Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 4 of 10

عکس کے پیچھے عکس

عکسِ تاریک چوتھا باب

سیل نمبر 103 کے گولی روک شیشے کے درمیان جمی ہوئی باریک جالی سے سرمد کی نرم اور مدھم آواز کسی زہریلی سرگوشی کی طرح راہداری میں گونجی۔

عروج نے اپنے دونوں ہاتھ اونی کوٹ کی جیبوں میں سختی سے بند رکھے۔ اس کی انگلیوں نے کوٹ کے اندر چھپے ہوئے چھوٹے سے ٹیپ ریکارڈر کے سوئچ کو خاموشی سے دبا دیا، لیکن اس کے چہرے پر ایک ملی میٹر کی بھی تبدیلی ظاہر نہیں ہوئی۔ اس کی سانس کی رفتار بالکل ہموار رہی۔

"تم میرا نام کیسے جانتے ہو، سرمد؟" عروج نے آہستہ سے پوچھا۔ اس کی آواز ٹھنڈی اور پیشہ ورانہ تھی۔

سرمد نے شیشے پر سے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ اس کی آنکھوں کی سپاٹ کالی پتلیاں بالکل ساکت تھیں— ان میں انسانی جذبات کے نشانات بالکل مٹ چکے تھے۔ اس نے ایک ہلکی اور دھیمی ہنسی ہنسی۔

"میں تمہارا نام ہی نہیں جانتا، عروج۔۔۔ میں تمہارے ذہن کے دھڑکنے کی آواز بھی سن سکتا ہوں،" سرمد نے جالی کے قریب ہو کر کہا۔ اس کے منہ سے نکلنے والی بھاپ شیشے پر دھند پیدا کر رہی تھی۔ "تمہاری کلائی کی دھڑکن۔۔۔ تمہارے بوٹوں کے چلنے کا ڈھنگ۔۔۔ تم نے کل رات اس لاش کو دیکھا ہے، ہے نا؟ پرانی فیکٹری کے کھنڈر میں۔۔۔ کرسی پر بیٹھا ہوا شخص۔۔۔ جس کے سوٹ پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ اور اس کے ہونٹوں پر ایک عجیب، سپاٹ مسکراہٹ تھی۔۔۔"

عروج کے سینے میں ایک ہلکی سی چبھن ہوئی۔ اس کی سانس ایک لمحے کے لیے رکی۔ کل رات کے جائے وقوعہ (Crime Scene) کی یہ تفصیلات سرکاری فائلوں کے باہر کسی کو معلوم نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ مقامی میڈیا کو بھی موت کی وجہ اور جسم کی حالت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ تو پھر سرمد کو یہ سب کیسے پتہ تھا؟

"تمہیں یہ تفصیلات کس نے بتائیں، سرمد؟" عروج نے ایک قدم آگے بڑھایا، اس کا جسم شیشے سے صرف دو انچ دور تھا۔ "اس پاگل خانے کے اندر سے کون ہے جو تمہیں باہر کی خبریں دے رہا ہے؟"

سرمد نے اپنا سر تھوڑا سا جھٹکایا۔ "خبریں؟" اس نے آہستہ سے پوچھا۔ "مجھے کسی خبر کی ضرورت نہیں ہوتی، عروج۔ باہر جو ہے وہ میرا 'عکس' ہے۔ جو نشان وہ مٹی پر چھوڑتا ہے، وہ میرے دماغ کے نقشے پر ابھرتے ہیں۔ جو کاغذ اس نے پاکٹ واچ میں رکھا۔۔۔ کیا تم نے اس پر لکھے حروف کو دھیان سے پڑھا؟"

"سائے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔۔۔" عروج نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔

سرمد نے شیشے پر اپنی انگلیوں کو آہستہ سے ہلایا۔ "ہاں۔۔۔ سائے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ لیکن تم ابھی بھی سچائی سے ڈر رہی ہو۔ تم یہاں یہ ڈھونڈنے آئی ہو کہ باہر قاتل کون ہے۔۔۔ جبکہ تمہارا دماغ اچھی طرح جانتا ہے کہ اصلی خطرہ قاتل نہیں، بلکہ وہ دلدل ہے جس میں تمہارے قدم دھنستے جا رہے ہیں۔"

دو راہداریاں دور، وارڈ 3 کے ایک اندھیرے سیل میں، زاویار—جو اب "زہیب احمد" نامی دیوانہ مریض تھا—فرش پر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے سیل کی دیواریں نم اور کھردری تھیں اور ہوا میں سستی فینائل کی بو رچی ہوئی تھی۔

اچانک، لوہے کا بھاری دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ وارڈنز کا چیف، قدیر—ایک بھاری بھرکم، زنگ آلود چہرے والا شخص—اپنے ہاتھ میں لوہے کا ڈنڈا لیے اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے دو گارڈز کھڑے تھے۔ قدیر کی آنکھوں میں شبہ اور سنگینی تھی۔ وہ زاویار کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔

"زہیب۔۔۔" قدیر نے لوہے کے ڈنڈے سے زاویار کے کندھے پر زور سے مارا۔

زاویار نے کوئی غصہ ظاہر نہیں کیا۔ اس نے اپنا سر ہلکا سا جھٹکایا اور عجیب ڈھنگ سے اپنے ہاتھوں کو ہلا کر دھیمی آواز میں ہنسنے لگا۔ اس کا یہ برتاؤ بالکل حقیقی لگ رہا تھا، لیکن اس کا دماغ بالکل بیدار تھا۔

"وہ۔۔۔ وہ دیواروں میں بول رہے ہیں، انہیں کہو خاموش ہو جائیں،" زاویار نے ہکلاتے ہوئے کہا۔

"چپ کر سالے!" قدیر نے چلا کر کہا۔ اس نے اچانک زاویار کے ہاتھ کو پکڑا اور اس کی انگلیوں کو دھیان سے دیکھنے لگا۔ "ہاتھ بالکل نرم ہیں۔۔۔ کوئی کھردرا پن نہیں۔ اور تمہاری کلائی پر یہ نشان۔۔۔ یہ ہتھکڑیوں کے نئے نشان ہیں۔ تم عام پاگل نہیں لگتے۔" قدیر نے لوہے کے ڈنڈے کی نوک کو زاویار کے گھٹنے پر زور سے دبایا۔

درد کی ایک تیکھی لہر زاویار کے جسم میں دوڑ گئی۔ اس کے جسم نے فوری طور پر ردِعمل (Reaction) ظاہر کرنا چاہا، لیکن اس نے اپنی تربیت پر بھروسہ کیا۔ اس نے اپنا گھٹنا پیچھے نہیں کھینچا، بلکہ وہ فرش پر گر گیا اور عجیب ڈھنگ سے رونے لگا، جیسے کوئی بچہ ہو۔

قدیر نے اسے غور سے دیکھا، پھر ڈنڈا پیچھے ہٹا لیا۔ "لگتا ہے واقعی دماغ سے خالی ہے،" اس نے تھوکتے ہوئے کہا۔ "چلو، اس پر نظر رکھو۔ ڈاکٹر شہریار نے کہا ہے کہ اس کی خوراک (Dose) کا دھیان رکھا جائے۔"

سرمد کی کوٹھڑی کے باہر عروج اب بھی کھڑی تھی۔ "میرا دماغ کسی دلدل میں نہیں ہے، سرمد،" اس نے ٹھنڈی آواز میں کہا۔ "میں قانون کے تحت کام کرتی ہوں اور اسی کے تحت تمہارے اس نئے شاگرد کو ڈھونڈ نکالوں گی۔"

سرمد کے ہونٹوں پر ایک خوفناک مسکراہٹ جاگی۔ "قانون؟" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ "قانون صرف ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو دیواروں کے باہر خوف میں جیتے ہیں۔ باہر جو ہے وہ قانون سے نہیں ڈرتا۔ وہ ایک 'تھیٹر' (تماشا) بنا رہا ہے۔ کل رات جو شخص مرا، وہ صرف ایک اشارہ تھا۔ اگلا نشانہ پہلے سے تیار ہے۔ اس کے دماغ میں زہر پہلے ہی پھیل چکا ہے، اور وہ بالکل پرسکون ہو کر موت کی چابی کا انتظار کر رہا ہے۔"

عروج کے سینے میں ایک ہلکی سی لرزش ہوئی۔ "تمہیں کیسے پتہ کہ اگلا نشانہ تیار ہے؟ کیا تمہارا اس سے رابطہ ہے؟"

سرمد نے شیشے کے مزید قریب ہو کر بالکل مدھم آواز میں کہا: "مجھے رابطے کی ضرورت نہیں ہے، عروج۔ میں اس زہر کی ساخت کو جانتا ہوں۔ وہ انسان کو ایک ایسی جھوٹی خوشی میں لے جاتا ہے جہاں وہ اپنا ہی گلا کاٹنے پر راضی ہو جائے۔ تم یہاں یہ پوچھنے آئی ہو کہ کیا اگلا نشانہ تم ہو؟"

عروج نے اپنا سر ہلکا سا اٹھایا۔ اس کی آواز میں اب خوف نہیں، بلکہ ایک سنگین عزم تھا۔ "میں اگلا نشانہ نہیں ہوں، سرمد۔ میں وہ ہوں جو اس کھیل کو ختم کرے گی۔"

سرمد آہستہ سے پیچھے ہٹا اور دوبارہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں دوبارہ فرش پر جم گئیں، جیسے وہ وہاں تھا ہی نہیں۔

رات کے بارہ بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ پاگل خانے کے اندر مکمل سناٹا تھا، صرف رونے کی مدھم آوازیں دیواروں کے پیچھے سے آ رہی تھیں۔ زاویار نے اپنے سیل کے لوہے کے دروازے کے پاس قدم بڑھائے۔ اس نے منہ سے وہ باریک تار نکالی جو اس نے وارڈن کے بیلٹ سے چرائی تھی۔ 'کلک'۔۔۔ تالا کھل چکا تھا۔

زاویار سائے کی طرح دیواروں سے چمٹ کر بڑھ رہا تھا۔ راہداری کے آخر میں ڈاکٹر شہریار کے دفتر کی کھڑکی سے پیلی روشنی باہر آ رہی تھی۔ وہ اس کھڑکی کے نیچے بیٹھ گیا اور اندر ہونے والی گفتگو سننے لگا۔

"سرمد ابھی بھی دھیان سے کام کر رہا ہے،" ڈاکٹر شہریار کی آواز آئی۔ "وہ لڑکی۔۔۔ عروج۔۔۔ وہ بہت قریب پہنچ رہی ہے۔ کیا تمہارے باہر کے بندے نے اپنا کام پورا کر لیا؟"

دوسری آواز وارڈنز کے چیف، قدیر کی تھی: "ہاں سر۔ ڈارک ویب پر بولی شروع ہو چکی ہے۔ امیر لوگ اس 'مائنڈ گیم' پر کروڑوں لگانے کو تیار ہیں۔ اگر عروج نے اس پہیلی کو بروقت حل نہ کیا۔۔۔ تو اگلا نشانہ لائیو اسٹریم پر ہوگا۔"

زاویار کا گلا خشک ہو گیا۔ یہ صرف ایک قاتل کا کام نہیں تھا، بلکہ ایک بہت بڑا عالمی گروہ تھا جو انسانی زندگیوں پر جوا کھیلتا تھا۔ اس نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، لیکن اس کا پاؤں پانی کے ایک قطرے پر پڑا۔

'چھپاک!'

"کون ہے وہاں؟!" قدیر کی آواز گونجی۔

زاویار کے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ وہ تیزی سے بے آواز فرش پر بھاگا اور اپنے سیل میں داخل ہو کر دوبارہ "زہیب" کی شکل اختیار کر لی۔ جب گارڈ نے ٹارچ کی روشنی اندر ڈالی، تو زاویار پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔ گارڈ بڑبڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔

عروج اپنی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ پاگل خانے سے باہر نکلتے ہی بارش مزید تیز ہو گئی تھی۔ عروج کے دونوں ہاتھ اسٹیرنگ وہیل پر جمے ہوئے تھے، لیکن اس کا دماغ سرمد کے الفاظ پر گھوم رہا تھا: "تم یہاں یہ پوچھنے آئی ہو کہ کیا اگلا نشانہ تم ہو؟"

اس نے گاڑی سڑک کے کنارے روکی۔ اچانک، ڈیش بورڈ پر رکھا اس کا سرکاری فون تھرتھرانے لگا۔ اسکرین پر کوئی نمبر نہیں تھا—صرف "نامعلوم نمبر" (Unknown Number) چمک رہا تھا۔

عروج نے فون کان سے لگایا۔ دوسری طرف سے کوئی بول نہیں رہا تھا، صرف بارش کے گرنے کی آواز آ رہی تھی— لیکن یہ بارش باہر کی نہیں تھی، بلکہ فون کے اندر سے آ رہی تھی۔ پھر، ایک عجیب روبوٹک آواز گونجی:

"دروازے کھل چکے ہیں، عروج۔ تم نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ لیکن یاد رکھنا۔۔۔ جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے، وہ اصلی عکس نہیں ہے۔ اگلا دائرہ پہلے ہی کھنچ چکا ہے۔ ٹھیک دو گھنٹے بعد، ڈھونڈ سکو تو ڈھونڈ لو۔"

کال کٹ گئی۔ عروج کے ہاتھوں کی تھرتھراہٹ اب مزید واضح ہو چکی تھی۔ قاتل کو اندازہ تھا کہ وہ اس وقت پاگل خانے سے باہر آئی ہے۔ وہ اس پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے تھا۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور پوری رفتار سے شہر کی اندھیری سڑک پر دوڑا دی۔ وقت کم تھا اور اگلا دائرہ کہیں بھی ہو سکتا تھا۔

Comments