Chapter 2 of 5
سیاہ و سفید محل اور رنگین آفت
قسط نمبر: دو سورج کی پہلی کرن نے جب پینٹ ہاؤس کی اونچی کانچ کی دیواروں کو چھوا، تو پورا گھر ایک عجیب سی ٹھنڈی چمک میں نہا گیا۔ یہ گھر نہیں تھا، ایک میوزیم تھا جہاں ہر چیز اپنی جگہ پر کسی اصول کے تحت رکھی گئی تھی۔ اس پُرسکون خاموشی کو ایک آواز نے توڑا۔ "اوئے! کوئی ہے؟ یا یہ قبرستان کا وی آئی پی سیکشن ہے؟" مریم اسٹوریج روم کے دروازے پر زور زور سے جوتے مار رہی تھی۔ اس نے اپنا اسٹول اب کسی صافے کی طرح سر پر لپیٹ رکھا تھا۔ دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ سامنے اخنس سفیر کھڑا تھا، جس کے ہاتھ میں بلیک کافی تھی۔ "شور... کیوں... کر رہی ہو؟" اخنس نے ایک ایک لفظ چبا کر پوچھا۔ "ببھوک لگی ہے! اور آپ کا یہ کمرہ... اس میں تو آکسیجن بھی گن کر آتی ہے،" مریم نے لاپروائی سے کہا۔ اخنس نے اسے کچن کا راستہ دکھایا۔ مریم نے فریج کھولا تو وہاں صرف پروٹین شیک اور سبزیاں تھیں۔ "یہ فریج ہے یا کسی ہسپتال کی لیب؟" مریم نے چیخ کر پوچھا۔ "کاؤنٹر سے نیچے اترو۔ ابھی!" اخنس نے اسے کچن کے کاؤنٹر پر بیٹھے دیکھ کر حکم دیا۔ مریم نے ایک انڈا ہوا میں اچھالا۔ "پہلے بتائیں، اس کا پراٹھا بن سکتا ہے؟ مجھے سوکھی بریڈ نہیں کھانی۔" اخنس نے بیزاری سے چولہا جلایا اور مریم کے لیے انڈا بنایا، مگر اس میں نمک مرچ نہیں تھی۔ مریم نے نوالہ لیا اور منہ بنا لیا۔ "پھیکا! بالکل آپ کی زندگی کی طرح۔" دوپہر میں مریم بغیر دستک دیے اخنس کے آفس میں داخل ہو گئی۔ اخنس فون پر کسی کو دھمکا رہا تھا۔ "مجھے لاش نہیں چاہیے، مجھے وہ فائلیں چاہئیں۔ اگر شام تک کام نہ ہوا، تو تمہارا اگلا ٹھکانہ نہر کا پیندا ہوگا۔" مریم نے تالی بجائی۔ "لاش؟ نہر؟ آپ تو واقعی اصلی والے غنڈے ہیں!" اخنس نے غصے سے فون رکھا۔ "تمہاری ہمت کیسے ہوئی اندر آنے کی؟" "پہلے کپڑے دیں۔ میرا یہ برانڈڈ کرتا اب پھٹ گیا ہے۔ کیا آپ کے پاس کوئی پرانی شرٹ ہوگی؟ میں اسٹول کے ساتھ مینج کر لوں گی،" مریم نے فرمائش کی۔ اخنس نے کسی کو فون کر کے لڑکی کے لیے چھوٹے سائز کے کپڑے منگوائے، مگر تاکید کی کہ صرف سیاہ اور سفید رنگ کے ہوں۔ "مجھے رنگ پسند نہیں ہیں،" اخنس نے سختی سے کہا۔ "صرف بلیک اینڈ وائٹ؟ کیا ہم کسی ماتم میں جا رہے ہیں؟" مریم نے شکوہ کیا۔ شام کو جب کپڑے آئے تو مریم نے سفید کرتا پہنا اور اس پر اپنا سیاہ اسٹول لپیٹ لیا۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی، مگر اخنس نے اپنی نظریں ہٹا لیں۔ "میں اس اسٹوریج روم میں نہیں رہوں گی، میرا دم گھٹتا ہے،" مریم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ "وہی تمہارا ٹھکانہ ہے۔ جب تک میں تمہارا فیصلہ نہ کر لوں،" اخنس نے سرد لہجے میں کہا۔ مریم نے ایک مہنگی گھڑی اٹھا لی۔ "اسے نیچے رکھو، یہ پچاس لاکھ کی ہے،" اخنس کی آواز تلوار کی طرح گونجی۔ "اتنے پیسے؟ اتنے میں تو میں پورا شہر خرید لیتی۔ ویسے، آپ اتنے پیسے کما کر کرتے کیا ہیں؟ نا زندگی میں رنگ ہے، نا رونق،" مریم نے اسے آئینہ دکھایا۔ اخنس اس کے قریب آیا اور اس کے اسٹول کو تھوڑا کھینچا۔ "میری زندگی کے بارے میں سوال کرنے کی ہمت دوبارہ مت کرنا۔ تم صرف ایک حادثہ ہو جو میری راہ میں آ گیا ہے۔" اخنس بالکونی میں چلا گیا، مگر مریم نے جاتے جاتے اس کے مہنگے صوفے پر رکھی فائل کے آخری صفحے پر ایک بڑا سا "اسمائلی فیس" (مسکراتا چہرہ) بنا دیا۔ آگ بھڑک رہی تھی، مگر دونوں کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ آگ کسے جلائے گی اور کسے روشن کرے گی