Chapter 6 of 10
عکسِ فریب
عکسِ تاریک چھٹا باب:
رات کے ایک بج کر چھپن منٹ ہو رہے تھے۔
آرٹ گیلری کے اندھیرے ہال میں موت کی میٹھی بو بڑھ رہی تھی۔ بیرسٹر جنید کی سانس لینے کی آواز اب صرف ایک دھیمی اور کھردری سڑسراہٹ میں بدل چکی تھی۔ عروج نے اپنی پستول کو نہایت احتیاط سے اپنی بیلٹ میں پیوست کیا۔ اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا—وہ بھاری لوہے کے دروازے کو گولی مار کر نہیں کھول سکتی تھی، اور وقت صرف چار منٹ باقی بچا تھا۔
اس نے تیزی سے تپائی پر کھڑے کیمرے اور اس کے برابر میں رکھی ہوئی چھوٹی سفید دوا کی شیشی کو دیکھا۔ شیشی پر کوئی نام نہیں تھا، لیکن اس کے اندر ایک شفاف مائع موجود تھا۔ یہ تریاق تھا۔ قاتل اس کھیل کو دلچسپ بنانا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے زہر مار دوا کو مقتول کے بالکل سامنے رکھا تھا، تاکہ اگر عروج بروقت پہنچ سکے تو اسے بچا لے۔
عروج نے تیزی سے سرنج اٹھائی، شیشی سے مائع کو باہر کھینچا، اور نہایت صفائی سے بیرسٹر جنید کے بازو میں اتار دیا۔ اس نے ان کے سینے پر دونوں ہاتھوں سے دباؤ دینا شروع کیا—ایک، دو، تین۔۔۔
پروجیکٹر کی اسکرین پر سرخ نمبر تیزی سے بدل رہے تھے: پینتالیس سیکنڈ۔ عروج کے سینے کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی، لیکن اس کی انگلیوں نے جنید کے سینے پر دباؤ برقرار رکھا۔ اچانک جنید نے ایک جھٹکے سے لمبی سانس لی، اور ان کی آنکھوں کی پتلیاں ہلکی سی ہلنے لگیں۔ زہر کا اثر رک رہا تھا۔ لیکن دروازہ ابھی بھی بند تھا، اور گنتی ختم ہونے میں صرف دس سیکنڈ باقی تھے۔
اچانک پچھلے دروازے کا بھاری دہرا لاک باہر سے کسی نے کھول دیا۔ دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور باہر سے بارش کے پانی کی ٹھنڈی بوچھاڑ کے ساتھ دھند اندر داخل ہوئی۔ عروج نے فوراً اپنی پستول نکال کر دروازے پر نشانہ لگایا۔
ٹارچ کی تیز سفید روشنی کے پیچھے سے ایک شخص گھبرایا ہوا اندر داخل ہوا۔ وہ انس تھا—عروج کا جونیئر ساتھی۔ اس کا رین کوٹ گیلا تھا اور اس کے ہاتھوں میں محکمے کی چابیوں کا گچھا تھا۔ اس کا چہرہ پسینے اور بارش کے پانی سے بھیگ رہا تھا۔
"عروج! تم ٹھیک ہو؟" انس نے سانس پھولتے ہوئے پوچھا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی گھبراہٹ تھی، اور اس کی آنکھیں کمرے کے کونے میں لگے کیمرے اور اسکرین پر جمی تھیں۔
عروج نے اپنی پستول نیچے نہیں کی۔ اس کی سپاٹ آنکھوں نے انس کے ہاتھوں میں پکڑی چابیوں کو غور سے دیکھا۔ "تم یہاں کیسے پہنچے، انس؟" عروج نے ٹھنڈی آواز میں پوچھا۔ "میں نے اپنی لوکیشن محکمے کو نہیں بھیجی تھی۔"
انس نے تھوک نگلا۔ اس کی انگلیاں چابیوں کے گچھے پر کس گئیں۔ "وہ۔۔۔ میں نے تمہارے مقام کا پتا لگانے والے نظام کا پیچھا کیا تھا۔ ہیڈ کوارٹر پر جب بیرسٹر جنید کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ آئی، تو مجھے شک ہوا کہ تم کریسنٹ ہائٹس کی طرف گئی ہو۔ میں تمہاری مدد کے لیے آیا ہوں۔"
عروج نے آہستہ سے پستول بیلٹ میں رکھی، لیکن اس کی نگاہیں انس کے چہرے پر جمی رہیں۔ انس کا یہ برتاؤ، اس کا بروقت پہنچنا، اور اس کے پاس ان مخصوص چابیوں کا ہونا۔۔۔ اس سنگین دلدل میں ایک نیا شک پیدا کر رہا تھا۔ کیا محکمے کے اندر سے خبریں باہر پہنچانے والا انس ہی تھا؟
اگلے دن کی صبح الشفاء اسائلم کے وارڈ نمبر تین میں پیلی روشنیاں دھیمی تھیں۔ راہداری میں جراثیم کش ادویات کی بو کے بیچ سناٹا تھا۔ زاویار اپنے سیل کے کونے میں خاموش بیٹھا تھا۔ اس کا پورا جسم کل رات کی ٹھنڈ اور قدیر کے تشدد سے دکھ رہا تھا، لیکن اس کا دھیان سیل کے باہر سے آنے والی قدموں کی چاپ پر تھا۔
یہ وارڈنز کے بھاری بوٹوں کی آواز نہیں تھی، بلکہ نرم جوتوں کے چلنے کی آہٹ تھی۔ ڈاکٹر شہریار اپنے سفید کلینیکل کوٹ میں مریضوں کا معائنہ کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک انتہائی نرم، شفیق اور دردمندانہ مسکراہٹ تھی—ایک ایسی مسکراہٹ جو کسی مسیحا کی پہچان ہوتی ہے۔
وہ ایک پرتشدد مریض، کریم کے سیل کے سامنے رکے۔ کریم دیوار سے اپنا سر ٹکرا رہا تھا اور رو رہا تھا۔ ڈاکٹر شہریار نے گارڈز کو پیچھے رہنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے دروازہ کھولا، اور نہایت نرم مزاجی سے کریم کے پاس بیٹھ گئے۔
"کریم۔۔۔ کوئی بات نہیں،" ڈاکٹر شہریار نے نہایت گرم اور شیریں آواز میں کہا۔ انہوں نے کریم کے مٹی سے بھرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا، اور اپنی جیب سے سفید رومال نکال کر کریم کے آنسو صاف کیے۔ "تم یہاں بالکل محفوظ ہو۔ میں تمہیں ٹھیک کر دوں گا۔" کریم کا رونا آہستہ آہستہ بند ہو گیا، اور اس نے اپنا سر ڈاکٹر شہریار کے کندھے پر رکھ دیا۔ ڈاکٹر اس کی پیٹھ پر آہستہ سے ہاتھ پھیرتے رہے۔
زاویار نے لوہے کے جھرونکے سے یہ سب دیکھا۔ اس کا دماغ الجھن میں ڈوب گیا۔ کیا یہ وہی شخص ہے جو کل رات ڈارک ویب پر انسانی زندگیوں پر بولی لگوانے کی بات کر رہا تھا؟ اس کی شفقت اس قدر سچی اور حقیقی لگ رہی تھی کہ کوئی بھی عقل مند انسان اس پر شک نہیں کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر شہریار زاویار کے سیل کے سامنے رکے۔ ان کی آنکھوں میں ایک باپ جیسی ہمدردی تھی۔ انہوں نے گارڈ کی طرف رخ کیا: "اس کی ذہنی حالت بہت سنگین ہے، لیکن سردی بہت زیادہ ہے۔ اس کے سیل میں ایک گرم کمبل بھیجیں، اور اس کے لیے گرم کھانے کا بندوبست کریں۔ ہم یہاں ان کا علاج کرنے آئے ہیں، انہیں تکلیف دینے نہیں۔"
ڈاکٹر شہریار نے زاویار کی طرف دیکھا، آہستہ سے اپنا سر ہلایا—ایک نرم، دلاسا دینے والا اشارہ—اور آگے بڑھ گئے۔ ڈاکٹر کا یہ مسیحا نما کردار زاویار کے مشن کو مزید مشکل بنا رہا تھا۔
شہر کے دوسری طرف، پروفیسر ہاشم کے پرانے اور خاموش گھر کے اندر سردی کا پہرہ تھا۔ گھر کے اندر بارش کے پانی کے ٹپکنے کی آواز بھی نہیں تھی—صرف ایک رکی ہوئی خاموشی تھی۔
پروفیسر ہاشم اپنی بیٹی کے خالی کمرے میں فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں ایک ٹوٹا ہوا لوہے کا میوزک باکس تھا جو ان کی بیٹی کا تھا۔ ان کے سفید بال بکھرے ہوئے تھے، اور ان کا چہرہ بالکل خالی تھا—ان میں دنیا کے کسی کیس یا کسی پولیس کی دوڑ دھوپ کا کوئی اثر نہیں تھا۔ وہ اپنی نرم، لرزتی ہوئی انگلیوں سے میوزک باکس کی چابی کو گھمانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایک چرچراہٹ کے ساتھ میوزک باکس کے اندر کا اسپرنگ مزید ٹوٹ گیا۔ ہاشم کے ہونٹ ہلکے سے ہلے، لیکن ان کے منہ سے کوئی لفظ باہر نہیں آیا۔ وہ صرف کھڑکی سے باہر گرتی ہوئی خاموش بارش کو تک رہے تھے۔ ان کا دماغ اپنی بیٹی کے ماضی میں اس قدر گم ہو چکا تھا کہ انہیں یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ باہر دنیا میں کیا چل رہا ہے۔ ان کا اس سنگین کیس سے دور دور تک کوئی ظاہری رابطہ محسوس نہیں ہو رہا تھا—وہ صرف ایک ٹوٹے ہوئے باپ تھے جو اپنی بیٹی کے دکھ کے زندان میں ہمیشہ کے لیے قید ہو چکے تھے۔
سہ پہر کے تین بجے کا وقت تھا۔ ہیڈ کوارٹر کے نجی تحقیقاتی کمرے میں عروج وائٹ بورڈ کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے شیشے کی دیوار کے پار راہداری میں کھڑے انس کو دیکھا۔ انس بہت گھبرایا ہوا لگ رہا تھا۔ وہ لگاتار اپنے فون پر انگلیاں چلا رہا تھا، اور اس کے چہرے پر پسینے کی باریک بوندیں چمک رہی تھیں—حالانکہ کمرے کا اے سی بہت ٹھنڈا تھا۔
عروج نے اپنی میز پر رکھی ہوئی فوٹو کاپی لاگ بک کو دھیان سے کھولا۔ اس میں درج تفصیلات کے مطابق، پچھلے دو دنوں میں بیرسٹر جنید کی فائل اور کریسنٹ ہائٹس کے نقشوں کو صرف ایک ہی کمپیوٹر سے کھولا گیا تھا—اور وہ کمپیوٹر انس کا تھا۔ اس نے یہ فائلیں رات کے وقت، بنا کسی اجازت کے کاپی کی تھیں۔
عروج کی آنکھوں میں ایک سنگین چمک جاگی۔ انس اس کا سب سے قریبی جونیئر تھا۔ اس کے پاس عروج کے ہر قدم اور اس کی ہر دریافت کا ریکارڈ ہوتا تھا۔ اگر انس باہر قاتل کے ساتھ رابطے میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ قاتل کو پہلے سے پتہ ہوتا تھا کہ عروج کب اور کہاں پہنچے گی۔ عروج نے لاگ بک کو دھیان سے بند کیا، اور اسے اپنی دراز میں مقفل کر دیا۔ اسے ابھی انس کے سامنے یہ ظاہر نہیں کرنا تھا کہ وہ اس پر شک کر رہی ہے۔
شام کے پانچ بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ دھند اب مزید سنگین ہو کر ہیڈ کوارٹر کے در و دیوار کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ انس آہستہ سے چلتا ہوا عروج کے کیبن کے دروازے پر آیا۔
"عروج۔۔۔ ایک نئی لیڈ ملی ہے،" انس نے کیبن کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں ہلکی سی تھرتھراہٹ تھی۔ "سرمد کے پرانے کیسز میں سے ایک خفیہ کوٹھڑی کا پتہ چلا ہے جو شہر کے کنارے پر ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں وہیں جانا چاہیے۔"
عروج نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ "ہم وہیں کل صبح جائیں گے، انس۔ ابھی سردی اور دھند بہت زیادہ ہے۔"
"لیکن۔۔۔ اگر ہم ابھی نہ گئے، تو قاتل ثبوت مٹا دے گا،" انس نے اصرار کیا۔ اس کے ہاتھ کی انگلیاں لگاتار اس کے فون کو دبا رہی تھیں۔
عروج نے ابھی جواب نہیں دیا تھا کہ اس کے فون پر ایک خفیہ کال آئی۔ یہ میل روم کے سینئر ڈسپچر کی تھی۔ "آفیسر عروج۔۔۔ الشفاء اسائلم سے ایک خفیہ لفافہ ابھی ابھی آپ کے نام پہنچا ہے۔ یہ کسی خاکروب نے باہر کے سیکیورٹی ڈراپ میں ڈالا ہے۔ لفافے کے اندر کاغذ پر خون سے لکھا ہوا کچھ ملا ہے۔"
عروج کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے وائٹ بورڈ پر لگے دائرے کو دیکھا، اور پھر انس کے چہرے پر جمی ہوئی گھبراہٹ کو۔ انس نے اپنا فون تیزی سے اپنی جیب میں چھپایا، اور اس کی نگاہیں عروج کے فون پر جم گئیں۔
"میں ابھی آ رہی ہوں،" عروج نے فون پر کہا اور کھڑی ہو گئی۔ اس کا ہاتھ کوٹ کی جیب میں چلا گیا جہاں اس کی پستول رکھی تھی۔ تجسس اب ہیڈ کوارٹر کی راہداریوں میں آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔