Chapter 4 of 5
نشانِ آزادی اور اسٹالر کا ایکشن
قسط نمبر: چار
پینٹ ہاؤس کی فضا میں صبح کی روشنی کسی ٹھنڈی کرن کی طرح داخل ہوئی تھی۔ ہر چیز اپنی مخصوص جگہ پر کسی ناپے تلے اصول کے تحت موجود تھی۔ اخنس سفیر کی دنیا میں "اتفاق" کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس نے صبح ٹھیک پانچ بجے اپنی آنکھیں کھولی تھیں، بغیر کسی الارم کے۔ یہ اس کی تربیت تھی، اس کے پیشے کی سختی جو اس کے لاشعور میں بیٹھ چکی تھی۔
لاؤنج میں اس وقت سناٹا تھا، مگر یہ وہ سناٹا نہیں تھا جو اخنس کو پسند تھا۔ یہ وہ خاموشی تھی جو کسی طوفان کے آنے سے پہلے محسوس ہوتی ہے۔
اخنس اس وقت اپنے نجی جِم میں موجود تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کا بغیر آستینوں والا لباس پہنا ہوا تھا جو اس کے کسرتی جسم اور مضبوط بازوؤں کو صاف دکھا رہا تھا۔ اس کے جسم سے پسینہ ڈھلک کر فرش پر گر رہا تھا جب وہ پل اپس لگا رہا تھا۔ اس کا چہرہ سنگین تھا، آنکھیں کسی مقصد پر جمی ہوئیں۔
"ایک... دو... تین... اور یہ گیا چار!"
ایک چنچل آواز نے جِم کی خاموشی کو چیر دیا۔ اخنس نے جھٹکے سے نیچے دیکھا۔ مریم جِم کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ اس کا حلیہ آج پھر نیا تھا۔ اس نے وہی سفید کرتا پہنا تھا مگر اس کا اسٹالر آج اس نے اپنی پیشانی پر کسی پرانے زمانے کے "سامورائی" کی طرح باندھ رکھا تھا، جس کے دو پلو اس کے کانوں کے پیچھے ہوا میں لہرا رہے تھے۔ اس کے ہاتھ میں اورنج جوس کی وہ بوتل تھی جو اخنس نے کچن میں رکھی تھی۔
اخنس نیچے کودا۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا مگر اس کی نظریں کسی تلوار کی ڈھار کی طرح مریم پر تھیں۔ "یہاں... کیا... کر رہی ہو؟" اخنس نے پسینہ صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
"میں دیکھ رہی تھی کہ 'ہاٹ شیطان' کی فٹنس کا راز کیا ہے۔ ویسے... آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟ کسی کو مارنا ہو تو بس ایک بار گھور کر دیکھ لیا کریں، وہ بیچارہ ڈر سے ہی مر جائے گا،" مریم نے جوس کا سپ لیتے ہوئے نہایت ڈھٹائی سے کہا۔
اخنس اس کے قریب آیا۔ اس کے جسم سے اٹھتی تپش مریم کو محسوس ہوئی، مگر وہ نڈر کھڑی رہی۔ اخنس نے اس کے سر پر بندھے اسٹالر کو نہایت ہی بیزاری سے دیکھا۔ "یہ کیا سرکس بنایا ہوا ہے تم نے؟"
"یہ سرکس نہیں ہے، یہ 'فوکس بینڈ' ہے! میں نے سنا ہے جب لوگ سخت کام کرتے ہیں تو سر پر کچھ باندھتے ہیں۔ میں بھی آج بہت سخت کام کرنے والی ہوں،" مریم نے فخر سے کہا۔
"کون سا سخت کام؟" اخنس نے طنز سے پوچھا۔
"آپ کے اس بورنگ گھر میں تھوڑا رنگ بھرنے کا کام۔ دیکھیے تو... ہر طرف سیاہ اور سفید۔ ایسا لگتا ہے میں کسی پرانے اخبار کے اندر رہ رہی ہوں،" مریم نے جِم کی دیواروں کو دیکھا۔
اخنس نے اسے بازو سے پکڑا اور باہر کی طرف دھکیلا۔ "اس گھر کی دیواروں کو ہاتھ بھی لگایا تو میں تمہیں ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گا۔ نہا لو اور تیار ہو جاؤ Clos۔ آج شام مجھے ایک کلائنٹ سے ملنا ہے اور تمہیں میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔"
مریم کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "کلائنٹ؟ کیا ہم کسی کو 'فکس' کرنے جا رہے ہیں؟ کیا مجھے بھی گن ملے گی؟"
اخنس نے دروازہ بند کرتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک سنگین نظر ڈالی۔ "تمہیں صرف خاموشی ملے گی۔ اگر تم نے وہاں ایک لفظ بھی بولا... تو میں تمہیں وہی چھوڑ کر آ جاؤں گا۔"
دوپہر کے وقت اخنس لاؤنج میں بیٹھا کسی فائل کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ مریم نے لاؤنج کے مہنگے صوفے کے کشنز کو زمین پر بچھا رکھا تھا اور ان پر اپنا اسٹالر پھیلا کر کسی "جادوئی قالین" کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔
"یہ کشنز زمین پر کیا کر رہے ہیں؟" اخنس کی آواز لاؤنج میں گونجی۔
مریم نے سر اٹھا کر دیکھا۔ "میں یوگا کر رہی ہوں۔ میں نے سنا ہے دماغ کو سکون دینے کے لیے کشنز پر بیٹھنا چاہیے۔ ویسے آپ کو بھی یوگا کرنا چاہیے اخنس صاحب۔ آپ کا دماغ ہمیشہ کسی پریشر کوکر کی طرح کیوں سیٹی بجاتا رہتا ہے؟"
اخنس نے فائل میز پر پٹکی۔ "کشنز کو... اپنی جگہ پر... رکھو۔ ابھی!"
مریم اٹھی اور بڑے نخرے سے کشنز کو صوفے پر رکھنے لگی۔ "اتنی کنجوسی اچھی نہیں ہوتی۔ ویسے آپ نے میرے جوتوں کا کیا کیا؟ میں اب بھی ان یتیم خانے کے پرانے جوتوں میں گھوم رہی ہوں۔ سفید کرتے کے ساتھ یہ گندے جوتے کافی 'فیشن ڈیزاسٹر' لگ رہے ہیں۔"
اخنس نے اسے غور سے دیکھا۔ واقعی، اس کے جوتے مٹی سے لیٹی ہوئی پرانی چپل تھیں جو اس کے صاف کرتے کے ساتھ بالکل میل نہیں کھا رہی تھیں۔ اخنس کو کسی بھی چیز کی بے ترتیبی سے نفرت تھی۔ اس نے اپنا فون نکالا اور میسج ٹائپ کیا۔ "شام تک نئے جوتے آ جائیں گے۔ اب جا کر اپنا چہرہ صاف کرو، اس پر مٹی لگی ہے،" اخنس نے سرد لہجے میں کہا۔
"مٹی نہیں ہے، یہ 'نشانِ آزادی' ہے! جب میں دیوار سے کودی تھی تب لگا تھا،" مریم نے فخر سے کہا۔
شام کے وقت اخنس تیار تھا۔ سیاہ سوٹ، سفید شرٹ اور سیاہ ٹائی—وہ کسی موت کے فرشتے کی طرح حسین مگر خوفناک لگ رہا تھا۔ مریم باہر آئی تو اخنس نے اسے دیکھ کر تھوڑا سا جھٹکا کھایا۔ اس نے وہی سفید کرتا پہنا تھا، مگر اس نے نئے سیاہ جوتے پہن رکھے تھے جو اخنس نے منگوائے تھے۔ اس کا اسٹالر آج اس نے کسی "کیپ" کی طرح اپنے کندھوں پر لپیٹا ہوا تھا، جس سے وہ کسی ننھی سپر ہیروئن کی طرح لگ رہی تھی۔
"چلیں، شیطان صاحب؟" مریم نے آنکھ مارتے ہوئے پوچھا۔ اخنس نے بنا کچھ کہے گاڑی کی چابی اٹھائی۔
گاڑی میں خاموشی کا راج تھا۔ اخنس گاڑی چلا رہا تھا اور اس کی نظریں صرف سڑک پر تھیں۔ مریم نے گاڑی کا ریڈیو آن کرنے کی کوشش کی مگر اخنس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ "شور نہیں،" اس نے مختصر کہا۔
"شور نہیں تو کیا؟ ہم کسی کا جنازہ لے کر جا رہے ہیں؟ اتنی خاموشی میں تو مجھے اپنے پیٹ کے گڑ گڑ کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے،" مریم نے منہ بنایا۔
اخنس نے گاڑی ایک پرانے ویئر ہاؤس کے سامنے روکی۔ یہ شہر کا کافی پراسرار حصہ تھا۔ وہاں پہلے سے کچھ لوگ موجود تھے جو کافی خطرناک لگ رہے تھے۔
"گاڑی سے باہر مت نکلنا۔ اور اپنا یہ اسٹالر بند کر کے بیٹھو،" اخنس نے سختی سے ہدایت دی اور باہر نکل گیا۔
مریم گاڑی میں بیٹھی رہی، مگر اس کا دل کہاں ماننے والا تھا؟ اس نے دیکھا کہ اخنس ان لوگوں کے ساتھ کسی سنگین مسئلے پر بات کر رہا ہے۔ اچانک، ایک آدمی نے اخنس پر چلانا شروع کر دیا اور اپنی گن نکال لی۔ اخنس نے پلک جھپکنے میں اس آدمی کا ہاتھ مروڑا اور اسے زمین پر دے مارا۔ مگر مریم نے دیکھا کہ ایک دوسرا آدمی اخنس کے پیچھے سے اس پر حملہ کرنے والا ہے۔
مریم نے ایک پل بھی نہیں سوچا، گاڑی کا دروازہ کھولا اور تیزی سے بھاگی۔ "اوئے! بدتمیز آدمی! پیچھے تو دیکھو!" مریم نے زور سے چلایا۔
جب وہ آدمی مڑا، مریم نے اپنا اسٹالر جو کندھوں پر بندھا تھا، اسے کھولا اور کسی رسی کی طرح اس آدمی کے گلے میں ڈال کر پورے زور سے کھینچا۔ آدمی کا توازن بگڑا اور وہ پیچھے گرا۔ اخنس نے فوراً مڑ کر منظر دیکھا۔ اس نے اس آدمی کو ٹھکانے لگایا اور پھر مریم کی طرف بڑھا۔ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
"میں نے... کیا... کہا تھا؟" اخنس نے مریم کا کندھا پکڑ کر اسے جھٹکا دیا۔ اس کا لہجہ اتنا خوفناک تھا کہ مریم کا اسٹالر بھی لرز گیا۔
"آپ تو مجھے شکریہ کہنے کے بجائے ڈانٹ رہے ہیں؟ میں نے آپ کی جان بچائی ہے!" مریم نے اپنی ناک پھلائے ہوئے کہا۔
"مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے! تم نے میری ڈیل خراب کر دی۔ تمہیں اندازہ بھی ہے یہ لوگ کتنے خطرناک ہیں؟" اخنس اسے گھسیٹتے ہوئے گاڑی کی طرف لے گیا۔
گھر پہنچتے ہی اخنس نے مریم کو لاؤنج میں کھڑا کیا۔ اس نے اپنے کوٹ کا بٹن کھولا اور مریم کے سامنے ایسے کھڑا ہوا جیسے اس کا کورٹ مارشل کرنے والا ہو۔ "تم نے آج جو کیا... وہ آخری بار تھا۔ اگر دوبارہ تم نے اپنی یہ نڈر پنتی دکھائی، تو میں تمہیں واقعی جہنم بھیج دوں گا،" اخنس نے اس کے چہرے کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔ اس کی آنکھوں میں آگ تھی۔
مریم نے پہلی بار اخنس کی آنکھوں میں دیکھا اور مسکرائی نہیں۔ اس نے دھیرے سے اپنا اسٹالر ٹھیک کیا۔ "آپ جہنم کی بات کرتے ہیں اخنس صاحب... مگر آپ کو پتا ہے؟ جہنم موت کے بعد آتی ہے۔ میں تو پچھلے اٹھارہ سال سے جہنم میں ہی تھی۔ میرے لیے آپ کا یہ غصہ موت نہیں، 'زندگی' ہے۔ کم از کم کوئی مجھ پر حق سے چلا تو رہا ہے۔"
اخنس کی زبان جیسے جم گئی۔ اس نے مریم کی آنکھوں میں موجود وہ گہرا دکھ دیکھ لیا جو وہ اپنی شرارتوں کے پیچھے چھپاتی تھی۔ اس نے مریم کا بازو آہستہ سے چھوڑ دیا۔ "اپنے کمرے میں جاؤ،" اخنس نے نہایت ہی دھیمی مگر سرد آواز میں کہا۔
مریم خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی، مگر دروازے پر رک کر مڑی۔ "ویسے... میرا اسٹالر کافی کام کا ہے نا؟ آپ کو بھی ایک منگوا دوں؟ آپ کے غصے کو باندھنے کے کام آئے گا۔"
اخنس نے بنا دیکھے لاؤنج کی ایک مہنگی بوتل اٹھائی اور دیوار پر مار کر توڑ دی۔ "دفع ہو جاؤ!"
مریم بھاگ کر اپنے کمرے میں گھس گئی۔ اخنس لاؤنج میں اکیلا رہ گیا۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا—اس لیے نہیں کہ وہ ڈر گیا تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ اس اٹھارہ سال کی آفت کے احساس سے ڈر رہا تھا۔ اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ مریم اس کی زندگی کا وہ حصہ بن رہی تھی جسے وہ کبھی خود سے الگ نہیں کرنا چاہے گا۔
(جاری ہے...)