Chapter 3 of 5
چھت سے لٹکتی موسیقی اور "اخنی"
قسط نمبر: تین
پینٹ ہاؤس کی فضا میں خاموشی اتنی گہری تھی کہ اگر کوئی سوئی بھی گرتی تو اس کا شور اخنس سفیر کے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح لگتا۔ اخنس، جو اس وقت لاؤنج میں کھڑا اپنی سیاہ لیدر کی ہولسٹر (پستول دان) کو کندھے پر سیٹ کر رہا تھا، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی تھکن تھی۔ یہ تھکن کام کی نہیں تھی، یہ اس "زندہ طوفان" کی تھی جو پچھلے دو دنوں سے اس کے گھر میں ڈیرہ جمائے بیٹھی تھی۔
اخنس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ سفید شرٹ، سیاہ کوٹ، اور چہرے پر وہ مخصوص بے رخی جو اس کی پہچان تھی۔ اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو چیک کیا—ٹھیک آٹھ بجے تھے۔ اس کا ہر کام گھڑی کی سوئی کے مطابق ہوتا تھا۔ مگر آج، اصولوں کی دیوار میں دراڑ پڑنے والی تھی۔
"اوئے! شیطان صاحب! ذرا رکیے تو!"
اخنس نے گہری سانس لی اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے دانت آپس میں بھینچ گئے۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو مریم کچن کے کاؤنٹر سے کودتی ہوئی لاؤنج میں داخل ہو رہی تھی۔ اس نے وہی سفید کرتا اور سیاہ پینٹ پہنی ہوئی تھی جو اخنس نے منگوائی تھی، مگر اس نے اپنا "اسٹولر" آج کچھ الگ ہی انداز میں لپیٹا تھا۔ اس نے اسے اپنے سر پر ایک بڑے سے "بو" (تتلی) کی طرح باندھ رکھا تھا، جس کے دو لمبے پلو اس کے کانوں کے پاس سے لٹک رہے تھے۔
"تم نے یہ اپنے سر پر کیا مذاق بنا رکھا ہے؟" اخنس کی آواز سردی کی راتوں میں جمنے والی برف جیسی تھی۔
مریم نے اپنے سر پر بندھے اسٹولر کو نہایت فخر سے تھپتھپایا۔ "یہ مذاق نہیں ہے، یہ 'مارننگ وائبز' (صبح کا انداز) ہیں۔ آپ کو کیا پتا اسٹائل کا؟ آپ تو خود کسی پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلم کے ولن لگ رہے ہیں۔ ویسے... یہ گن اصلی ہے یا آج بھی مجھے صرف ڈرانے کا پروگرام ہے؟"
اخنس نے اس کی بات کو نظر انداز کیا اور اپنی فائل اٹھائی۔ "میں باہر جا رہا ہوں۔ میرے آنے تک اگر اس گھر کی ایک بھی چیز اپنی جگہ سے ہلی، تو یاد رکھنا... میں فکسرز میں سب سے برا فکسر ہوں۔"
"جاؤ جاؤ! ویسے بھی آپ کے ساتھ بور ہونے سے بہتر ہے کہ میں یہاں اکیلے ڈسکو کروں،" مریم نے صوفے پر ڈھیر ہوتے ہوئے کہا اور بڑے تشن سے پاؤں میز پر رکھ دیے۔
اخنس نے ایک قدم مریم کی طرف بڑھایا۔ اس کا سایہ مریم پر پڑا تو لاؤنج کا درجہ حرارت اچانک گر گیا۔ اس نے نہایت سختی سے مریم کا پاؤں میز سے ہٹایا۔ "میز... پاؤں کے لیے نہیں ہوتی،" اس نے مریم کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
مریم نے پلک جھپکائی اور معصومیت سے بولی، "تو پھر میز کس لیے ہوتی ہے؟ صرف ان بورنگ فائلوں کو رکھنے کے لیے؟ ویسے... آپ کا چہرہ صبح صبح بالکل سڑے ہوئے ٹماٹر جیسا کیوں ہوتا ہے؟ تھوڑا مسکرا لیا کریں، شاید کوئی دشمن ڈرنے کے بجائے ہنس کر ہی مر جائے۔"
اخنس نے اپنے صبر کا دامن اتنی زور سے جکڑا کہ اس کی ہتھیلیوں میں ناخن گڑھ گئے۔ اس نے بنا مزید کوئی لفظ بولے پینٹ ہاؤس کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔ دروازے کے بند ہونے کی آواز نے پورے گھر کو ہلا دیا۔
اخنس کے جانے کے بعد مریم نے پورے گھر کا معائنہ دوبارہ شروع کیا۔ اس کا اسٹولر اب اس کے سر سے اتر کر اس کی کمر پر ایک بیلٹ کی طرح بندھ چکا تھا۔
"چلو مریم بی بی... اب اس گھر کو 'زندہ' کرتے ہیں،" اس نے اپنے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔
اس نے دیکھا کہ اخنس کے کچن میں ہر چیز اتنی سلیقے سے تھی کہ مریم کو گھٹن ہونے لگی۔ اس نے فریج کھولا اور اس میں موجود اورنج جوس اور کیل جوس کی بوتلیں نکالیں۔ "اتنے بورنگ جوس؟ انہیں تو دیکھ کر ہی بخار ہو جائے،" اس نے بڑبڑاتے ہوئے بوتلوں کو نکال کر کاؤنٹر پر رکھا۔
اس نے کچن کی ایک دراز کھولی تو وہاں نہایت ہی قیمتی اور چمکتے ہوئے چمچ اور چھریاں نہایت ترتیب سے رکھی تھیں۔ مریم نے ان کا حلیہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اسٹولر کا ایک سرا اٹھایا اور اس سے چمچوں کو آپس میں باندھ کر ایک "جھومر" بنانے کی کوشش کرنے لگی۔
"واؤ! میں تو واقعی آرٹسٹ ہوں،" اس نے خود کی تعریف کی جب اس نے اسٹولر کی مدد سے تین چار مہنگے چمچ لاؤنج کے پنکھے کے ساتھ لٹکا دیے۔
شام کے وقت جب اخنس واپس آیا، تو وہ تھکا ہوا اور غصے میں تھا۔ اس کا ایک مشن ناکام ہو گیا تھا کیونکہ اس کے دشمن نے پہلے ہی چال چل دی تھی۔ اس نے پینٹ ہاؤس کا دروازہ کھولا اور داخل ہوتے ہی جو پہلا منظر دیکھا، اس نے اس کے دماغ کی نسیں پھاڑنے پر مجبور کر دیا۔
لاؤنج کا پنکھا چل رہا تھا اور اس پر لٹکے چمچ "ٹنگ ٹنگ" کی آواز کرتے ہوئے آپس میں ٹکرا رہے تھے۔ فرش پر ہر جگہ ٹشو پیپر کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے جیسے وہاں کوئی جنگ لڑی گئی ہو۔ اور مریم؟ وہ مہنگے صوفے پر الٹی لیٹی ہوئی، اسٹولر کو رسی کی طرح پکڑے، لاؤنج میں لگے ایک بڑے سے کانچ کے گلدان کو پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی۔
"مریممممم!" اخنس کی گرج نے مریم کو صوفے سے نیچے گرا دیا۔
مریم "دھم" سے فرش پر گری مگر فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنا اسٹولر جو گلدان میں پھنسا ہوا تھا، جھٹکے سے کھینچا مگر گلدان وہیں گرا اور چور چور ہو گیا۔
سناٹا... ایک خوفناک سناٹا پینٹ ہاؤس میں پھیل گیا۔
اخنس نے اس گلدان کے ٹکڑوں کو دیکھا جو بیس لاکھ کی قیمت کا تھا اور جو اس نے اٹلی سے منگوایا تھا، اور پھر مریم کی شکل دیکھی جو اب تھوڑی سی "اوپس" والے تاثرات دے رہی تھی۔ اخنس اس کی طرف بڑھا۔ اس کے قدم زمین پر نہیں، مریم کے دل پر پڑ رہے تھے۔ اس نے مریم کو اس کے اسٹولر سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔ دونوں کے درمیان فاصلہ ختم ہو گیا۔
"تمہیں... اندازہ بھی ہے... تم نے کیا کیا ہے؟" اخنس کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ وہ موت کی سرگوشی لگ رہی تھی۔
مریم نے پہلی بار اخنس کی آنکھوں میں وہ چنگاری دیکھی جو کسی کو بھی راکھ کر سکتی تھی۔ مگر وہ مریم تھی۔ اس نے ڈرنے کے بجائے اخنس کی شرٹ کا بٹن جو تھوڑا ڈھیلا تھا، اسے پکڑ لیا۔
"اوہو! گلدان ہی تو تھا۔ کون سا آپ کی جان تھی اس میں؟ ویسے وہ گلدان کافی اداس تھا، میں نے سوچا اسے تھوڑا ایڈونچر کرواؤں۔ اور آپ اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں؟ آپ کا چہرہ بالکل 'ہاٹ شیطان' سے 'اگلی (بدصورت) شیطان' بن گیا ہے،" مریم نے نہایت معصومیت سے کہا۔
اخنس نے اسے جھٹکے سے چھوڑا۔ "وہ گلدان بیس لاکھ کا تھا!"
مریم کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ "بیس لاکھ؟ اتنے میں تو میرے یتیم خانے کی دیواریں سونے کی بن جاتیں! آپ کتنے فضول خرچ ہیں اخنس صاحب۔ اتنے پیسے ایک کانچ کے ڈھبے پر؟ آپ کو تو کوئی فنانشل ایڈوائزر (مالی مشیر) چاہیے... جیسے کہ میں!"
اخنس نے اپنا سر پکڑ لیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنا سر دیوار سے ٹکرا دے۔ اس نے دیکھا کہ پنکھے پر اب بھی اس کے مہنگے چمچ لٹک رہے تھے۔ "انہیں... نیچے... اتارو۔ ابھی!" اس نے پنکھے کی طرف اشارہ کیا۔
"وہ تو میں نے میوزک کے لیے لگائے تھے۔ آپ کا گھر اتنا خاموش ہوتا ہے جیسے کوئی مر گیا ہو۔ تھوڑی رونق تو ہونی چاہیے نا،" مریم نے اسٹولر کو دوبارہ اپنے گلے میں لپیٹتے ہوئے کہا patches۔
اخنس اس کے قریب آیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا، "تمہیں لگتا ہے یہ مذاق ہے؟ میں لوگوں کو غائب کر دیتا ہوں مریم۔ میں نے تمہیں یہاں پناہ دی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم میری زندگی کو جہنم بنا دو۔"
مریم نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ وہ اتنی قریب تھی کہ اخنس اس کی آنکھوں میں موجود شرارت کو صاف دیکھ سکتا تھا۔ "آپ تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ آپ مجھے جہنم لے جائیں گے۔ تو میں بس پریکٹس کر رہی ہوں۔ ویسے... آپ نے آج ڈیوڈرنٹ کون سا لگایا ہے؟ کافی 'فکسر' والی خوشبو آ رہی ہے،" مریم نے ناک چڑھا کر پوچھا۔
اخنس نے پہلی بار اپنی آنکھیں پھیریں۔ اس لڑکی کی باتوں کا کوئی جواب دینا دنیا کا سب سے مشکل کام تھا۔ اس نے نہایت ہی سرد لہجے میں کہا، "کچن صاف کرو۔ ایک ایک ٹکڑا اٹھاؤ۔ اور اگر دوبارہ میری کسی چیز کو ہاتھ لگایا... تو میں تمہیں اس اسٹوریج روم میں بند کر کے چابی نہر میں پھینک دوں گا۔"
"ٹھیک ہے، شیطان صاحب! پر پہلے یہ بتائیں... آپ نے میری بلیک اینڈ وائٹ ڈریس کے لیے جوتے کیوں نہیں منگوائے؟ میں ان پرانے یتیم خانے کے جوتوں میں گھوم رہی ہوں۔ کیا فکسر لوگ اتنے کنجوس ہوتے ہیں؟"
اخنس بنا جواب دیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا، مگر مریم نے پیچھے سے آواز لگائی۔ "سنیے! وہ چمچ اتارنے کے لیے مجھے آپ کے کندھے چاہیے ہوں گے، میں وہاں تک نہیں پہنچ رہی!"
اخنس نے دروازہ اتنی زور سے بند کیا کہ پینٹ ہاؤس کی کھڑکیاں لرز گئیں۔
رات کے دو بج رہے تھے۔ اخنس اپنے آفس میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر مشن کی تفصیلات چیک کر رہا تھا کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے گردن موڑی تو دیکھا مریم دروازے میں کھڑی تھی۔ اس نے اپنا اسٹولر اب ایک شال کی طرح کندھوں پر اوڑھ رکھا تھا۔
"تم اب تک سوئی کیوں نہیں؟" اخنس نے بیزاری سے پوچھا کور۔
"مجھے ڈر لگ رہا ہے،" مریم نے دھیرے سے کہا۔
اخنس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور کرسی سے اٹھا۔ "تمہیں؟ اور ڈر؟ تم تو کہتی تھیں تم نڈر ہو۔"
"میں نڈر ہوں... مگر اس گھر کی خاموشی سے ڈر لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دیواریں مجھے کھا جائیں گی۔ آپ اتنے سالوں سے یہاں اکیلے کیسے رہتے ہیں؟ کیا آپ کا کوئی دوست نہیں ہے؟ کوئی گھر والا؟"
اخنس کے چہرے پر ایک پل کے لیے ایک عجیب سا درد لہرایا، مگر فوراً ہی اس نے وہی پرانی سردی اوڑھ لی۔ "میری دنیا میں دوستوں اور رشتہ داروں کی جگہ نہیں ہوتی۔ تم جاؤ اور سو جاؤ۔"
"میں یہاں لاؤنج میں سو جاؤں؟ آپ کے صوفے پر؟" مریم نے امید سے پوچھا۔
"نہیں۔ میرے لاؤنج میں کچرا جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے،" اخنس نے نہایت ہی روڈ لہجے میں کہا۔
مریم نے ایک گہری سانس لی اور اپنا اسٹولر ٹائٹ کیا۔ "آپ واقعی شیطان ہیں۔ مگر یاد رکھیے... شیطان کو بھی کبھی نہ کبھی کسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ شب بخیر، اخنی!"
"اخنی؟" اخنس نے حیرت سے پوچھا۔
"ہاں! اخنس کافی لمبا نام ہے، تو اخنی شارٹ اور کیوٹ ہے۔ بالکل آپ کی طرح... سڑے ہوئے پر کیوٹ!" مریم نے آنکھ ماری اور بھاگ گئی۔
اخنس وہیں کھڑا رہ گیا۔ اس نے "کیوٹ" لفظ اپنے لیے زندگی میں پہلی بار سنا تھا۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا جہاں اس کی دھڑکن تھوڑی تیز ہو گئی تھی۔ "یہ لڑکی... مجھے پاگل کر دے گی،" اس نے سرگوشی کی۔
اس نے دیکھا کہ مریم نے جاتے جاتے اس کے آفس کی میز پر ایک پرانی چیونگم کا ریپر (کاغذ) رکھ دیا تھا جس پر لکھا تھا "اسائل پلیز!" (مسکرائیے پلیز)۔
اخنس نے وہ ریپر اٹھایا اور اسے کچرے کے ڈبے میں پھینکنے ہی والا تھا کہ رک گیا۔ اس نے اسے اپنی دراز میں رکھ دیا اور کرسی پر ڈھیر ہو گیا۔ اخنس کو اندازہ نہیں تھا کہ مریم صرف اس کے گھر کو نہیں، اس کے برف جیسے دل کو بھی پگھلانے کی سازش کر رہی تھی۔
(جاری ہے...)