Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 1 of 5

آفت کا فرار اور خونی ملاقات

قسط نمبر: ایک رات کا پچھلا پہر تھا۔ آسمان پر بادل ایسے گرج رہے تھے جیسے ان کا کسی سے صدیوں پرانا جھگڑا ہو۔ شہر کی پُرشور زندگی اب خاموشی کی چادر اوڑھ چکی تھی، مگر "دارالامان" کی اونچی اور کھردرے دیواروں کے پیچھے ایک الگ ہی جنگ جاری تھی۔ اٹھارہ سال کی مریم، جس نے گھٹنوں تک آتا ہلکا نیلا کرتا اور ایک ڈھیلی ڈھالی سفید پینٹ پہن رکھی تھی، اس وقت دیوار کی منڈیر پر بیٹھی گہری سانسیں لے رہی تھی۔ اس کا مخصوص "اسٹول"—ایک لمبا سیاہ سکارف—اس نے اپنی گردن کے گرد کسی فوجی کی وردی کی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ لوگ کہتے تھے وہ پاگل ہے، وارڈن کہتی تھی وہ باغی ہے، مگر مریم کا ماننا تھا کہ وہ صرف "زندہ" ہے۔ "آج یا کبھی نہیں، مریم بی بی!" اس نے خود سے سرگوشی کی۔ اچانک اس کے کرتے کا پلو دیوار میں لگے ایک پرانے کیل میں پھنس گیا۔ مریم نے ایک جھٹکے سے اسے کھینچا۔ "چررر!" کی ہلکی سی آواز آئی، مگر اس کے چہرے پر پریشانی کا ایک سایہ تک نہ لہرایا۔ اس نے اس پھٹے ہوئے حصے کو دیکھا اور کندھے اچکا دیے۔ "چلو، ڈیزائن بن گیا!" اس نے اپنا اسٹول سنبھالا، اسے دیوار سے لٹکتی ایک مضبوط شاخ کے گرد لپیٹا اور کسی ماہر سرکس آرٹسٹ کی طرح نیچے کود گئی۔ زمین پر گرتے ہی اس کے گھٹنوں میں جھٹکا لگا، مٹی اس کی سفید پینٹ پر اپنا نشان چھوڑ گئی، مگر وہ اٹھی، اپنے کپڑے جھٹکے اور اسٹول کو واپس اپنے گلے میں ایسے ڈالا جیسے وہ کوئی قیمتی ہار ہو۔ وہ بھاگی۔ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یتیم خانے کی وہ پراسرار خاموشی اور وارڈن کی وہ دلیہ والی تھالی اب اس کے لیے ماضی بن چکی تھی۔ شہر کا یہ حصہ اندھیرا اور بدشکل تھا۔ مریم دھب دھب کرتی بھاگ رہی تھی کہ اچانک ایک موڑ مڑتے ہی وہ رک گئی۔ اس کا سانس پھول گیا تھا۔ سامنے کا منظر عجیب تھا۔ ایک کالی، چمکتی ہوئی ایس یو وی گاڑی کھڑی تھی جس کی ہیڈلائٹس کی روشنی بارش کی ہلکی بوندوں میں چمک رہی تھی۔ گاڑی کے سامنے دو آدمی گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے، ان کے چہرے خوف سے سفید پڑ چکے تھے۔ اور ان کے سامنے کھڑا تھا—اخنس سفیر۔ پینتیس سال کا اخنس، جس نے ایک سیاہ ٹرٹل نیک اور مہنگا اطالوی کوٹ پہن رکھا تھا، اس وقت اپنے داہنے ہاتھ کے لیدر دستانے کو آہستہ سے ٹائٹ کر رہا تھا۔ اس کا چہرہ کسی سنگِ مرمر کے مجسمے کی طرح سخت اور بے حس تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ بے رخی تھی جو صرف ان لوگوں میں ہوتی ہے جو موت اور زندگی کا فیصلہ روزانہ چٹکیوں میں کرتے ہیں۔ "میں نے کہا تھا..." اخنس کی آواز سردی کی راتوں سے بھی زیادہ ٹھنڈی تھی۔ "مجھے غلطی پسند نہیں ہے۔ اور تم دونوں نے میری ڈیل میں غلطی کی ہے۔" "صاحب! معاف کر دیں... ہمیں نہیں پتا تھا کہ..." ایک آدمی گڑگڑایا۔ اخنس نے اپنی کلائی پر بندھی مہنگی گھڑی دیکھی اور پھر آہستہ سے اپنی جیب سے ایک پستول نکالی۔ "وقت ختم۔" ٹھیک اسی لمحے، مریم کا پاؤں ایک خالی ٹین کے ڈبے پر پڑا۔ "کھٹ-تڑاک!" سناٹے میں وہ آواز کسی دھماکے کی طرح گونجی۔ اخنس کے گارڈ نے فوراً پستول اس سمت گھما دی جہاں مریم کھڑی تھی۔ اخنس نے اپنی گردن موڑی۔ اس کی گہری، سیاہ آنکھوں نے مریم کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ ایک اٹھارہ سال کی لڑکی، مٹی سے لیٹی ہوئی، ڈھیلی پینٹ پہنے، اور گلے میں وہ عجیب سا اسٹول لٹکائے—وہ وہاں ایسے کھڑی تھی جیسے کسی تھرلر فلم کا شوٹ دیکھ رہی ہو۔ "کون ہو تم؟" اخنس کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ کوئی بھی لڑکی بے ہوش ہو جاتی۔ مگر مریم؟ وہ آگے بڑھی۔ اس نے ڈرنے کے بجائے اپنی ناک اپنے اسٹول کے ایک کونے سے صاف کی اور بڑے غور سے اخنس کو دیکھنے لگی۔ "میں؟" مریم نے معصومیت سے پوچھا۔ "میں تو صرف راستہ بھٹک گئی تھی۔ مگر آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ یہ انکل رو کیوں رہے ہیں؟ کیا آپ نے ان کی چاکلیٹ چھین لی ہے؟" اخنس کی پیشانی پر ایک شکن ابھری۔ اس نے آج تک اتنی ہمت—یا شاید اتنی بیوقوفی—نہیں دیکھی تھی۔ اس نے پستول مریم کی طرف کی۔ "تم نے جو دیکھا ہے، اس کی قیمت تمہاری جان ہو سکتی ہے،" اخنس نے دبے ہوئے غصے میں کہا۔ مریم نے پستول کی نالی کو دیکھا، پھر اخنس کے چہرے کو۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور مسکرا دی۔ "ویسے قیمت تھوڑی زیادہ نہیں ہے؟ میں نے بس یہ دیکھا کہ آپ ان بیچارے لوگوں کو تھوڑی ورزش کروا رہے ہیں۔ اور ویسے بھی، مرنا تو سب نے ہی ہے، مگر اتنی جلدی کیا ہے؟" اخنس نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے گارڈ کو روکا۔ وہ مریم کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ وہاں ڈر کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ "دو راستے ہیں تمہارے پاس،" اخنس اس کے قریب آیا۔ "یا تو ابھی اسی وقت مر جاؤ... یا میرے ساتھ چلو جب تک میں یہ فیصلہ نہ کر لوں کہ تمہارا کیا کرنا ہے۔" مریم نے اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھا، جیسے بہت گہرا سوچ رہی ہو۔ "آپ کے ساتھ جانا ہے!" اس نے فوراً جواب دیا۔ اخنس نے اپنی بھنویں اچکائیں۔ "اتنی جلدی مان گئیں؟ میرے ساتھ جانے کا مطلب جہنم میں جانا بھی ہو سکتا ہے۔" مریم نے شرارت سے کہا، "کوئی بات نہیں! جہنم میں تو ویسے بھی جانا ہی ہے... تو کیوں نہ آپ جیسے 'ہاٹ شیطان' کے ساتھ ہی جایا جائے؟ کم از کم سفر تو اچھا کٹے گا۔ وہاں دلیہ تو نہیں ملتا نا؟" اخنس سفیر، جو شہر کا سب سے بڑا 'فکسر' تھا، اس وقت ایک اٹھارہ سال کی لڑکی کے سامنے لاجواب کھڑا تھا۔ "گاڑی میں بیٹھو!" اخنس نے دانت پیستے ہوئے کہا اور مڑ گیا۔ گاڑی کے اندر اخنس نے آئینے میں دیکھا اور اس کی آنکھیں غصے سے لال ہو گئیں۔ مریم نے اپنے گندے جوتے لیدر کی نشست پر رکھ دیے تھے۔ "جوتے نیچے رکھو!" وہ گرجا۔ "اوہو، غصہ کیوں کرتے ہیں؟ ان بیچارے جوتوں نے پورا یتیم خانہ پار کیا ہے، تھوڑا آرام تو کرنے دیں،" مریم نے بے فکری سے کہا اور گاڑی میں رکھا سینیٹائزر اٹھا لیا۔ "آپ بہت روڈ ہیں ویسے،" مریم نے اپنی پینٹ صاف کرتے ہوئے کہا۔ "کیا بچپن میں آپ کو کسی نے کھلونا نہیں دیا تھا؟" اخنس نے ایک جھٹکے سے گاڑی رکوائی اور پچھلی سیٹ کی طرف مڑا۔ "پہلی بات... میں تمہارا 'انکل' نہیں ہوں۔ دوسری بات... میں تمہیں ابھی اسی وقت اس چلتی گاڑی سے باہر پھینک سکتا ہوں۔ سمجھی؟" مریم نے پلک بھی نہیں جھپکی۔ اس نے اپنا اسٹول تھوڑا اور ٹائٹ کیا اور بولی، "پھینک دیں! باہر بارش ہو رہی ہے، میں بیمار ہو جاؤں گی، پھر آپ کو ہسپتال کے بل بھرنے پڑیں گے۔ فکسر ہیں آپ، اپنا نقصان کیوں کر رہے ہیں؟" اخنس نے اسے دیکھا، اور ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لڑکی کوئی عام مصیبت نہیں ہے

Comments