Chapter 10 of 10
عکسِ دغا
عکسِ تاریک دسواں باب: صبح کے آٹھ بج کر پندرہ منٹ ہوئے تھے۔
شہر کے آخر میں واقع ایک پرانی اور ویران ورکشاپ کے اندر سردی اور مٹی کا راج تھا۔ عروج نے گاڑی کو ورکشاپ کے اندھیرے حصے میں کھڑا کر دیا۔ گاڑی کے بند ہوتے ہی وائپرز خاموش ہو گئے، لیکن باہر لوہے کی چھت پر گرتی بارش کی آواز اب بھی پورے سناٹے میں گونج رہی تھی۔
زاویار نے دھیان سے کمبل کو اپنے جسم سے ہٹایا۔ اس کا گھٹنا اب نیلا سیاہ ہو چکا تھا اور ہر حرکت کے ساتھ اس کا جسم درد سے کراہ رہا تھا۔ عروج نے گاڑی سے ابتدائی طبی امداد کا ڈبہ نکالا اور بغیر کچھ کہے اس کے زخم پر دوا لگانے لگی۔ زاویار نے درد کو خاموشی سے برداشت کیا، اس کی آنکھوں میں کوئی شکایت نہیں تھی۔ اس نے اپنی جیب سے وہ باریک یو ایس بی نکالی اور گاڑی میں رکھے اپنے چھوٹے لیپ ٹاپ میں لگا دی۔
اسکرین پر ڈیجیٹل فائلیں تیزی سے کھلنے لگیں۔ عروج غور سے اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔ وہاں نظر آنے والی کوڈنگ اور حفاظتی قوانین کو دیکھ کر اس کی نگاہیں جم گئیں۔ یہ کوئی عام نظام نہیں تھا۔
"یہ کوڈنگ۔۔۔" عروج نے دھیمی آواز میں کہا۔
"ہاں،" زاویار نے تھکی ہوئی مگر سنگین آواز میں اس کی بات مکمل کی۔ "یہ بالکل وہی حفاظتی قوانین ہیں جو ہمارے اپنے پولیس محکمے کے اندرونی نیٹ ورک میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ الشفاء اسائلم کا سرور اور ہمارے ہیڈ کوارٹر کا نیٹ ورک ایک ہی ڈیجیٹل ڈھال کے پیچھے چل رہے ہیں۔"
عروج کی سانس سینے میں جم گئی۔ یہ صرف خبریں باہر پہنچانے کا معاملہ نہیں تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ پورا نظام— ہیڈ کوارٹر سے لے کر پاگل خانے تک— ایک ہی گروہ کے تحت چل رہا تھا۔ اور اس نظام کے تار بہت اوپر تک جا رہے تھے۔
"ہمیں انس تک پہنچنا ہوگا،" عروج تیزی سے طبی امداد کا ڈبہ بند کرتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔ "وہ بریفنگ روم میں بند ہے۔ اگر دشمن کو اندازہ ہو چکا ہے کہ ہم اسائلم سے نکل چکے ہیں، تو انس ہمارا آخری ثبوت ہے۔"
نو بجے کا وقت تھا۔ ہیڈ کوارٹر کی راہداریوں میں عام دنوں کی طرح دفتری چہل پہل تھی۔ مشینوں کے چلنے کی مسلسل آوازیں، پولیس اہلکاروں کی آپسی گفتگو کا شور اور سستی چائے کی بو ہوا میں تیر رہی تھی۔ عروج اور زاویار— جس نے اب ایک پرانی جیکٹ پہن لی تھی تاکہ اس کا پیلا لباس چھپ سکے— خاموشی سے پچھلے دروازے سے اندر داخل ہوئے۔
زاویار نے اپنی چال کو بالکل نارمل رکھا تاکہ کوئی اس پر شک نہ کرے۔ لیکن اس کی انگلیاں جیب میں موجود یو ایس بی پر کسی ہوئی تھیں۔ وہ دونوں سایوں کی طرح دیواروں کے ساتھ گزرتے ہوئے اس راہداری کی طرف بڑھے جہاں بریفنگ روم واقع تھا۔ راہداری خالی تھی، لیکن وہاں کی پیلی روشنی دیواروں پر عجیب و غریب سائے بنا رہی تھی۔ عروج کا ہر قدم احتیاط سے اٹھ رہا تھا۔ اس کی نگاہیں راہداری کے آخر میں لگے بریفنگ روم کے دروازے پر جمی تھیں۔ دروازہ ابھی بھی باہر سے مقفل تھا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ رات کو چھوڑ کر گئی تھی۔
لیکن جب وہ دروازے کے قریب پہنچی، تو اس کا جسم ایک جھٹکے سے رک گیا۔ ہوا میں فینائل کی بو کے بیچ ایک بہت ہی مدھم، میٹھی اور کلینیکل خوشبو تیر رہی تھی۔
سوپور ڈی۔
عروج کی سانس سینے میں رک سی گئی۔ اس کی انگلیوں نے دھیان سے اپنی بیلٹ میں لگی پستول کے دستے کو چھوا۔ اس کے برابر میں کھڑے زاویار نے بھی اس میٹھی بو کو محسوس کیا، اور اس کی نظریں تالے پر جم گئیں۔
"دروازہ ابھی بھی بند ہے،" زاویار نے دھیمی آواز میں کہا۔
عروج نے اپنی جیب سے چابی نکالی، لیکن اس کا ہاتھ تالے کے قریب پہنچ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے تالے کے پیتل کے کنارے پر ایک باریک سی خراش دیکھی۔ یہ خراش کسی اوزار سے نہیں بنی تھی، بلکہ یہ ایک خاص چابی کو زور سے گھمانے سے بنی تھی— جو صرف اعلیٰ افسران کے پاس ہوتی تھی۔
اس نے چابی تالے میں ڈالی اور گھمائی۔ تالا بغیر کسی آواز کے کھل گیا۔ عروج نے دروازے کو آہستہ سے دھکا دیا۔ بریفنگ روم کے اندر کا ماحول بالکل خاموش تھا۔ کھڑکی سے آتی ہوئی صبح کی دھیمی روشنی میز پر پڑ رہی تھی۔ کمرے کے بالکل درمیان میں، لکڑی کی کرسی پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔
یہ انس تھا۔
اس کا سر کرسی کی پشت سے لگا ہوا تھا اور دونوں ہاتھ کرسی کے کناروں پر آہستہ سے رکھے ہوئے تھے۔ اس کا رین کوٹ گیلا تھا اور اس کے چہرے پر نہ کوئی گھبراہٹ تھی، نہ کوئی ڈر۔ اس کے ہونٹوں پر وہی سپاٹ اور خوفناک مسکراہٹ جمی ہوئی تھی جو پہلی لاش کے چہرے پر تھی۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ چھت کے اندھیرے کو تک رہی تھیں۔
انس مر چکا تھا۔
اس کے کوٹ کی اوپر والی چھوٹی جیب میں ایک پرانی، سنہری جیبی گھڑی لٹک رہی تھی۔ گھڑی رکی ہوئی تھی اور اس کی سوئیاں ٹھیک نو بج کر پندرہ منٹ پر تھم چکی تھیں— جو اس وقت ان کے اندر داخل ہونے کا بالکل درست وقت تھا۔ عروج کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ قاتل نے انس کو اسی ہیڈ کوارٹر کے اندر، ان کے سب سے محفوظ بریفنگ روم میں، ان کے آنے سے ٹھیک پہلے زہر دے کر مار دیا تھا۔
زاویار تیزی سے انس کے قریب پہنچا۔ اس نے نبض ٹٹولی— وہ بالکل خاموش تھی۔ جسم ابھی گرم تھا، جو اس بات کا نشان تھا کہ اسے صرف چند منٹ پہلے زہر دیا گیا تھا۔ عروج نے دھیان سے وائٹ بورڈ کی طرف دیکھا۔ بورڈ پر پہلے سے لگے تمام نشانات اور دائرے پوری طرح مٹا دیے گئے تھے۔ بورڈ بالکل صاف تھا، اور اس کے عین درمیان میں سیاہ مارکر سے نہایت نفیس لکھائی میں ایک لفظ لکھا تھا:
"شطرنج ختم۔" (CHECKMATE)
لکھائی بالکل وہی تھی جو پہلے پیغامات میں ملی تھی۔ قاتل نے ان کے آنے سے پہلے بورڈ صاف کیا، انس کو مارا اور یہ پیغام چھوڑا۔ وہ اسی ہیڈ کوارٹر کی راہداریوں میں بالکل ان کے آس پاس گھوم رہا تھا۔
"ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا، عروج،" زاویار نے دھیمی اور سنگین آواز میں کہا۔ "انس کو تم نے کل رات یہاں بند کیا تھا، بغیر کسی سرکاری رپورٹ کے۔ اگر افسران نے ہمیں یہاں اس کی لاش کے ساتھ دیکھ لیا، تو ہم پر اس کے قتل کا الزام لگ جائے گا۔"
عروج کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔ زاویار بالکل صحیح کہہ رہا تھا۔ انس کو بریفنگ روم میں بند کرنے کا فیصلہ صرف عروج کا تھا۔ کوئی قانونی گرفتاری کا وارنٹ نہیں تھا۔ اگر ابھی انہیں یہاں پایا گیا، تو یہ ایک بہترین جال تھا جس میں وہ دونوں ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتے۔ قاتل نے انہیں پھنسانے کا پورا نقشہ پہلے ہی کھینچ لیا تھا۔
اچانک، بریفنگ روم کے باہر راہداری سے بھاری بوٹوں کے چلنے کی آواز گونجی۔
"وہ آ رہے ہیں،" زاویار نے راہداری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کا ہاتھ جیب میں موجود یو ایس بی پر کس گیا۔ راہداری سے آنے والے قدموں کی آواز کے ساتھ اعلیٰ افسران کی آپسی گفتگو بھی صاف سنائی دے رہی تھی: "مجھے رپورٹ ملی ہے کہ انس بریفنگ روم میں ہے۔ عروج کو بھی بلاؤ، ہمیں اس کیس کی فائلیں چیک کرنی ہیں۔"
دروازے کے ہینڈل پر چابی لگنے کی آواز گونجی۔ عروج نے تیزی سے بریفنگ روم کے کونے میں لگی ایک بڑی لکڑی کی الماری کی طرف رخ کیا۔ اس نے زاویار کا ہاتھ پکڑا، اور دونوں نے بغیر کسی آہٹ کے خود کو اس الماری کے اندھیرے میں چھپا لیا۔ عروج نے الماری کے پٹ بند کیے اور ان کی سانسیں بالکل مدھم ہو گئیں۔
بھاری دروازہ ایک دھماکے سے کھلا۔ اعلیٰ افسران اور دو مسلح گارڈز کمرے کے اندر داخل ہوئے۔ ان کی ٹارچوں کی تیز سفید روشنیاں کمرے کے درمیان میں بیٹھی انس کی لاش پر پڑیں۔
"یہ۔۔۔ یہ کیا ہے؟!" ایک افسر کی آواز گونجی۔ "انس؟! گارڈ! فوراً ڈاکٹر کو بلاؤ! اور آفیسر عروج کو ڈھونڈو! وہ اس سب کے پیچھے ہے!"
الماری کے اندھیرے میں کھڑی عروج کی نظروں کے سامنے دھند پھیل رہی تھی۔ وہ اس وقت اپنے ہی محکمے میں ملزم بن چکی تھی، اور دشمن ان کے بالکل سامنے کھڑا تھا— لیکن وہ دشمن کون تھا، یہ ابھی بھی ایک سنگین راز تھا۔