Chapter 1 of 10
گزرے وقت کی چاپ
عکسِ تاریک پہلا باب: گزرے وقت کی چاپ
صبح کے ٹھیک پانچ بجے کا وقت تھا۔
کھڑکی کے باہر دھند کی ایک ٹھنڈی اور گہری چادر نے پوری گلی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ ہلکی اور خاموش بارش برس رہی تھی—ایسی بارش جو شور نہیں کرتی، بس دیواروں کی مٹی اور درختوں کے پتوں کو نم اور ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ کمرے کے اندر مکمل خاموشی تھی، جسے صرف دیوار پر لگی لکڑی کی پرانی گھڑی کی سپاٹ 'تک تک' توڑ رہی تھی۔
عروج ایک چھوٹی، پیلی ٹیبل لیمپ کی روشنی کے نیچے بیٹھی تھی۔ اس کی میز پر ہر چیز ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ تین پنسلیں، تینوں کی نوکیں اوپر کی طرف؛ میگنی فائنگ گلاس میز کے بالکل درمیان میں؛ اور دائیں طرف پرانی فائلوں کا ایک ڈھیر، جس کا ہر کنارہ دوسری فائل سے بالکل برابر ملا ہوا تھا۔
اس کے ہاتھ کے پاس مٹی کے کپ میں رکھی چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ چائے کے اوپر ملائی کی ایک باریک اور جمی ہوئی تہہ بتاتی تھی کہ اسے بنائے گھنٹوں گزر چکے ہیں، لیکن کپ کو چھوا تک نہیں گیا تھا۔
عروج کا دھیان اپنی میز پر کھلی ایک پیلی فائل پر تھا۔ یہ دس سال پرانا ایک کیس تھا، جس کے کاغذات نمی کی وجہ سے تھوڑے کھردرے ہو چکے تھے۔ وہ فائل پر موجود ایک سیاہ و سفید تصویر پر اپنی انگلی کی نوک آہستہ سے پھیر رہی تھی۔ تصویر میں ایک ویران کمرہ تھا جہاں فرش پر خون کے نشانات کے بیچ ایک عجیب سا دائرہ بنا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا، پلکیں بنا جھپکائے وہ اس دائرہ نما نشان کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی سانس لینے کی آواز بھی کمرے کی خاموشی میں دبی ہوئی تھی۔
اچانک، میز پر رکھا فون تھرتھرانے لگا۔ وائبریشن کی اس جنبش سے میز کے کنارے پر رکھی ایک پتلی پنسل آہستہ سے سرکی اور برابر میں رکھے اسکیل سے جا ٹکرائی۔
عروج نے تصویر سے اپنی نگاہ نہیں ہٹائی۔ اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور کان سے لگایا۔ اسکرین پر کوئی نام نہیں تھا، صرف ایک سرکاری ایکسٹینشن کا نمبر چمک رہا تھا۔ اس نے فون پر کچھ نہیں کہا، بس دوسری طرف سے آنے والی آواز کا انتظار کیا۔
دوسری طرف سے پہلے ہلکی سانس لینے کی آواز آئی، اور پھر ایک مردانہ، تھکی ہوئی آواز گونجی: "عروج۔۔۔ وہ دوبارہ ہوا ہے۔ پرانی نوآبادیاتی فیکٹری کے قریب۔ حالات بالکل وہی ہیں۔ تمہارا یہاں ہونا ضروری ہے۔"
عروج نے فوری جواب نہیں دیا۔ اس نے فائل کے کھلے کاغذ کو دیکھا، پھر اسے آہستہ سے بند کیا اور اس کے دائیں کنارے کو باقی فائلوں کے ساتھ بالکل برابر کیا۔ اس کی آواز میں نہ کوئی گھبراہٹ تھی، نہ حیرت۔ اس نے صرف اتنا کہا: "میں دس منٹ میں پہنچ رہی ہوں۔"
اس نے کال کاٹی۔ فون کو میز پر میگنی فائنگ گلاس کے بالکل برابر میں رکھا—بالکل سیدھا۔ پھر وہ کرسی سے اٹھی اور دیوار پر لٹکے اپنے لمبے، سیاہ اونی کوٹ کی طرف بڑھی۔ کوٹ پہنتے ہوئے اس نے ایک لمحے کے لیے کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں دھند اب مزید گہری ہو کر دیواروں کو نگل رہی تھی۔
گاڑی کا انجن ایک نرم اور مدھم آواز کے ساتھ اسٹارٹ ہوا۔ عروج نے گاڑی کے ہیٹر کو آن کیا، لیکن باہر کی سردی اس قدر زیادہ تھی کہ گاڑی کے شیشوں پر اندر کی طرف بھاپ جمنے لگی۔ اس نے اپنے ٹھنڈے ہاتھ سے ونڈ شیلڈ کو صاف کیا، جہاں سے باہر دھند میں ڈوبتے ہوئے شہر کا نظارہ کچھ واضح ہوا۔
سڑک پر بھیگا ہوا تارکول پیلی اسٹریٹ لائٹس کی روشنیوں کو آئینے کی طرح بہا رہا تھا۔ وائپرز ایک مخصوص اور دھیمی رفتار سے چل رہے تھے—سکیک، سکیک—ہر بار شیشے پر جمے پانی کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے۔ گاڑی کے اندر صرف وائپرز کی یہ ایک ردھم والی آواز تھی، اور باہر دھند میں لپٹی ہوئی سڑک۔
عروج کے دونوں ہاتھ اسٹیرنگ وہیل پر سختی سے جمے ہوئے تھے۔ اس کی انگلیوں کے جوڑ تھوڑے سفید پڑ رہے تھے، جو اس بات کا نشان تھا کہ اس کا دماغ اس وقت کس قدر دباؤ میں تھا۔ اس نے گاڑی کی رفتار کو تیز نہیں کیا۔ وہ ہر موڑ کو، ہر کھڑی گاڑی کو، اور دھند سے نکلتے ہوئے ہر عام آدمی کو بہت دھیان سے دیکھ رہی تھی۔
سڑک کے کنارے پر کھڑے پرانے درخت بارش کے پانی سے بھیگے ہوئے عجیب خوفناک سائے بنا رہے تھے۔ گاڑی کے شیشے پر بارش کی بوندیں 'تھک تھک' کر کے گر رہی تھیں۔ عروج نے گاڑی کے درمیان میں لگے آئینے میں اپنی آنکھوں کو دیکھا۔ ان میں کوئی ڈر نہیں تھا، لیکن ان میں ایک ایسی گہرائی تھی جو ماضی کے کسی ادھورے راز کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اس نے اسٹیرنگ پر اپنی پکڑ کو تھوڑا ڈھیلا کیا، ایک لمبی سانس لی جس سے اس کے منہ سے ہلکی سی بھاپ نکلی، اور گاڑی کو ایک تنگ گلی کی طرف موڑ دیا جہاں لال اور نیلی لائٹس دھند کے بیچ ٹمٹما رہی تھیں۔
گاڑی کا دروازہ کھلتے ہی سردی کی ایک ٹھنڈی اور تہرتی ہوئی لہر نے عروج کے چہرے کو چھوا۔ باہر کا ماحول مٹی اور بھیگے ہوئے سیمنٹ کی نم بو سے بھرا ہوا تھا۔ پرانی فیکٹری کی سدیوں پرانی دیواریں دھند کے درمیان کسی عفریت کی طرح کھڑی تھیں۔ دیواروں سے پلستر اکھڑا ہوا تھا، اور ان پر جمی ہوئی کائی بارش کے پانی سے بہہ کر نیچے فرش پر کالے نشانات بنا رہی تھی۔ پولیس گاڑیوں کے اوپر لگی گھومتی ہوئی روشنیاں ان نم دیواروں اور کیچڑ سے بھرے فرش پر متحرک سائے پیدا کر رہی تھیں۔
عروج نے گاڑی سے باہر قدم رکھا۔ اس کے چمڑے کے بوٹ کیچڑ میں دبے، جس سے ایک مدھم دبی ہوئی آواز پیدا ہوئی۔ اس نے اپنے کوٹ کے کالر کو اوپر کیا اور فیکٹری کے کھلے، لوہے کے زنگ آلود دروازے کی طرف بڑھی۔ وہاں پہلے سے موجود مقامی پولیس کے اہلکار آپس میں اونچی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ انہی میں سے ایک نیا، جوان کانسٹیبل گھبراہٹ میں اپنے بوٹوں کے نشان چھوڑتا ہوا داخلہ راستے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
عروج نے بغیر کوئی شور کیے اپنا ٹھنڈا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔ کانسٹیبل ٹھٹھک کر رکا اور اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ عروج نے اس سے کوئی بات نہیں کی، بس اپنی نظروں کا اشارہ نیچے کیچڑ کی طرف کیا۔ کانسٹیبل نے نیچے دیکھا۔ اس کے جوتے سے بالکل دو انچ کے فاصلے پر مٹی میں ایک عجیب، گول سا نشان تھا—یہ عام جوتے کا نشان نہیں تھا، بلکہ کسی مخصوص ڈھنگ سے بنایا گیا دائرہ تھا جو بارش کے پانی سے ابھی پوری طرح مٹا نہیں تھا۔ اگر کانسٹیبل ایک قدم اور آگے بڑھاتا، تو یہ نشان ہمیشہ کے لیے مٹی میں مل جاتا۔
"پی-پیچھے ہٹو۔۔۔" کانسٹیبل نے ہکلاتے ہوئے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا اور شرمندگی سے پیچھے ہٹ گیا۔
عروج نے سر کو ہلکا سا خم دیا اور دھیان سے، قدم بہ قدم مٹی پر سے گزرتی ہوئی فیکٹری کے اندر داخل ہو گئی۔ اندر کا ماحول مزید سنگین اور تاریک تھا۔ چھت پر لگے لوہے کے گاڈروں سے بارش کا پانی دھیمی رفتار سے ٹپک رہا تھا—ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔ ہال کے بالکل درمیان میں، جہاں چھت سے آتی ہوئی روشنی کا ایک دھیما سا ٹکڑا فرش پر پڑ رہا تھا، ایک لکڑی کی پرانی کرسی رکھی تھی۔
کرسی پر ایک مرد بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی عمر تقریباً 45 سال کے قریب ہوگی۔ اس نے ایک مہنگا، گہرے سرمئی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ کرسی کے کنارے پر آہستہ سے رکھے ہوئے تھے، جیسے وہ کسی دفتری میٹنگ میں بیٹھا ہو۔ لیکن اس کی گردن ایک طرف جھکی ہوئی تھی، اور اس کی کھلی، بے جان آنکھیں چھت کے اندھیرے کو تک رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی خوف تھا، نہ کوئی تکلیف—وہ بالکل پرسکون دکھ رہا تھا، لیکن اس کی جلد کا زرد رنگ موت کی چغلی کھا رہا تھا۔
عروج کرسی کے بالکل قریب پہنچی۔ اس نے دھیان سے لاش کا مشاہدہ کیا۔ کہیں کوئی خون نہیں تھا۔ کہیں کپڑے پھٹے ہوئے نہیں تھے۔ اس نے مرد کے کوٹ کی اوپر والی چھوٹی جیب میں ایک باریک، سنہری زنجیر لٹکتے دیکھی۔ عروج نے سرجیکل گلوز پہنے اور نہایت آہستہ سے اس سنہری چین کو باہر کھینچا۔
جیب سے ایک پرانی، پیتل کی پاکٹ واچ (جیبی گھڑی) باہر آئی۔ گھڑی رکی ہوئی تھی اور اس کی سوئیاں ٹھیک 03:14 پر تھم چکی تھیں۔ عروج نے گھڑی کو الٹا کیا، تو پچھلے ڈھکن کے درمیان میں ایک باریک سا کاغذ کا ٹکڑا دبا ہوا پایا۔ اس نے چمٹی کی مدد سے اس کاغذ کو باہر نکالا۔ کاغذ پیلا اور پرانا تھا، جس پر سیاہ روشنائی سے نہایت نفیس لکھائی میں ایک جملہ لکھا تھا:
"سائے کبھی جھوٹ نہیں بولتے، جب تک روشنی زندہ ہو۔"
عروج کی آنکھیں اس کاغذ پر جمی رہ گئیں۔ اس کا دماغ فوری طور پر ان پیلی فائلوں کی طرف گیا جو اس نے ابھی کچھ دیر پہلے اپنے گھر میں بند کی تھیں۔ یہ وہی سنگین اشارے تھے جو دس سال پہلے "سرمد" اپنے پیچھے چھوڑتا تھا۔ بالکل وہی مخصوص الفاظ، وہی رکی ہوئی گھڑی، اور وہی موت کی خاموشی۔ لیکن سرمد تو ہائی سیکیورٹی اسائلم میں قید ہے۔ تو پھر یہ کون ہے؟
رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ عروج اپنے گھر کے چھوٹے سے اسٹڈی روم میں بیٹھی تھی۔ کھڑکی کے باہر ابھی بھی بارش کے ٹپکنے کی مدھم آواز آ رہی تھی۔ اس نے کھڑکی کے بھاری پردوں کو دھیان سے کھینچ کر بند کیا، اور پھر دروازے کو دہرا لاک لگایا۔
اس کا بھیگا ہوا اونی کوٹ دیوار پر لٹک رہا تھا۔ وہ اپنی میز پر بیٹھی۔ لیمپ کی روشنی اس پلاسٹک بیگ پر پڑ رہی تھی جس میں وہ پیتل کی گھڑی اور پیلا کاغذ رکھا تھا۔ برابر میں دس سال پرانی فائل کھلی ہوئی تھی۔ عروج نے میگنی فائنگ گلاس اٹھایا اور نئے کاغذ پر لکھے جملے کا موازنہ سرمد کے پرانے خطوں سے کرنے لگی۔
دونوں لکھائیاں بالکل ایک جیسی تھیں۔ حروف کی بناوٹ، کناروں کا خم، اور لفظوں کے درمیان کا ریاضیاتی فاصلہ—سب ایک جیسا تھا۔ یہ کوئی عام نقال (Copycat) نہیں تھا۔ یہ لکھائی کسی ایسے شخص کی تھی جس کا دماغ بالکل سرمد کی طرح چلتا تھا، یا پھر۔۔۔ یہ خود سرمد ہی تھا۔
لیکن سرمد تو پچھلے دس سال سے ایک ایسی جگہ قید ہے جہاں اسے قلم اور کاغذ تک رسائی حاصل نہیں۔ عروج کے ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ اس نے میز پر رکھے چائے کے گرم کپ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا، تاکہ اپنی سردی کم کر سکے۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ کمرے کی خاموشی میں بھی کوئی ایسی چیز ہے جو اس کے دماغ پر بوجھ بن رہی ہے۔
قاتل نے یہ پہیلی سیدھی اس کے لیے چھوڑی تھی۔ وہ اسے جانتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ عروج ہی اس کیس کو سنبھالے گی، اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ عروج کس طرح سوچے گی۔
اس نے لیمپ کا سوئچ آہستہ سے دبایا۔ کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا، صرف کھڑکی سے آتی ہوئی اسٹریٹ لائٹ کی ایک باریک روشنی فرش پر تیر رہی تھی۔ عروج اندھیرے میں خاموش بیٹھی رہی، جبکہ باہر بارش اور دھند شہر کو مزید اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔