے ہیں مریم،" اخنس نے نہایت ہی دھیمی آواز میں کہا۔
مریم نے سر اٹھا کر اخنس کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی۔ "تو پھر ہم دونوں مل کر ایک دوسرے کو 'فکس' کیوں نہیں کر دیتے؟ آپ تو فکسر ہیں نا!"
اخنس نے اپنا ہاتھ فوراً پیچھے کھینچ لیا اور دوبارہ وہی سخت انداز اپنا لیا۔ "میں صرف مسئلے حل کرتا ہوں، دل نہیں۔ جاؤ اور سو جاؤ۔ کل صبح تمہیں میرے ساتھ ایک نئے مشن پر جانا ہے۔ اور اس بار... اگر تم نے اپنا یہ 'سامورائی' انداز دکھایا، تو میں تمہیں واقعی نہر میں پھینک دوں گا۔"
مریم اٹھی اور بڑے تشن سے اپنا اسٹالر جھٹکا۔ "نہر میں پھینکنے کے لیے پہلے مجھے پکڑنا پڑے گا اخنی! اور میں بہت تیز بھاگتی ہوں۔"
وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی، مگر جاتے جاتے اخنس کے کندھے پر ہلکا سا ہاتھ مار گئی۔ اخنس وہیں بیٹھا رہا۔ لاؤنج کی خاموشی اب اسے چبھتی نہیں تھی۔ اس نے ڈائری بند کی اور اسے سنبھال کر رکھ دیا۔ اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ مریم اس کی زندگی کا وہ رنگ بن رہی تھی جس کی اسے سخت ضرورت تھی۔
(جاری ہے...)