Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 5 of 10

دائرہِ موت

عکسِ تاریک پانچواں باب:

گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگی گھڑی پر سرخ روشنی ٹمٹما رہی تھی: رات کے بارہ بج کر پچپن منٹ۔

عروج کی گاڑی پوری رفتار سے شہر کی گیلی اور اندھیری سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ باہر بارش اب اس قدر تیز تھی کہ وائپرز پانی کو صاف کرنے میں ناکام ہو رہے تھے۔ گاڑی کے ٹائروں کے نیچے سے بھیگے پتوں اور کیچڑ کے کچلنے کی آوازیں گاڑی کے اندر تک گونج رہی تھیں۔ عروج کا ایک ہاتھ اسٹیرنگ وہیل پر تھا، جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے ڈیش بورڈ پر لگے نقشوں کو کھولا ہوا تھا۔

اس کا دماغ اس روبوٹک آواز کے اشارے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا: "اگلا دائرہ پہلے ہی کھنچ چکا ہے۔۔۔ ٹھیک دو گھنٹے بعد، ڈھونڈ سکو تو ڈھونڈ لو۔"

دائرہ۔۔۔ سرمد نے بھی 'پائی' کا ذکر کیا تھا۔ پائی یعنی دائرہ۔۔۔ ایک ایسی ساخت جس کا کوئی آغاز یا خاتمہ نہیں ہوتا۔ عروج نے گاڑی کا ہیٹر بند کر دیا۔ اس کے منہ سے نکلنے والی ٹھنڈی بھاپ گاڑی کے اندر جمنے لگی، لیکن اسے سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ اس کا پورا جسم ایک انجانے تناؤ کی گرفت میں تھا۔

اس نے دھیان سے شہر کے نقشے کا مشاہدہ کیا۔ اگر پہلی فیکٹری اور کل رات کا قتل اس دائرے کا پہلا نقطہ ہیں، تو اس دائرے کا مرکز کہاں ہے؟ اس نے اپنے ذہن میں فیکٹری اور پاگل خانے کے درمیان کا فاصلہ ناپا۔

پاگل خانہ! ڈاکٹر شہریار کا اسائلم اس دائرے کا مرکز تھا۔ اگر مرکز اسائلم ہے اور پہلا قتل پرانی فیکٹری میں ہوا، تو اس کا مطلب ہے کہ اگلا قتل بالکل اسی فاصلے پر، دائرے کی دوسری سمت پر ہونا تھا۔ عروج نے دھیان سے اپنی انگلی نقشے پر چلائی۔ اس نے اسائلم سے فیکٹری تک کا فاصلہ ناپا اور پھر اس کے بالکل مخالف رخ پر اپنی انگلی کو لے گئی۔ اس کی انگلی شہر کے سب سے مہنگے اور پوش علاقے "کریسنٹ ہائٹس" پر جا کر رکی۔

کریسنٹ ہائٹس۔۔۔ امراء کا علاقہ، جہاں بڑے بڑے بیوروکریٹس، سیاستدان اور کاروباری لوگ رہتے تھے۔ "بولی۔۔۔ ڈارک ویب۔۔۔" عروج کے دماغ میں کل رات کی باتیں گونجیں۔ قاتل عام لوگوں کو نشانہ نہیں بنا رہا تھا، وہ ان لوگوں کو چن رہا تھا جن کے مرنے پر پورا ملک ہل جائے اور جن پر ڈارک ویب پر کروڑوں کی بولی لگائی جا سکے۔

اسی وقت، وارڈ نمبر تین کے اندھیرے سیل میں، زاویار کے سینے کی دھڑکن تیز تھی۔ اس کے گھٹنے پر قدیر کے لوہے کے ڈنڈے کا نشان اب نیلا سیاہ پڑ چکا تھا اور ہر حرکت کے ساتھ اس کا جسم درد سے کراہ رہا تھا۔ اس کے ہونٹ سے بہتا ہوا خون اب خشک ہو چکا تھا، لیکن اس کے دماغ میں فیصلے بجلی کی رفتار سے ہو رہے تھے۔

رات کا ایک بج کر دس منٹ ہو چکے تھے۔ قاتل اگلے شکار کو لائیو اسٹریم پر لانے والا تھا۔ ڈارک ویب پر بولی شروع ہو چکی تھی۔ اگر عروج کو یہ خبر نہ ملی، تو اگلا قتل روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ زاویار نے دھیان سے سیل کے جھرونکے سے باہر دیکھا۔ راہداری میں قدموں کی چاپ سنائی دی۔ یہ بوٹوں کی آواز نہیں تھی، بلکہ کھردری ربڑ کی چپل تھی۔

بابا شفیع۔۔۔ اسائلم کا سب سے پرانا اور خاموش خاکروب۔ وہ ایک جھکا ہوا بوڑھا شخص تھا جو رات کے اس وقت راہداریوں کو صاف کرتا تھا۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا اور ہمیشہ اپنی گردن نیچی کیے چلتا۔ زاویار نے گدے کے نیچے سے کاغذ کا ایک باریک ٹکڑا نکالا۔ اس کے پاس قلم نہیں تھا۔ اس نے اپنے خشک ہونٹ پر جمی ہوئی پپڑی کو انگلیوں سے کھینچا، جس سے دوبارہ سرخ خون باہر نکل آیا۔ اس نے اپنی انگلی کے پورے کو خون میں بھگویا اور نہایت صفائی سے کاغذ پر ایک پیغام لکھا:

"کریسنٹ ہائٹس۔۔۔ لائیو اسٹریم۔۔۔ دو بجے۔۔۔ سوپور ڈی"

اس نے کاغذ کو باریک تہہ میں فولڈ کیا۔ جب بابا شفیع اس کے سیل کے سامنے پہنچا، تو زاویار نے آہستہ سے ذہنی مریضوں جیسی آواز میں ہنسنا شروع کیا۔ "سائے۔۔۔ سائے دیوار کے باہر جا رہے ہیں۔۔۔ انہیں کہو یہ کاغذ لے جائیں۔" اس نے جھرونکے سے اپنا ہاتھ باہر نکالا جس میں وہ خون سے لکھا کاغذ تھا۔ بابا شفیع رکا، دھیان سے آس پاس دیکھا کہ کوئی گارڈ تو نہیں، اور پھر نہایت صفائی سے وہ کاغذ اپنے مٹی بھرے ہاتھ میں چھپا لیا اور بغیر کچھ بولے آگے بڑھ گیا۔ زاویار نے دیوار سے سر ٹکا دیا۔ اس نے اپنا پیغام باہر بھیج دیا تھا، لیکن کیا یہ عروج تک بروقت پہنچ سکے گا؟

رات کا ایک بج کر پچیس منٹ ہوا تھا۔ عروج کریسنٹ ہائٹس کے داخلی راستے پر کھڑی تھی۔ سڑک پر بنی بڑی بڑی کوٹھیاں دھند میں خاموش کھڑی تھیں۔ عروج نے وائرلیس سیٹ آن کیا۔ "ہیڈ کوارٹر، مجھے کریسنٹ ہائٹس میں پچھلے بارہ گھنٹے میں لاپتہ ہونے والے کسی بھی اہم شخص کی تفصیل چاہیے۔ فوری طور پر۔"

سیٹ سے آپریٹر کی ٹھنڈی آواز گونجی: "آفیسر عروج۔۔۔ دو گھنٹے پہلے پاکستان کے سب سے بڑے دفاعی وکیل، بیرسٹر جنید کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج ہوئی ہے۔ وہ اپنی گاڑی میں گھر سے نکلے تھے لیکن ان کا فون بند ہے اور گاڑی کریسنٹ ہائٹس کے کنارے پر کھڑی ملی ہے۔"

عروج کی آنکھیں سپاٹ ہو گئیں۔ بیرسٹر جنید۔۔۔ ایک ایسا شخص جس کی موت پورے ملک میں طوفان کھڑا کر سکتی تھی۔ "گاڑی کی لوکیشن کیا ہے؟" اس نے پوچھا۔ جواب ملا: "اسٹریٹ نمبر چار، سیکٹر جی۔ پرانی آرٹ گیلری کے قریب۔" عروج نے وائرلیس بند کیا اور گاڑی اسٹریٹ چار کی طرف موڑ دی۔ وقت تیزی سے بھاگ رہا تھا: ایک بج کر پینتیس منٹ۔ اس کے پاس صرف پچیس منٹ تھے۔

اسٹریٹ نمبر چار خاموش اور اندھیری تھی۔ سڑک کے کنارے پر ایک پرانی گوتھک طرز کی آرٹ گیلری کھڑی تھی۔ دروازے پر زنگ آلود تالا لٹک رہا تھا، لیکن مٹی کے نشان بتاتے تھے کہ حال ہی میں کوئی اندر گیا ہے۔ عروج گاڑی سے اتری، اپنا سرکاری پسٹل نکالا اور پچھلے دروازے کی طرف بڑھی۔

اندر سے فینائل اور سوپور ڈی کی وہی میٹھی خوشبو آ رہی تھی جو اس نے اسائلم میں محسوس کی تھی۔ عروج نے ٹارچ آن نہیں کی۔ وہ اندھیرے میں دیواروں سے چمٹ کر آگے بڑھی۔ ہال کے بالکل درمیان میں ایک لکڑی کی کرسی رکھی تھی جس پر ایک شخص بیٹھا تھا۔ اس کا سر ایک طرف جھکا ہوا تھا اور ہاتھ کرسی سے بندھے ہوئے تھے۔ یہ بیرسٹر جنید تھے۔ ان کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ وہی سپاٹ مسکراہٹ تھی جو پہلی لاش کے چہرے پر تھی۔ ان کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ چھت پر لگے فانوس کو تک رہے تھے۔ ان کے بالکل سامنے ایک تپائی پر کیمرہ رکھا ہوا تھا جس کی نیلی روشنی ٹمٹما رہی تھی۔ لائیو اسٹریم شروع ہو چکی تھی۔

عروج نے بیرسٹر جنید کی نبض چھوئی۔ وہ چل رہی تھی لیکن بہت دھیمی۔ سوپور ڈی اپنا کام کر رہا تھا۔ اچانک گیلری کے کونے میں لگے بڑے پروجیکٹر اسکرین پر پیلی روشنی جاگی۔ عروج نے پسٹل اس رخ پر کیا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ اسکرین پر ایک لائیو چیٹ روم کھلا تھا جہاں دنیا بھر سے پیغامات آ رہے تھے:

صارف نمبر نو سو دو: "کیا یہ وہی پروفائلر ہے؟" سایہ نمبر چھیاسٹھ: "یہ بالکل وقت پر پہنچی ہے۔ بولی اب بیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔"

عروج کی سانس سینے میں جم گئی۔ وہ اس وقت لائیو اسٹریم پر تھی اور دنیا بھر کے امیر لوگ اسے دیکھ رہے تھے۔ اسکرین سے وہی روبوٹک آواز گونجی:

"خوش آمدید عروج۔ تم نے دائرے کو ٹھیک ناپا ہے۔ لیکن تم نے یہ نہیں سوچا کہ دائرہ صرف راستہ نہیں دکھاتا، وہ قید بھی کرتا ہے۔ ٹھیک دس منٹ بعد بیرسٹر جنید کے دل کی دھڑکن رک جائے گی، اور اس کمرے کا لاک ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔"

ایک بھاری آواز کے ساتھ پچھلا دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ عروج نے تیزی سے دروازے کی طرف رخ کیا، لیکن وہ باہر سے مقفل ہو چکا تھا۔ وہ اس اندھیری گیلری میں ایک مرتے ہوئے شخص اور لائیو کیمرے کے سامنے قید ہو چکی تھی۔ گھڑی پر ایک بج کر پچاس منٹ ہو رہے تھے۔ بیرسٹر جنید اور خود کو بچانے کے لیے اس کے پاس صرف دس منٹ تھے۔

Comments