Back to Story
← Table of Contents
BIBLI READER

Chapter 7 of 10

عکسِ تباہی

عکسِ تاریک ساتواں باب:

شام کے پانچ بج کر پینتالیس منٹ کا وقت تھا۔

شواہد کے کمرے کی ٹھنڈی سفید روشنیوں کے نیچے مٹی اور سوکھے ہوئے خون کی بو رچی ہوئی تھی۔ عروج نے سرجیکل دستانے پہنے ہوئے تھے۔ اس نے نہایت آہستہ سے اس سفید لفافے سے کاغذ کا وہ باریک اور کھردرا ٹکڑا باہر نکالا جو ڈاک کے کمرے سے لایا گیا تھا۔ کاغذ پر سرخی مائل بھورے رنگ سے دھیان سے لکھا ہوا ایک کوڈ چمک رہا تھا:

"کریسنٹ ہائٹس— براہِ راست نشریات— رات دو بجے— سوپور ڈی"

عروج کی سپاٹ آنکھوں نے اس لکھائی کو غور سے دیکھا۔ یہ باریک اور صفائی سے لکھی ہوئی تحریر تھی۔ اس کا دماغ تیزی سے چلا— یہ لکھائی زاویار کی تھی۔ زاویار نے پاگل خانے کے اندر سے کسی ذریعے یہ پیغام باہر بھیجا تھا۔ لیکن اس کاغذ کے پیچھے کچھ اور بھی تھا۔ عروج نے چمٹی کی مدد سے کاغذ کو الٹا کیا۔ کاغذ کے پچھلے حصے پر، نہایت غور سے دیکھنے پر ناخن سے کھرچ کر ایک باریک سا جملہ لکھا گیا تھا:

"مصنوعی سیارے کی ترسیل اندرونی ہے۔"

عروج کی سانس سینے میں جم گئی۔ اندرونی ترسیل۔۔۔ اس کا مطلب تھا کہ کل رات جو براہِ راست نشریات آرٹ گیلری کے پروجیکٹر پر چل رہی تھیں، ان کا ڈیجیٹل راستہ کسی باہر کے ملک سے نہیں، بلکہ خود ان کے اپنے محکمے کے سرورز سے گزرتا تھا۔ کوئی ایسا شخص جو ہیڈ کوارٹر کے اندر بیٹھا تھا، وہ اس نشریات کا رخ متعین کر رہا تھا۔

عروج نے دھیان سے کاغذ کو شواہد کے تھیلے میں بند کیا۔ اس نے شیشے کی دیوار کے پار دیکھا جہاں انس ابھی بھی اپنی میز پر گھبرایا ہوا کھڑا تھا اور بار بار اپنے رین کوٹ کے بٹنوں کو بند کر رہا اور کھول رہا تھا۔

"انس۔۔۔" عروج نے انٹرکام پر آہستہ سے کہا۔ اس کی آواز ٹھنڈی اور سنگین تھی۔ "بریفنگ روم میں آؤ۔ مجھے کل رات کے دستاویزات چیک کرنے ہیں۔"

بریفنگ روم کا بھاری دروازہ جب خاموشی سے بند ہوا، تو کمرے کے اندر کی سردی مزید سنگین ہو گئی۔ عروج نے دروازے کو اندر سے مقفل کر دیا۔ انس میز کے قریب کھڑا تھا، اس کے ہاتھوں میں فائلیں تھیں، لیکن اس کی کلائی پر جمی ہوئی دھڑکن اور اس کے چہرے پر بہتا ہوا پسینہ اس کی گھبراہٹ کو صاف ظاہر کر رہا تھا۔

عروج نے اپنی بیلٹ سے پستول نکالی اور اسے میز پر بالکل درمیان میں رکھ دیا۔ پستول کے سیاہ لوہے کی چمک پیلی روشنی کے نیچے مزید خوفناک لگ رہی تھی۔

"میز پر بیٹھو، انس،" عروج نے آہستہ سے کہا۔ اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا، جیسے وہ کسی عام ملزم سے بات کر رہی ہو۔ "اور اپنے ہاتھوں کو میز پر سیدھا رکھو۔ ایک ملی میٹر بھی ہاتھ ہلایا، تو میں گولی چلا دوں گی۔"

انس نے تھوک نگلا۔ اس کا جسم سردی سے کانپ رہا تھا، لیکن اس نے دھیان سے اپنے دونوں ہاتھ میز پر رکھ دیے۔ "کل رات کریسنٹ ہائٹس کی براہِ راست نشریات ہمارے محکمے کے اندرونی سرور سے گزر رہی تھیں،" عروج نے میز پر جھکتے ہوئے کہا۔ "اور یہ دستاویزات بتاتے ہیں کہ کل رات تمہارے کمپیوٹر سے اس پتے تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔ تمہارے پاس ماسٹر چابیاں تھیں، اور تم غلط وقت پر غلط جگہ پہنچے۔ مجھے سچ بتاؤ، انس۔۔۔ تم کس کے لیے کام کر رہے ہو؟"

انس کا چہرہ پوری طرح سفید پڑ گیا۔ "میں۔۔۔ میں قاتل نہیں ہوں، عروج! خدا کی قسم، میں یہ سب نہیں کر رہا!" انس نے روتے ہوئے کہا۔

"تو پھر تمہارے کمپیوٹر سے فائلیں کیوں کاپی کی گئیں؟" عروج نے پستول پر اپنا ہاتھ رکھا۔ اس کا دباؤ مزید سنگین ہو گیا۔

انس نے اپنا سر میز پر رکھ دیا۔ اس کے رونے کی دھیمی آواز کمرے کی خاموشی میں گونجی۔ "میں مجبور تھا، عروج۔۔۔" اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔ "میرا بھائی جمیل پچھلے سال الشفاء اسائلم میں داخل ہوا تھا۔ وہ پاگل نہیں تھا، اسے مخصوص دواؤں کے ذریعے وہاں پاگل بنایا گیا۔ جب وہ مرا، تو ڈاکٹر شہریار نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے اس کیس کی فائلیں انہیں نہ دیں، تو وہ میرے پورے خاندان کو اس دلدل میں گھسیٹ لیں گے۔"

عروج نے غور سے سنا۔ اس کا دماغ اب کڑیوں کو جوڑ رہا تھا۔ "ڈاکٹر شہریار؟" اس نے پوچھا۔

"ہاں!" انس نے بتایا۔ "وہ دواؤں کا دھندا کرتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ کل رات وہاں قتل ہونے والا ہے۔ مجھے صرف یہ کہا گیا تھا کہ میں تمہارے مقام پر نظر رکھوں اور انہیں رپورٹ دوں۔ جب مجھے اندازہ ہوا کہ تم کریسنٹ ہائٹس جا رہی ہو، تو میں ڈر گیا۔ مجھے لگا کہ وہ تمہیں مار دیں گے۔ میں تمہیں بچانے کے لیے ماسٹر چابیاں لے کر وہاں آیا تھا! خدا کی قسم، میں نے کسی کو نہیں مارا!"

عروج نے محسوس کیا کہ انس کی آنکھوں میں سچی دہشت تھی۔ وہ ایک بے بس مہرہ تھا جو اپنے خاندان کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اصلی قاتل نہیں تھا— اسے صرف ایک 'شکار' بنایا گیا تھا تاکہ اگر بات کھلے، تو پورا شک اس پر چلا جائے۔ اصلی جفت کوئی اور تھا۔ کوئی ایسا شخص جو انس کی میز تک آسانی سے پہنچ سکتا تھا اور جس نے انس کے کمپیوٹر کا استعمال کر کے نشریات کا رخ پھیرا تھا۔ عروج نے پستول دوبارہ بیلٹ میں رکھی اور انس سے کہا: "تم ابھی اسی کمرے میں بیٹھو گے، انس۔ جب تک میں واپس نہ آؤں، تم یہاں سے نہیں ہلو گے۔"

رات گئے، وارڈ نمبر تین میں زاویار کے سیل سے گرم سوپ کی میٹھی اور تیکھی خوشبو باہر آ رہی تھی۔ ڈاکٹر شہریار کے احکامات پر، گارڈز نے زاویار کے لیے ایک گرم کمبل اور مٹی کے پیالے میں گرم سوپ لایا تھا۔ سوپ سے نکلنے والی بھاپ اندھیرے سیل میں سفید بادل بنا رہی تھی۔

زاویار کمبل لپیٹے کھڑا تھا، لیکن اس کا دھیان سوپ پر جمی ہوئی چکنائی پر تھا۔ اس نے سوپ کے پیالے کو دھیان سے اٹھایا۔ اس نے اسے اپنے ہونٹوں سے نہیں لگایا بلکہ اپنی جیب سے وہ باریک لوہے کی تار نکالی اور اسے سوپ کے اندر ڈالا۔ جب اس نے تار کو باہر نکالا، تو اس کے کنارے پر ایک باریک، سنہری تہہ جم چکی تھی۔ یہ سوپور ڈی کی مخصوص کیمیائی تہہ تھی۔

ڈاکٹر شہریار کی "شفقت" دراصل ایک خوفناک امتحان تھا۔ وہ یہ چیک کر رہے تھے کہ کیا زاویار واقعی ایک پاگل مریض ہے، یا کوئی خفیہ ایجنٹ جو ان کے سوپ کو چیک کرے گا۔ اگر زاویار نے سوپ نہ پیا، تو شک ہو جائے گا۔ اور اگر پی لیا، تو وہ ہمیشہ کے لیے ذہنی طور پر ان کا غلام بن جائے گا۔

زاویار نے دھیان سے سوپ کے پیالے کو پکڑا۔ اس نے فرش کے ایک کونے میں بنے نکاسی کے پائپ کو دیکھا اور نہایت خاموشی سے سوپ اس کے اندر انڈیل دیا— لیکن پیالے کے کناروں پر تھوڑا سا سوپ لگا رہنے دیا، تاکہ یہ لگے کہ اس نے پی لیا ہے۔ اس نے تھوڑا سا سوپ اپنے ہونٹوں پر بھی لگایا اور دوبارہ فرش پر گر گیا۔ گارڈ نے جھرونکے سے ٹارچ ماری، خالی پیالہ دیکھا اور فرش پر لرزتے ہوئے زاویار کو دیکھ کر مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ زاویار نے اندھیرے میں آنکھیں کھولیں۔ اس کا امتحان مزید سنگین ہوتا جا رہا تھا۔

پروفیسر ہاشم کے گھر کے مطالعہ کے کمرے میں پیلی روشنی ابھی بھی میز پر پڑ رہی تھی۔ ہاشم خاموش بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی ٹوٹی ہوئی میوزک باکس کو میز پر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے الماری سے ایک پرانی تصویر نکالی جو ان کی بیٹی کے بچپن کی تھی۔

انہوں نے دھیان سے اس تصویر کے کنارے کو صاف کیا۔ ان کی آنکھوں میں کوئی جذبات نہیں تھے— صرف ایک خاموش اور گہرا خالی پن تھا۔ انہوں نے تصویر کو دوبارہ الماری کے اندھیرے کونے میں رکھ دیا اور کھڑے ہو کر کھڑکی سے باہر دھند میں گھرے شہر کو دیکھنے لگے۔ ان کی دنیا بالکل الگ تھی— وہ اس کیس کی دلدل سے بہت دور، اپنے ہی غم کے زندان میں خاموش کھڑے تھے۔ ان کے دماغ میں دنیا کی کسی دریافت یا کسی کیس کا کوئی وجود نہیں تھا۔

رات کے دس بجے عروج بریفنگ روم سے نکل کر اپنے کیبن میں واپس پہنچی۔ راہداریاں خالی ہو چکی تھیں اور ہیڈ کوارٹر کے اندر سردی کی خاموشی تھی۔ اس نے اپنے کیبن کا دروازہ کھولا، لیکن اس کے قدم فوراً رک گئے۔

اس کی میز پر، دستاویزات کے ڈھیر کے بالکل درمیان میں، ایک دھاتی لفافہ رکھا ہوا تھا۔ عروج نے قریب جا کر دیکھا۔ لفافے کے اندر ایک پرانی، زنگ آلود چابی رکھی ہوئی تھی— یہ بالکل وہی چابی تھی جو پرانی جیبی گھڑیوں کو چابی دینے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اس چابی کے نیچے ایک چھوٹا سا کاغذ کا ٹکڑا دبا ہوا تھا، جس پر روبوٹک انداز میں لکھا تھا:

"انس صرف ایک سایہ تھا، عروج۔ تم نے اسے ڈھونڈ لیا، لیکن اصلی دائرہ ابھی بھی کھلا ہے۔ کل صبح۔۔۔ الشفاء اسائلم میں تمہارا آخری امتحان ہوگا۔ دیکھتے ہیں تم اپنے ساتھی (زاویار) کو زندہ باہر نکال سکتی ہو یا نہیں۔"

عروج کی نظروں کے سامنے دھند پھیلنے لگی۔ قاتل اسے دوبارہ پاگل خانے بلا رہا تھا اور اسے زاویار کی اصلیت کا پتہ چل چکا تھا۔ تجسس اب اندھیری راہداریوں سے نکل کر اس کے سب سے اہم ساتھی کی زندگی پر آ کھڑا ہوا تھا۔

Comments