Chapter 3 of 10
دیواروں کے پیچھ
عکسِ تاریک تیسرا باب
کمرہ چھوٹا تھا اور اس کی دیواروں پر لگا سبز رنگ صدیوں پرانا اور بدنما لگ رہا تھا۔ ایک ننگی پیلی روشنی دیوار سے لٹک رہی تھی جو بار بار دھیمی ہوتی اور پھر اچانک تیز ہو جاتی۔
زاویار ایک پرانی لکڑی کی کرسی پر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے میز پر ایک فائل کھلی پڑی تھی جس میں اس کی نئی شخصیت— "زہیب احمد" کا خاکہ درج تھا۔ ایک ایسا شخص جو سنگین ذہنی دباؤ اور تشدد پسند خیالات کے باعث اس دنیا سے کٹ چکا ہے۔ اس کے برابر میں کھڑے ہینڈلر، انسپکٹر جمیل نے ایک پرانا لوہے کا ڈبہ میز پر رکھا۔
"تمہارا وقت ختم ہو گیا ہے، زاویار،" جمیل نے دھیمی آواز میں کہا۔ اس کی آواز میں کوئی جذبات نہیں تھے، بس ایک سنگین ذمہ داری کا احساس تھا۔
زاویار نے آہستہ سے اپنے ہاتھ اٹھائے۔ اس نے اپنی کلائی سے سنہری لیدر اسٹریپ والی گھڑی اتاری— وہ گھڑی جو اسے اس کے باپ نے دی تھی۔ اس نے اسے میز پر رکھا۔ پھر اس نے اپنی انگلی سے چاندی کی انگوٹھی نکالی اور اسے گھڑی کے برابر رکھ دیا۔ ایک ایک کر کے اس نے اپنے کپڑے اتارے۔ اس کی دھیان سے پریس کی ہوئی شرٹ، بیلٹ اور بوٹ۔۔۔ سب کچھ ایک ڈھیر کی شکل میں فرش پر پڑے تھے۔
جمیل نے ڈبے سے مریضوں والا کھردرا، پیلا سوٹ نکالا۔ ان کپڑوں سے سستے بلیچنگ پاؤڈر اور نم مٹی کی بو آ رہی تھی۔ زاویار نے وہ سوٹ پہن لیا۔ کھردرا کپڑا اس کی جلد پر چبھن پیدا کر رہا تھا۔ اس نے اپنے ننگے پاؤں ٹھنڈے فرش پر جمائے اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ جب اس نے دوبارہ آنکھیں کھولیں، تو ان میں وہ پراسرار ایجنٹ نہیں تھا، بلکہ ایک عجیب خالی پن کی گہرائی تھی— ایک ایسی خاموشی جو صرف ان لوگوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے جو دنیا سے ہار چکے ہوں۔
جمیل نے دھیان سے اس کی گھڑی اور انگوٹھی کو ڈبے میں بند کیا۔ "اگر تمہاری اصلیت کھل گئی زاویار، تو ہم تمہیں باہر نہیں نکال سکیں گے۔ ڈاکٹر شہریار کا اثر و رسوخ بہت اوپر تک ہے۔ تم وہاں صرف ایک پاگل مریض ہو گے، جس کی بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔"
زاویار نے اپنا سر ہلکا سا جھٹکایا۔ اس کے ہونٹ خشک تھے۔ اس نے اپنی آستین کو تھوڑا اوپر کیا اور آہستہ سے کہا: "میں تیار ہوں۔"
عروج کی گاڑی شہر کی دلدل سے نکل کر اب ڈھلوان راستے پر چل رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف خشک اور باریک درخت دھند میں خاموش دیووں کی طرح کھڑے تھے۔ بارش اب ہلکی پھوار میں بدل چکی تھی، لیکن ٹھنڈ اس قدر بڑھ گئی تھی کہ گاڑی کے شیشوں پر بار بار سفید بھاپ جم رہی تھی۔ عروج کو ہر دو منٹ بعد اپنے ہاتھ سے شیشہ صاف کرنا پڑ رہا تھا۔
آہستہ آہستہ دھند کے درمیان سے ایک عظیم الشان پرانی عمارت دکھائی دینے لگی۔ یہ "الشفاء سائیکاٹرک اسائلم اینڈ پریزن" تھا۔ ایک ایسی عمارت جسے نوآبادیاتی دور میں فوجی قلعہ بنایا گیا تھا، اور بعد میں اسے شہر کے سب سے سنگین اور خطرناک قیدیوں کے لیے جیل میں بدل دیا گیا۔ اس کی دیواریں کالی اینٹوں سے بنی تھیں جن پر لگی نوکیلی تاریں دھند میں چمک رہی تھیں۔
عروج نے گاڑی کو عالی شان لوہے کے دروازے کے سامنے روکا۔ سیکیورٹی گارڈز نے بھیگے ہوئے رین کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے گاڑی کی نمبر پلیٹ دیکھی اور پھر ایک گارڈ نے اسے سلیوٹ کیا اور بھاری دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھلنے لگا۔ عروج نے گاڑی اندر داخل کی اور اپنا لمبا سیاہ اونی کوٹ پہن کر باہر نکلی۔ ہوا اس قدر سرد تھی کہ اس کی سانس لیتے ہی سینے میں ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ وہ دھیان سے قدم بہ قدم بڑھتی ہوئی عمارت کے داخلی دروازے کی طرف بڑھی۔
عمارت کے اندر کا ماحول بالکل الگ تھا۔ یہاں سستی فینائل اور ادویات کی تیکھی بو ہوا میں تیر رہی تھی۔ فرش سفید ٹائلوں سے بنا تھا، لیکن ان ٹائلوں پر سدیوں کی رگڑ کے نشانات صاف دیکھے جا سکتے تھے۔ عروج کو ایک راہداری سے گزارا گیا جہاں دیواروں پر سپاٹ پیلی روشنی پڑ رہی تھی۔ آخر میں ایک بھاری لکڑی کے دروازے پر لکھا تھا: "ڈاکٹر شہریار - ہیڈ آف سائیکاٹری"۔
عروج نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسے تھوڑی حیرت ہوئی۔ کمرہ انتہائی صاف ستھرا اور ترتیب سے سجا ہوا تھا۔ دیواروں پر لگے شیلف میں نفسیات کی کتابیں نہایت دھیان سے جمی ہوئی تھیں۔ میز پر ایک قیمتی لیپ ٹاپ اور سفید کاغذات کا ایک ڈھیر رکھا تھا جہاں ایک ملی میٹر کا بھی فرق نہیں تھا— یہ بالکل وہی ڈھنگ تھا جو عروج خود اپنی میز پر برقرار رکھتی تھی۔
ڈاکٹر شہریار اپنی کرسی سے اٹھے۔ وہ ایک لمبے، سنجیدہ اور خوش شکل شخص تھے، جن کی عمر تقریباً 50 سال کے قریب ہوگی۔ انہوں نے سفید کلینیکل کوٹ پہنا ہوا تھا اور آنکھوں پر سنہری فریم کی عینک تھی۔
"آئیے، آفیسر عروج،" ڈاکٹر شہریار نے نہایت نرم اور دھیمی آواز میں کہا۔ ان کا ہاتھ گرم اور ٹھوس تھا، لیکن ان کی نگاہیں عروج کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ اس کے دماغ کے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ عروج نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنے کوٹ کے بٹن بند ہی رکھے۔
"مجھے ہیڈ کوارٹر سے کال آئی تھی،" ڈاکٹر شہریار نے اپنی انگلیوں کو آپس میں جوڑتے ہوئے کہا۔ "میں واضح کر دوں، سرمد سے ملنا دماغ سے کھیلنے جیسا ہے۔ وہ پچھلے دس سال سے اس کمرے سے باہر نہیں گیا، لیکن اس کا دماغ ابھی بھی اتنا ہی چالاک ہے جتنا پہلے تھا۔"
عروج نے اپنی پاکٹ سے ایک فائل نکالی۔ "ہمیں کل رات ایک نیا قتل ملا ہے، ڈاکٹر۔ طرزِ قتل بالکل سرمد جیسا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ باہر کوئی اس کا شاگرد ہے، یا پھر۔۔۔"
"یا پھر سرمد اندر بیٹھ کر یہ سب کروا رہا ہے؟" ڈاکٹر شہریار نے عروج کی بات کاٹی۔ ان کے ہونٹوں پر ایک سپاٹ مسکراہٹ جاگی۔ "یہ ناممکن ہے۔ اس کے کمرے پر ہر وقت دو گارڈز ہوتے ہیں۔ اسے کوئی کاغذ یا قلم لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے پاس جو بھی جاتا ہے، اس کی پوری تلاشی لی جاتی ہے۔"
"ہمیں پھر بھی اس سے بات کرنی ہوگی۔ مجھے اس کی اجازت چاہیے،" عروج نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔
ڈاکٹر شہریار نے عینک اتاری اور اسے صاف کرنے لگے۔ "میں آپ کو نہیں روک سکتا۔ لیکن یاد رکھیے گا۔۔۔ وہ آپ کی آنکھوں سے، آپ کے بولنے کے ڈھنگ سے آپ کی کمزوری ڈھونڈ لے گا۔ اس سے بات کرتے وقت اپنے جذبات کو دیوار کے پیچھے رکھیے گا۔"
انہوں نے انٹرکام اٹھایا اور دھیمی آواز میں کہا: "گارڈ۔۔۔ آفیسر عروج کو وارڈ 4، سیل 103 میں لے جائیں۔"
اسی وقت عمارت کے پچھلے دروازے پر ایک بڑی سفید ایمبولینس آ کر رکی۔ جب دروازہ کھلا تو دو وارڈنز نے ایک شخص کو زبردستی باہر کھینچا۔ یہ زاویار تھا— یا اب "زہیب احمد"۔ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور اس کا پیلا سوٹ بارش سے بھیگ رہا تھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ اپنے سر کو عجیب ڈھنگ سے ہلا رہا تھا جیسے دماغ میں کوئی آوازیں گونج رہی ہوں۔
"چل! سیدھا کھڑا ہو!" ایک وارڈن نے اسے پیٹھ پر زور سے دھکا دیا۔ زاویار فرش پر گرا۔ ٹھنڈا کیچڑ اس کے چہرے پر لگا، لیکن اس نے کوئی غصہ ظاہر نہیں کیا۔ اس نے آہستہ سے سر اٹھایا، آنکھوں میں ایک عجیب بے حس خاموشی تھی اور پھر وہ ہنسنے لگا— ایک ایسی ہنسی جو ذہنی مریضوں کی پہچان ہوتی ہے۔
"وہ۔۔۔ وہ دیواروں میں بول رہے ہیں، انہیں کہو خاموش ہو جائیں،" زاویار نے ہکلاتے ہوئے کہا۔ وارڈنز نے اسے گھسیٹتے ہوئے اندر لے جانا شروع کیا۔ اسے ایک اندھیری اور گیلی راہداری سے گزارا گیا جہاں دیواروں پر ناخن رگڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اسے ایک چھوٹی کوٹھڑی میں لا کر پٹخ دیا گیا اور لوہے کا بھاری دروازہ ایک دھماکے کے ساتھ بند ہو گیا۔ زاویار اندھیرے میں فرش پر پڑا رہا۔ اس کے انگلیاں سردی سے نیلی ہو رہی تھیں، لیکن اس کا دماغ بالکل صاف تھا۔ اس نے اپنا سر دیوار سے ٹکایا اور سننے کی کوشش کی۔ دیوار کے دوسری طرف سے قدموں کی چاپ آ رہی تھی— یہ وارڈ 4 کا راستہ تھا جہاں سرمد قید تھا۔
عروج گارڈ کے پیچھے چل رہی تھی۔ ہر قدم کے ساتھ روشنی مدھم اور سیم زدہ دیواروں کی بو بڑھ رہی تھی۔ یہاں فرش پر ٹائلیں نہیں بلکہ پرانا سیمنٹ تھا جہاں پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب بنے ہوئے تھے۔ ایک سیل کے چھوٹے سے سوراخ سے ایک خشک ہاتھ باہر نکلا اور عروج کا کوٹ پکڑنے کی کوشش کی، مگر گارڈ نے فوراً اسے پیچھے دھکیل دیا۔ عروج کا دل تیز دھڑک رہا تھا لیکن چہرہ سپاٹ رہا۔
وہ راہداری کے آخر میں پہنچے جہاں ایک بھاری ڈبل ڈور دروازہ تھا۔ اس پر سفید پینٹ سے لکھا تھا: "وارڈ 4 - میکسیمم سیکیورٹی"۔ گارڈ نے چابیوں کا گچھا نکالا اور تالا کھولا۔ اندر کا ماحول بالکل خاموش تھا— ایک ایسی خاموشی جو قبرستانوں میں ہوتی ہے۔ یہاں کی ہوا اتنی ٹھنڈی تھی کہ عروج کی ہر سانس کے ساتھ سفید بھاپ نکل رہی تھی۔
"سیل 103،" گارڈ نے اشارہ کیا۔ "آپ کے پاس دس منٹ ہیں۔ میں باہر ہی کھڑا ہوں۔"
عروج آہستہ سے چلتی ہوئی سیل 103 کے سامنے پہنچی۔ دروازہ لوہے کی سلاخوں کے بجائے موٹے بلٹ پروف شیشے سے بنا تھا، جس کے درمیان میں بات کرنے کے لیے ایک باریک جالی لگی تھی۔ شیشے کے دوسری طرف ایک چھوٹا سا بالکل سفید کمرہ تھا، جہاں صرف ایک لوہے کا بیڈ تھا۔ بیڈ پر ایک شخص بیٹھا تھا۔
اس کی عمر تقریباً 40 سال تھی۔ اس کے بال سلیقے سے بنے ہوئے تھے اور اس کا سفید قیدی لباس بالکل صاف ستھرا تھا— اس پر مٹی کا ایک دھبہ بھی نہیں تھا۔ اس کا چہرہ کلین شیو تھا اور نگاہیں فرش پر جمی تھیں۔ وہ بالکل پرسکون تھا جیسے کسی گہری عبادت میں بیٹھا ہو۔
عروج کے بوٹوں کی آواز سن کر اس نے آہستہ سے اپنا سر اٹھایا۔ سرمد کی آنکھیں بالکل کالی تھیں— ان میں کوئی حرکت نہیں تھی، وہ مردہ آنکھوں کی طرح ٹھنڈی اور ساکت تھیں۔ وہ آہستہ سے اپنی کرسی سے اٹھا اور شیشے کے قریب آیا۔ اس کے چلنے کا انداز اتنا خاموش تھا کہ فرش پر کوئی آہٹ تک نہ ہوئی۔ وہ شیشے کے بالکل سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ عروج اور اس کے درمیان صرف ایک انچ کا فاصلہ تھا۔
اس نے جالی کے قریب اپنا منہ کیا اور نہایت دھیمی، نرم اور مدھم آواز میں کہا: "عروج۔۔۔ تم نے آنے میں بہت دیر کر دی۔"
عروج کی سانس ایک لمحے کے لیے رک گئی۔ اس نے سرمد کو کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا، تو پھر وہ اس کا نام کیسے جانتا تھا؟ سرمد نے شیشے پر اپنا ہاتھ رکھا اور اس کے ہونٹوں پر وہی سپاٹ مسکراہٹ جاگی جو کل رات والی لاش کے چہرے پر جمی تھی۔
"میں جانتا تھا کہ تم ہی آؤ گی،" سرمد نے سرگوشی کی۔ "کیونکہ سائے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔۔۔"