Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 8 of 10

دشمن کی دہلیز

عکسِ تاریک آٹھواں باب:

صبح کے ساڑھے چھ بجے کا وقت تھا۔

صبح کی دھند اس قدر سنگین تھی کہ سڑک کے کنارے کھڑے پرانے درخت صرف دھیمے اور کالے سایوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ عروج کی گاڑی خاموشی سے کہرے کو چیرتی ہوئی ڈھلوان راستے پر بڑھ رہی تھی۔ گاڑی کے وائپرز ٹھنڈی ونڈ شیلڈ پر جمے پانی کو آہستہ سے صاف کر رہے تھے— ایک مخصوص ردھم والی آواز کے ساتھ۔ عروج کے دونوں ہاتھ اسٹیرنگ وہیل پر کسے ہوئے تھے۔ اس نے کل رات کے بعد سے کسی بھی قسم کی پولیس نفری طلب نہیں کی تھی، کیونکہ دستاویزات سے یہ ثابت ہو چکا تھا کہ محکمے کے اندر کوئی ایسا شخص ہے جو ہر خبر باہر پہنچا رہا ہے۔ وہ اب کسی پر یقین نہیں کر سکتی تھی۔

اس کی نگاہیں سڑک پر جمے کیچڑ اور دھند پر تھیں، لیکن اس کا دماغ الشفاء اسائلم کے اندر قید زاویار پر اٹکا ہوا تھا۔

"کل صبح۔۔۔ الشفاء اسائلم میں تمہارا آخری امتحان ہوگا۔"

اس نے گاڑی کو اسائلم کے عالی شان لوہے کے دروازے سے تھوڑا پیچھے، درختوں کے سائے میں پارک کیا۔ اس نے گاڑی کی روشنیاں بند کیں اور اپنا لمبا سیاہ اونی کوٹ پہن کر باہر نکل آئی۔ ہوا اس قدر سرد تھی کہ اس کی سانس لیتے ہی حلق میں خشکی کا احساس ہوا۔ اس نے دھیان سے اپنی بیلٹ میں رکھی پستول کو چیک کیا، اس کا سیفٹی کیچ بند تھا۔ اس نے اپنے بوٹوں کی آواز کو دباتے ہوئے اسائلم کے داخلی دروازے کی طرف بڑھنا شروع کیا۔

اسائلم کے دفتر کے اندر کی ہوا ٹھنڈی اور سستی فینائل کی بو سے بھری ہوئی تھی۔ عروج جب اندر داخل ہوئی، تو وہاں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ فرش پر لگی سفید ٹائلوں پر برسوں کی رگڑ کے نشانات تھے اور دیواروں سے سیم زدہ نمی کی بو ہوا میں تیر رہی تھی۔

میز کے پیچھے بیٹھا ہوا کلرک—ایک تھکا ہوا اور سپاٹ چہرے والا شخص—پرانی رجسٹری پر دھیان سے کچھ لکھ رہا تھا۔ اس کے قلم کی کاغذ پر گھسنے کی آواز کمرے میں صاف سنائی دے رہی تھی۔

"مجھے 'زہیب احمد' (زاویار) سے ملنا ہے،" عروج نے پستول کے ہولسٹر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ٹھنڈی آواز میں کہا۔ "وارڈ نمبر تین، سیل نمبر ایک سو پانچ۔"

کلرک نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی جذبات نہیں تھے—صرف ایک سپاٹ اور دفتری خالی پن تھا۔ اس نے اپنی عینک کو ناک پر ٹھیک کیا اور آہستہ سے رجسٹری کے صفحات پلٹے۔ "زہیب احمد۔۔۔ ان کا کیس نفسیاتی معائنے کے تحت چل رہا ہے،" کلرک نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ "آج صبح ان کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر شہریار کے احکامات کے مطابق، کسی بھی باہر کے شخص کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے جب تک یہ ٹیسٹ مکمل نہ ہو جائیں۔"

عروج نے میز پر اپنا ہاتھ تھوڑا سخت کیا۔ "میں سرکاری تحقیقات کے سلسلے میں آئی ہوں،" اس نے کہا، اس کی آواز میں ایک سنگین دباؤ تھا۔ "مجھے فوری طور پر ان کے سیل کی طرف لے کر جاؤ۔"

کلرک نے رجسٹری بند کی۔ اس کے بند ہونے کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔ "آپ کو تھوڑا انتظار کرنا ہوگا، آفیسر۔ میں اندر نگران کو اطلاع بھیجتا ہوں۔"

کلرک نے انٹرکام اٹھایا اور دھیمی آواز میں بات کرنے لگا۔ عروج نے اس کے ہاتھوں کی تھرتھراہٹ اور اس کی بچتی ہوئی نگاہوں کو بھانپ لیا۔ وہ اسے روک رہے تھے۔ وہ وقت ضائع کر رہے تھے تاکہ اندر کوئی اپنا کام پورا کر سکے۔ عروج نے مزید انتظار نہیں کیا۔ وہ آہستہ سے چلتی ہوئی راہداری کے بھاری لوہے کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

اسی وقت، وارڈ نمبر تین کی گیلی راہداریوں میں سناٹا تھا۔ زاویار (زہیب) اپنے سیل کے کونے میں لیٹے لیٹے آہستہ سے اٹھا۔ اس کا پورا جسم سردی سے کانپ رہا تھا، لیکن اس کا دماغ پوری طرح بیدار تھا۔ اس نے کل رات زہریلا سوپ نہیں پیا تھا، اس لیے وہ ہوش میں تھا۔

اس نے سیل کے دروازے کے جھرونکے سے باہر دیکھا۔ راہداری کے آخر میں کھڑا گارڈ صبح کی دواؤں والی گاڑی لینے کے لیے دوسری طرف مڑا تھا۔ زاویار کے پاس صرف تین منٹ تھے۔ اس نے اپنی جیب سے وہ باریک لوہے کی تار نکالی۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈک سے نیلے پڑ رہے تھے، لیکن اس نے گرفت مضبوط رکھی۔ اس نے تار کو تالے میں ڈالا اور نہایت آہستہ سے گھمایا۔

'کلک!'۔۔۔ تالا کھل چکا تھا۔

زاویار نے دروازے کو آہستہ سے دھکا دیا۔ وہ بے آواز قدموں کے ساتھ راہداری میں باہر آیا۔ اس کے ننگے پاؤں فرش پر جمے پانی کے قطروں پر پڑتے ہوئے کوئی آہٹ پیدا نہیں کر رہے تھے۔ وہ سائے کی طرح دیواروں سے چمٹ کر بڑھ رہا تھا۔ اس کا مقصد ان راہداریوں میں گھومنا نہیں تھا۔ اس نے کل رات سنا تھا کہ لائیو اسٹریم کا کنٹرول اور دواؤں کی ترسیل اسی عمارت کے تہخانے سے ہوتی ہے۔ اسے اس سرور روم تک پہنچنا تھا تاکہ وہ ان دستاویزات یا ریکارڈ کو ڈھونڈ سکے جہاں سے یہ نشریات پھیلائی جا رہی تھیں۔ وہ وارڈ نمبر تین کے آخر میں بنی لوہے کی پرانی سیڑھیوں کی طرف بڑھا جو نیچے اندھیرے تہخانے کی طرف جاتی تھیں۔

تہخانے کے اندر کا ماحول وارڈ سے بھی زیادہ خوفناک اور ٹھنڈا تھا۔ یہاں دیواروں سے پانی لگاتار ٹپک رہا تھا— ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔ ہوا میں زنگ آلود لوہے اور کسی قدیم سناٹے کی بو رچی ہوئی تھی۔ یہاں کوئی لائٹ نہیں تھی، صرف کونے میں لگا ایک دھیما پیلا بلب دھند میں ہلکی سی روشنی پھیلا رہا تھا۔

زاویار دھیان سے چلتے ہوئے بھاپ کے بڑے پائپوں کے پیچھے سے گزرا۔ تہخانے کے آخر میں ایک بھاری لوہے کے دروازے پر لکھا تھا: "مواصلات اور سرور روم"۔ دروازہ دہرا مقفل تھا، لیکن اس پر لوہے کی زنجیر لٹک رہی تھی۔ زاویار نے لوہے کی تار دوبارہ تالے میں پھنسائی۔ اس کی سانس کی دھیمی آواز تہخانے کی خاموشی میں گونج رہی تھی۔

'کلک!'

دروازہ کھلا تو اندر کا ماحول بالکل الگ تھا۔ یہاں کمپیوٹر سسٹم کی بڑی بڑی نیلی اور سبز بتیاں اندھیرے میں ٹمٹما رہی تھیں، اور مشینوں کے چلنے کی ایک لگاتار گونج ہوا میں تیر رہی تھی۔ زاویار تیزی سے سب سے بڑے سسٹم کے سامنے پہنچا اور اس کے ساتھ لگی اسکرین کو دیکھا۔ وہاں ایک خفیہ ڈیجیٹل نیٹ ورک چل رہا تھا— یہ وہی راستہ تھا جو براہِ راست نشریات کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

اس نے دھیان سے کی بورڈ پر انگلیاں چلائیں۔ اس نے ریکارڈ کھولنے کی کوشش کی تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ اس سسٹم کو باہر سے کون کنٹرول کر رہا ہے۔ اس کے پاس وقت نہیں تھا کہ وہ پورے کوڈ کو حل کر سکے۔ اس نے نہایت خاموشی سے ایک 'یو ایس بی' پورٹ میں ڈالی اور فائلوں کو کاپی کرنا شروع کیا۔

منتقلی کا عمل شروع ہوا۔۔۔ پینتالیس فیصد۔۔۔ ساٹھ فیصد۔۔۔

زاویار کے سینے کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ اس کی نگاہیں اسکرین پر جمی تھیں اور ہر سیکنڈ اس کے دباؤ کو مزید سنگین بنا رہا تھا۔

اچانک، سرور روم کے باہر تہخانے کی خالی راہداری میں بھاری بوٹوں کے چلنے کی آواز گونجی۔

'تھڈ۔۔۔ تھڈ۔۔۔ تھڈ۔۔۔'

زاویار کے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑی۔ 'یو ایس بی' میں ڈیٹا کی منتقلی ابھی پچاسی فیصد پر تھی۔ وہ بھاگ نہیں سکتا تھا، کیونکہ اگر وہ ادھوری فائلیں نکال لیتا تو ڈیٹا خراب ہو جاتا۔ اس نے خود کو ایک بڑے ٹرانسفارمر کے پیچھے چھپا لیا اور اپنی سانسیں روک لیں۔

لوہے کا دروازہ کھلا۔ ایک شخص سرور روم کے اندر داخل ہوا۔ اس نے سفید کلینیکل کوٹ پہنا ہوا تھا اور اس کے ہاتھوں میں سیاہ چمڑے کے دستانے تھے۔ اس کے چلنے کا طریقہ بہت خاموش اور سپاٹ تھا۔ وہ سسٹم کے قریب آیا، اس نے اسکرین کو دیکھا، اور کی بورڈ پر ایک بٹن دبایا۔ زاویار ٹرانسفارمر کے پیچھے سے اس شخص کے بوٹوں اور کوٹ کے کنارے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا چہرہ مشینوں کی روشنیوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کون ہے— ڈاکٹر شہریار یا کوئی اور۔

اس شخص نے اسکرین کو چیک کیا، پھر اپنا فون جیب سے نکالا اور دھیمی آواز میں کہا: "سسٹم بالکل فعال ہے۔ اگلی ڈیلیوری کے لیے تیار رہو۔" اس نے فون واپس رکھا اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔ دروازہ دوبارہ بند ہو گیا۔

زاویار نے تیزی سے باہر نکل کر یو ایس بی نکالی— منتقلی سو فیصد مکمل ہو چکی تھی۔ اس نے اسے اپنی جیب میں چھپایا اور بے آواز قدموں سے راہداری کی طرف بڑھا۔

اسی وقت، وارڈ نمبر تین کی راہداری میں عروج تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ اس کے پیچھے کلرک اور دو گارڈز گھبرائے ہوئے چل رہے تھے۔ "آفیسر عروج، میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ اس طرح اندر نہیں جا سکتیں!" کلرک کی آواز میں لرزش تھی۔

عروج نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کا ہاتھ کوٹ کی جیب میں پستول کے سیفٹی کیچ پر تھا۔ وہ تیزی سے چلتے ہوئے سیل نمبر ایک سو پانچ کے سامنے پہنچی۔ اس نے جھرونکے سے اندر دیکھا۔

کمرہ بالکل خالی تھا۔ بیڈ پر بچھائی گئی چادر اکھڑی ہوئی تھی اور فرش پر سوپ کا پیالہ خالی پڑا تھا۔ "مریض کہاں ہے؟" عروج نے گھوم کر گارڈ کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ٹھنڈی اور سنگین چمک جاگی تھی۔

گارڈ کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "یہ۔۔۔ یہ ناممکن ہے، کل رات یہ اندر ہی تھا۔"

عروج نے سیل کے دروازے کو دھکا دیا۔ اس نے فرش پر جمی ہوئی مٹی اور گیلی کیچڑ پر نئے قدموں کے نشان دیکھے، جو اندھیری راہداری سے ہوتے ہوئے نیچے تہخانے کی سیڑھیوں کی طرف جا رہے تھے۔ اس نے اپنی پستول نکالی اور بغیر سوچے سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ تجسس اور خوف اب اندھیرے تہخانے کی ان راہداریوں میں پھیل چکا تھا جہاں زاویار اور عروج کے راستے آپس میں ٹکرانے والے تھے۔

Comments