Chapter 2 of 10
ذہن کے زندان
عکسِ تاریک دوسرا باب
اگلے دن کی صبح کا دھیما اور خاکستری اجالا دھند کو چیرتے ہوئے سڑکوں پر پھیل رہا تھا۔
سرکاری ہیڈ کوارٹرز کی چہل پہل اور راہداریوں میں گونجتی فائلوں کی آوازوں کے بیچ، بریفنگ روم کا دروازہ خاموشی سے بند تھا۔ کمرے کے اندر آوازیں دبی ہوئی تھیں اور ہوا میں سستی کافی اور پرانے کاغذات کی بو رچی ہوئی تھی۔
عروج ایک بڑی لکڑی کی میز کے آخر میں کھڑی تھی۔ اس کے سامنے دیوار پر لگے وائٹ بورڈ پر کل رات کی فیکٹری اور لاش کی تصویریں لٹک رہی تھیں۔ ان تصویروں کے درمیان، پلاسٹک بیگ میں بند سنہری پاکٹ واچ اور وہ پیلا کاغذ بھی پن کیا ہوا تھا۔ میز کے گرد تین سینیئر افسران خاموشی سے بیٹھے تھے، جن کی نگاہیں دیوار پر لگی تصویروں پر جمی تھیں۔
"یہ ناممکن ہے،" ایک سینیئر افسر نے اپنی عینک کو ناک پر ٹھیک کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔ اس کی آواز میں حیرت سے زیادہ خوف تھا۔ "سرمد پچھلے دس سال سے 'شہرِ خاص' (ہائی سیکیورٹی وارڈ) میں قید ہے۔ اس تک دنیا کا کوئی رابطہ نہیں پہنچ سکتا۔"
عروج نے وائٹ بورڈ کی طرف دیکھا، اس کے دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں تھے۔ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا: "میں نے کل رات دونوں لکھائیوں کا فارنزک ٹیسٹ کروایا ہے۔ حروف کے درمیان کا فاصلہ، قلم پر دباؤ اور سیاہی کی مخصوص ڈھال۔۔۔ ننانوے فیصد مماثلت رکھتی ہے۔ اگر یہ کوئی نقال ہے، تو وہ صرف قتل کے ڈھنگ سے واقف نہیں ہے، بلکہ وہ سرمد کے دماغ کے اندر اتر چکا ہے۔"
دوسرے افسر نے میز پر مکا مارا، جس سے کافی کے کپ میں تھرتھراہٹ ہوئی۔ "تو تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا سرمد جیل کی دیواروں سے باہر ہاتھ بڑھا رہا ہے؟ ہمیں شہر میں افراتفری نہیں چاہیے۔ اگر میڈیا کو پتہ چلا کہ سرمد کا طرزِ قتل دوبارہ زندہ ہو گیا ہے، تو ہم جوابدہ نہیں رہ سکیں گے۔"
"ہمیں اس تک پہنچنا ہوگا،" عروج نے آہستہ سے کہا۔ "سرمد سے بات کیے بغیر ہم اس نئے قاتل کی نفسیات کو نہیں سمجھ سکیں گے۔ وہ باہر جو کچھ کر رہا ہے، اس کا نقشہ اندر بیٹھے دماغ میں ہے۔"
سینیئر افسر نے گہری سانس لی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا: "ٹھیک ہے۔ لیکن دھیان رہے، سرمد عام مجرم نہیں ہے۔ وہ لوگوں کے دماغ سے کھیلتا ہے۔ تم اکیلی اس کے وارڈ میں نہیں جاؤ گی۔ ہمیں وہاں اپنا کوئی بندہ اندر بھیجنا ہوگا جو بنا ظاہر کیے اسائلم کے اندر کی حرکات پر نظر رکھ سکے۔"
عروج نے سر ہلا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ اب یہ جنگ صرف دستاویزات تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ دلدل مزید گہری ہونے جا رہی تھی۔
شہر کے ایک پرانے اور خاموش کونے میں، ایک دو منزلہ زنگ آلود دروازے کے پیچھے، پروفیسر ہاشم کا گھر کھڑا تھا۔
گھر کے اندر کا ماحول صدیوں پرانی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ دیواروں پر لگا وال پیپر سردی اور نمی کی وجہ سے کناروں سے اکھڑا ہوا تھا، اور ہوا میں پرانی کتابوں اور کافور کی گولیوں کی ایک عجیب سی بو رچی ہوئی تھی۔ کھڑکی سے آتی ہوئی دھیمی روشنی میں ہوا میں تیرتے ہوئے مٹی کے باریک ذرے صاف دیکھے جا سکتے تھے۔
پروفیسر ہاشم اپنی میز کے پاس کھڑے تھے۔ ان کے بال پوری طرح چاندی کی طرح سفید ہو چکے تھے، اور چہرے کی گہری جھریاں ان کے گزارے ہوئے کٹھن وقت کا پتہ دیتی تھیں۔ انہوں نے ایک سفید، نرم کپڑا ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور نہایت آہستہ سے، بنا کوئی شور کیے، لکڑی کے پرانے شیلف سے مٹی صاف کر رہے تھے۔ ان کی حرکات میں ایک عجیب سی نفاست اور توازن تھا؛ وہ ہر چیز کو اٹھاتے، اسے دھیان سے صاف کرتے اور پھر بالکل اسی جگہ پر دوبارہ رکھ دیتے جہاں سے اٹھایا تھا—ایک ملی میٹر کا بھی فرق نہیں ہوتا تھا۔
شیلف کے کنارے پر، لکڑی کے ایک چھوٹے سے فریم میں ایک تصویر رکھی تھی۔ تصویر میں ایک چھوٹی لڑکی، تقریباً بارہ سال کی، دھوپ میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔ تصویر کا رنگ وقت کے ساتھ تھوڑا پھیکا پڑ چکا تھا، لیکن لڑکی کی آنکھوں کی چمک ابھی بھی زندہ تھی۔
ہاشم کے ہاتھ تصویر کے قریب پہنچ کر ٹھٹھک گئے۔ انہوں نے کپڑا میز پر رکھا اور نہایت نرم، لرزتی ہوئی انگلیوں سے فریم کے شیشے کو صاف کیا۔ ان کی انگلی تصویر میں لڑکی کے گال پر اس طرح گھومی جیسے وہ واقعی اس کے چہرے کو چھو رہے ہوں۔ ان کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہیں تھا، لیکن ان کا سپاٹ اور تھکا ہوا چہرہ کسی گہرے اور اندھیرے دکھ کی داستان سناتا تھا۔
تصویر کے بالکل برابر میں، ایک چھوٹی کانچ کی ڈبی میں ایک سوکھا ہوا گلاب کا پھول رکھا تھا—جو اب پوری طرح سیاہ پڑ چکا تھا۔ ہاشم نے ایک ٹھنڈی سانس لی، جو ان کے سینے سے نکل کر کمرے کی خاموشی میں گھل گئی۔ وہ اپنی میز کی طرف بڑھے، جہاں نفسیات اور انسانی جسم کی ساخت (Anatomy) کی کتابیں ترتیب سے جمی ہوئی تھیں۔ انہوں نے ایک پرانی ڈائری کھولی جس کے صفحات پر سیاہی سے کچھ عجیب ریاضیاتی نقشے اور نفسیاتی طریقہ کار لکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے قلم اٹھایا اور نہایت صاف، باریک لکھائی میں ایک نیا لفظ لکھا۔ کمرے میں صرف قلم کی نب کے رگڑنے کی آواز گونج رہی تھی۔
فارنزک لیب کی دیواروں پر لگی فلوریسنٹ سفید روشنی ماحول کو مزید سرد بنا رہی تھی۔ ہوا میں فارملین اور ادویات کی وہ تیکھی بو رچی ہوئی تھی جو گلے میں چبھن پیدا کرتی ہے۔ عروج لیب کے درمیان میں لگی اسٹیل کی چمکدار میز کے پاس کھڑی تھی، جہاں مقتول کا جسم اب ایک سفید چادر کے نیچے ڈھکا ہوا تھا۔
ڈاکٹر کمال—سینیئر پیتھالوجسٹ—نے اپنے دستانے اتارے اور انہیں ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ ان کا تھکا ہوا چہرہ بتا رہا تھا کہ انہوں نے اس جسم میں کچھ غیر معمولی دیکھا ہے۔ انہوں نے ایک رپورٹ عروج کی طرف بڑھائی۔
"میں نے اپنی زندگی میں سینکڑوں پوسٹ مارٹم کیے ہیں، عروج،" ڈاکٹر کمال نے سنجیدہ آواز میں کہا۔ "لیکن اس جسم نے مجھے الجھن میں ڈال دیا ہے۔"
عروج نے رپورٹ پکڑی اور روشنی کے نیچے کی۔ ڈاکٹر کمال نے بات جاری رکھی: "جسم پر کشمکش یا جدوجہد کا کوئی ایک نشان بھی نہیں ہے۔ نہ کوئی ناخنوں کے نشانات، نہ گردن پر دباؤ۔ اس کے خون میں ایک مخصوص کیمیکل ملا ہے۔۔۔ سوپور-ڈی (Sopor-D)۔"
عروج کی نظریں رپورٹ پر لکھے کیمیائی فارمولے پر جم گئیں۔ "یہ وہی زہر ہے جو سرمد دس سال پہلے استعمال کرتا تھا،" اس نے آہستہ سے کہا۔
"ہاں،" ڈاکٹر کمال نے سر ہلایا۔ "لیکن سنگین بات یہ نہیں ہے۔ سوپور-ڈی دماغ کے ان حصوں کو سن کر دیتا ہے جو خوف پیدا کرتے ہیں۔ یہ انسان کو ایک ایسی جھوٹی خوشی اور سکون کی کیفیت میں لے جاتا ہے جہاں وہ موت کو گلے لگانے کے لیے خود تیار ہو جاتا ہے۔ اس شخص کے حلق یا معدے میں زبردستی دوا پلانے کے کوئی نشانات نہیں ہیں۔ اس نے یہ زہر خود، نہایت پرسکون ہو کر پیا ہے۔"
عروج نے چادر کو تھوڑا پیچھے ہٹایا۔ مقتول کے ہونٹ ہلکے سے کھلے ہوئے تھے اور ان کے کنارے ابھی بھی ایک عجیب، سپاٹ مسکراہٹ کی شکل میں جمے ہوئے تھے—جیسے وہ کسی حسین خواب کے دوران مر گیا ہو۔
"اس کا مطلب ہے کہ قاتل نے اس پر کوئی جسمانی تشدد نہیں کیا،" عروج نے چادر برابر کرتے ہوئے کہا۔ "اس نے اس کے دماغ کو اس قدر قید کر لیا تھا کہ اس نے موت کے زہر کو شربت سمجھ کر پی لیا۔"
"بالکل،" ڈاکٹر کمال نے کہا۔ "اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ سوپور-ڈی ایک ممنوعہ کمپاؤنڈ ہے۔ دنیا کی کسی بھی عام لیب میں یہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے لیے کسی اعلیٰ پائے کے سیٹ اپ اور ایک انتہائی ذہین کیمسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ باہر کوئی ایسا بیٹھا ہے جو نہ صرف سرمد کے طریقے کو جانتا ہے، بلکہ اس کے پاس سرمد کے ہتھیار بنانے کا پورا بندوبست بھی ہے۔"
عروج نے رپورٹ بند کی۔ لیب کی سفید روشنی اس کی آنکھوں میں ایک ٹھوس چمک پیدا کر رہی تھی۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ باہر جو قاتل گھوم رہا ہے، اس کا ہتھیار تلوار یا گولی نہیں، بلکہ وہ انسانی نفسیات کو اپنا غلام بنانے کا ہنر جانتا ہے۔ اور اس دلدل سے نکلنے کا راستہ صرف اس پاگل خانے کی اندھیری کوٹھری سے گزرتا تھا جہاں سرمد قید تھا۔