Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 9 of 10

عکسِ گریز

عکسِ تاریک نواں باب:

صبح کے سات بج کر دس منٹ ہوئے تھے۔

تہخانے کی ٹھوس سیڑھیوں پر اندھیرا اور نمی پہلے سے زیادہ سنگین تھی۔ عروج کی ٹارچ کی تیز سفید روشنی دھند اور لٹکتے ہوئے مکڑی کے جالوں کو چیرتی ہوئی نیچے فرش پر پڑ رہی تھی۔ ہر قدم کے ساتھ، ٹھنڈک اس کے سینے میں اتر رہی تھی۔ دیواروں سے پانی کے ٹپکنے کی مدھم اور لگاتار آواز— ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ— اس سناٹے میں دباؤ کو مزید بڑھا رہی تھی۔

اس کا دھیان فرش پر جمی مٹی پر تھا۔ وہاں بوٹوں کے تازہ نشانات کے ساتھ، ننگے پاؤں کے نئے نشان بھی موجود تھے— یہ نشان گیلی مٹی پر بالکل صفائی سے بنے تھے، اور ان کا رخ اندھیری راہداریوں کی طرف جا رہا تھا۔ عروج نے اپنی پستول پر اپنی پکڑ کو مزید مضبوط کیا۔ اس کا انگوٹھا پستول کے گھوڑے پر تھا، اور اس کی سانس کی رفتار بالکل ہموار تھی۔ اس نے ٹارچ کی روشنی کو نیچا رکھتے ہوئے، آہستہ سے تہخانے کی بڑی راہداری میں قدم رکھا۔ یہاں ہوا میں زنگ آلود مشینوں اور سستی فینائل کی بو رچی ہوئی تھی۔ وہ دیواروں سے چمٹ کر، بے آواز قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔

تہخانے کے درمیان میں، ایک بہت بڑے اور پرانے لوہے کے بوائلر کے پیچھے، زاویار کھڑا تھا۔ اس کا پورا جسم سردی سے لرز رہا تھا، اور اس کے پیلے سوٹ پر مٹی اور کیچڑ کے کالے دھبے لگے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں لوہے کا ایک چھوٹا سا زنگ آلود ٹکڑا پکڑا ہوا تھا جو اس نے راستے میں فرش سے اٹھایا تھا— یہ اس کا وقتی ہتھیار تھا۔ اس کا دھیان پوری طرح راہداری سے آنے والی روشنی پر تھا۔

روشنی مزید قریب آئی۔ بوائلر کے کنارے پر ایک لمبا، سیاہ اونی کوٹ کا سایہ ابھرا۔ عروج نے اپنی پستول کو اوپر کیا۔ اس کی انگلیاں ٹریگر پر جمی تھیں۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ بوائلر کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ اس نے دھیمی اور ٹھنڈی آواز میں کہا: "اپنے ہاتھ سامنے رکھو۔۔۔ اور آہستہ سے باہر آؤ۔"

زاویار نے اس کوٹ اور اس آواز کی مخصوص سختی کو فوراً پہچان لیا۔ اس نے آہستہ سے بوائلر کے پیچھے سے اپنا سر اٹھایا، اور بالکل مدھم آواز میں کہا: "عروج۔۔۔"

عروج نے ٹارچ کی روشنی کو اس کے چہرے پر ڈالا۔ زاویار کے بکھرے ہوئے بال، اس کے ہونٹ سے خشک خون کا نشان، اور اس کی ٹھنڈ سے نیلی پڑتی ہوئی آنکھیں اس کی روشنی کے سامنے چمکیں۔ اس نے اپنی پستول کو آہستہ سے نیچے کیا، لیکن اس کے چہرے پر کوئی جذبات ظاہر نہیں ہوئے۔

"تم یہاں کیا کر رہے ہو؟" عروج نے آہستہ سے پوچھا۔

زاویار نے اپنی جیب سے وہ باریک یو ایس بی ڈرائیو نکالی اور اسے عروج کی طرف بڑھایا۔ "میں نے سرور روم سے ڈیٹا کاپی کر لیا ہے،" زاویار نے دھیمی آواز میں کہا۔ "لیکن ہمارے پاس باہر نکلنے کا وقت نہیں ہے۔ انہیں پتہ چل چکا ہے کہ میرا سیل خالی ہے۔"

اچانک، پورے اسائلم کے اندر ایک بھاری مشینی سائرن کی آواز گونج اٹھی۔ تہخانے کی اندھیری راہداریوں میں لگی ہنگامی سرخ روشنیاں تیزی سے گھومنے لگیں، جس سے دیواروں اور پائپوں پر عجیب، خونی رنگ کے سائے بننے لگے۔ خالی راہداریوں میں سیکیورٹی گارڈز کے بھاری بوٹوں کے چلنے اور لوہے کے ڈنڈوں کے ٹکرانے کی اونچی آوازیں گونجنے لگیں۔

"وہ نیچے آ رہے ہیں،" عروج نے دیوار کے کنارے سے اوپر کی سیڑھیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

"میرا سیل خالی دیکھ کر انہوں نے پوری عمارت کو بند کر دیا ہے،" زاویار نے لوہے کے ٹکڑے کو فرش پر پھینکتے ہوئے کہا۔ "اوپر کا راستہ بند ہے۔ ہمیں کوئی اور راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔"

عروج نے دھیان سے تہخانے کے نقشے کو اپنے ذہن میں دہرایا۔ "یہاں ہوا خارج کرنے والا کوئی راستہ ہوگا؟" اس نے پوچھا۔ زاویار نے تہخانے کے آخر میں لگے ایک بڑے لوہے کے پنکھے کی طرف اشارہ کیا، جس کے کنارے سے ٹھنڈی ہوا باہر سے اندر آ رہی تھی۔ پنکھے کا لمبا پر خاموش کھڑا تھا، اور اس کے درمیان میں اتنا فاصلہ تھا جہاں سے ایک انسان دھیان سے گزر سکتا تھا۔ "یہ راستہ پچھلے صحن میں نکلتا ہے،" زاویار نے کہا۔ "لیکن راستہ بہت تنگ ہے۔"

پنکھے کے لوہے کے پر ٹھنڈے اور زنگ آلود تھے۔ عروج نے پہلے دھیان سے قدم رکھا۔ اس نے لوہے کے پروں کے درمیان کے فاصلے سے اپنے جسم کو گزارا اور صفائی سے دوسری طرف نکل گئی۔ زاویار اس کے پیچھے آیا۔ اس کا جسم تھکن اور سردی سے لرز رہا تھا، اور اس کے گھٹنے پر قدیر کے ڈنڈے کا نیلا نشان ہر حرکت کے ساتھ بری طرح دکھ رہا تھا۔ جب اس نے اپنا جسم گزارنے کی کوشش کی، تو اس کا گھٹنا ایک دھاتی پر سے زور سے ٹکرایا۔

درد کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ اس کا ہاتھ پھسل گیا، اور وہ گرنے لگا۔ عروج نے فوراً ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس نے پوری طاقت کے ساتھ زاویار کو اوپر کھینچا اور اسے باہر نکلنے میں مدد دی۔ زاویار نے گیلی مٹی پر قدم جمائے۔ اس کا سانس پھول رہا تھا، لیکن اس نے عروج کا شکریہ ادا نہیں کیا— ان کے درمیان ایک ایسی خاموش پیشہ ورانہ شراکت داری تھی جہاں لفظوں کی ضرورت نہیں تھی۔

صحن کے اندر دھند اور بارش کا پہرہ بہت سنگین تھا۔ تلاشی میناروں (Watchtowers) پر لگی بڑی بڑی روشنیوں کی سفید شعاعیں دھند کو چیرتی ہوئی گیلی مٹی اور کیچڑ پر لگاتار گھوم رہی تھیں۔ "گاڑی اس طرف ہے،" عروج نے درختوں کے جھنڈ کی طرف اشارہ کیا جہاں اس نے اپنی گاڑی چھپائی تھی۔

وہ دونوں گیلی مٹی پر، دھیان سے قدم بہ قدم بڑھنے لگے۔ اچانک، صحن کے دوسری طرف سے لوہے کے دروازے کے کھلنے کی بھاری آواز آئی، اور شکاری کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دیں۔ گارڈز ٹارچیں لے کر صحن کی طرف بڑھ رہے تھے۔

تلاشی روشنی کی ایک بڑی سفید لہر ان کے بالکل قریب سے گزری۔ عروج اور زاویار نے اپنے جسموں کو درخت کے موٹے تنے کے پیچھے چھپا لیا۔ روشنی ان کے بوٹوں کے نشان پر سے گزرتی ہوئی آگے نکل گئی۔ عروج نے آہستہ سے گاڑی کے ریموٹ کو اپنی جیب میں دبایا، گاڑی کے دروازے بے آواز کھل گئے۔

"اب بھاگو!" عروج نے مدھم آواز میں کہا۔

وہ دونوں دھند اور بارش کے بیچ تیزی سے بھاگے۔ کیچڑ ان کے بوٹوں اور کپڑوں پر لگ رہی تھی، لیکن انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ گاڑی کے قریب پہنچے، دروازے کھولے، اور تیزی سے اندر داخل ہو گئے۔

گاڑی کا انجن ایک نرم آواز کے ساتھ اسٹارٹ ہوا۔ عروج نے گاڑی کے ہیٹر کو پوری رفتار پر کیا، اور گاڑی کو ڈھلوان راستے پر دوڑا دیا۔ گاڑی کے وائپرز تیزی سے بارش کے پانی کو صاف کر رہے تھے، لیکن گاڑی کے اندر مکمل سناٹا تھا۔

اسائلم کی کالی دیواریں اور تلاشی مینار اب دھند کے پیچھے آہستہ آہستہ غائب ہو رہے تھے۔ زاویار برابر والی نشست پر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کا کمبل گیلا ہو چکا تھا، اور اس کے ننگے پاؤں ٹھنڈک سے نیلے ہو چکے تھے۔ اس نے اپنی انگلیوں کے درمیان پکڑی ہوئی یو ایس بی ڈرائیو کو غور سے دیکھا۔

"اس ڈیٹا کے اندر ہمارے ہر سوال کا جواب ہے،" زاویار نے دھیمی اور تھکی ہوئی آواز میں کہا۔ "لیکن اس کو حل کرنے کے لیے ہمیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوگی جو اس کوڈ کو سمجھتا ہو۔"

عروج نے سامنے سڑک پر نظریں جمائے ہوئے کہا: "ہمیں یہ ڈیٹا ہیڈ کوارٹر لے کر جانا ہوگا، لیکن یاد رکھنا۔۔۔ انس کے کمپیوٹر والا معاملہ ابھی بھی حل طلب ہے۔ ہم ابھی ہیڈ کوارٹر پر کسی پر یقین نہیں کر سکتے۔"

گاڑی شہر کی سڑک پر تیزی سے بڑھ رہی تھی، جہاں صبح کا خاکستری اجالا دھند کو مزید گہرا بنا رہا تھا۔ انہوں نے پاگل خانے سے فرار تو حاصل کر لیا تھا، لیکن اصل معمہ اب ان کے ہاتھ میں موجود اس چھوٹی سی یو ایس بی ڈرائیو میں چھپا تھا۔

Comments